1450 میگاواٹ کے غازی بروتھا ڈیم کےشیئر فروخت کرنے پر جنید اکبر کاشدید ردعمل

News_Icon

Chief Minister (5k+ posts)
https://twitter.com/x/status/1802046011357179921
1450 میگاواٹ کے غازی بروتھا ڈیم کے 30 فیصد شیئر کویت کو 80 یا 90 کروڑ ڈالر کے عوض فروخت کئے جا رہے ہیں ۔ غازی بروتھا ڈیم سے سالانہ 6 ارب یونٹ سے زائد بجلی پیدا کی جاتی ہے جس کی فی یونٹ لاگت صرف 1.25 روپے آتی ھے ۔ باوثوق زرائع سے علم ہوا ہے کہ نیپرا کو درخواست دائر کی گئی ہے کہ غازی بروتھا ڈیم سے بجلی پیدا ہونے کی لاگت بڑھا کر 10 روپے فی یونٹ کر دی جائے تاکہ کویت کو منافع دیا جائے ۔

اندازہ کریں کہ غازی بروتھا کے 6 ارب یونٹ کی لاگت اس وقت ساڑھے سات ارب روپے سالانہ آتی ہے جو کویت کی سرمایہ کاری کی وجہ سے بڑھ کر 60 ارب روپے سالانہ ہو جائے گی۔ اس طرح کویت سے 90 کروڑ ڈالر یعنی 250 ارب روپے کی سرمایہ کاری لینے کے عوض قوم پر سالانہ 52.5 ارب روپے کا فاضل بوجھ پڑے گا جبکہ کویت کو سالانہ 55 ارب روپے سے زیادہ کا منافع دینا پڑے گا ۔ دوسرے لفظوں میں ہم صرف 5 سال میں کویت کو اس کی سرمایہ کاری سے زائد منافع دینے کے بعد بھی اس کی سرمایہ کاری کے بوجھ تلے دبے رہیں گے۔

اس طرح کی بیرونی سرمایہ کاری دوسرے لفظوں میں آئی پی پیز کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جس کی وجہ سے قوم کو مہنگی بجلی مل رہی ہے ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ملکی سرمایہ کاروں کو آبی اور قومی ترقیاتی منصوبوں میں ایمنسٹی دے کر سکوک بانڈز یا شیئر فروخت کیے جائیں تو سرمایہ پاکستان میں ہی رہے گا بلکہ مہنگی بجلی سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ وہی IPPs ایگریمنٹ کا نتیجہ ہے جسے واپڈا کی ایک نام نہاد یونین نے دستخط کئے ہئں اور خمیازہ واپڈا کا ملازم اور پاکستانی عوام بھگت رہی ہے۔ انا لله وانا اليه راجعون.