یہ ہے وہ میں

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)



TZ.jpg



یہ ہے وہ ”میں


طیبہ ضیاء

میرے والدین ہمیشہ ایک جملہ کہاکرتے تھے، یہ جو ”میں“ ہے، بندے کو تباہ کر دیتی ہے۔ جب تک بندے میں یہ ”میں “ ہے، خدا کا بندہ نہیں بن سکتا۔۔۔ ہمارے اندر یہ جو ”میں“ہے،اس کا خون کرنا آسان نہیں اور نہ ہی یہ مکمل طور پر مر سکتی ہے البتہ اس کی تشخیص اور اس کے علاج کی تدبیر بندے کو بندہ خدا بنا سکتی ہے۔ دنیا دار کی”میں“ سے پریشانی نہیں ہوتی البتہ مبلغ اسلام کی ”میں“ سے خوف آتا ہے جبکہ شہرت یافتہ مبلغ دین کی ”میں“ کے کئی روپ ہوتے ہیں ۔ شہرت بندے کی مت مار دیتی ہے اور بندہ بکری کی طرح ”میں .... میں“ کرتا پھرتا ہے۔ ”میں“ کے بہت سے روپ ہیں مگر سب سے خطرناک روپ عجز میں مخفی کِبر ہے۔ ”میں“ نے اتنے عمرے کئے۔۔۔ ”میں “ نے اتنے حج کئے۔۔۔ ”میں“ اتنی بار بیت اللہ شریف کے اندر گیا۔۔۔”میں“ تو روضہ رسول ﷺ کے اندر بھی جا چکا ہوں ۔۔۔ ”میں“ ایک عاجز و مسکین بندہ ہوں البتہ نعت خوانی کے اگر دس بیس لاکھ روپیہ اجرت لے لیتا ہوں تو یہ میرا حق ہے وگرنہ ”میں“ اس لائق کہاں کہ آقا کے حضور ہدیہ نعت پیش کرنے کی جسارت کر سکوں۔۔۔ زرق برق مبلوسات، میچنگ پگڑیاں اوربیش بہا گھڑیاں پہن کا سادگی کے موضوع پر بات کرتے ہیں۔ لاکھوں روپے معاوضہ میں چند نعتیں اور ایک وعظ سناکر غریب کی بات کرتے ہیں۔ قول و فعل میں تضاد والے بھی نبی کریمﷺ سے عشق اور خوف خدا کی بات کرتے ہیں۔مذہبی خدمات کے طے شدہ معاوضہ کے علاوہ اوپر کی کمائی تحائف اور نوازشات کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ بیرون ملک میں شاپنگ بھی ان کے عقیدت مند کراتے ہیں۔ دور جدید کے یہ نیم برانڈ درویش اگر ایکسپوز ہوجائیں تو ایسے لچھے دار خطاب فرماتے ہیں کہ چشم دید گواہ بھی اپنا سر پکڑ کر رہ جاتا ہے۔ یہ جو ”میں“ ہے،لاکھ پردوں میں بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ ہر بندے نے اس دنیا سے ایکسپوز ہو کر جانا ہے۔ ایک شخص خواہ تمام زندگی تہذیب اور شرافت کا لبادہ اوڑھے رکھے، اس کے اندر کی ”میں“ ایک روز اسے ذلیل کراکے چھوڑتی ہے۔ پاکستان اوردیگر اسلامی ممالک کے لا تعداد حکمرانوں، وزیروں مشیروں اور مذہبی سکالروں کو بیت اللہ شریف اور روضہ رسولﷺ کے اندر کی زیارت کا شرف حاصل ہو چکا ہے جبکہ ایک عام شہری اس نعمت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ایک غریب شہری تو اللہ کے گھر جانے کا بھی تصور نہیں کر سکتا۔

بیت اللہ اور نبی کریمﷺ کے روضہ اقدس کے اندر کی زیارت کرنے والوں کی اکثریت سعودی سرکار کی مہمان ہوتی ہے۔ حکمرانوں کے پروٹوکول کے لئے تو روضہ رسولﷺ پر زائرین کو بھی مسجد سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ سعودی فقہ کے مطابق عورت کا روضہ رسولﷺ کے قریب جانا ممنوع ہے مگر سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ روضہ رسولﷺ کی زیارت کرائی گئی۔ بیت اللہ شریف اور روضہ رسولﷺ کے لحد مبارک تک پہنچنے کی سعادت صرف بادشاہوں، شہزادوں، سرکاری عہدیداروں، شہرت یافتہ علماءاور نعمت خوانوں کو ہی نصیب کیوں ہوتی ہے؟ ایک عام شہری بھی امت محمدﷺ میں شامل نہیں؟ ایک عا م شہری جو اپنی خالص کمائی سے حج اورعمرہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا، بیت اللہ شریف اور روضہ رسولﷺ کے اندر کی زیارت کا سو چ بھی نہیں سکتا۔ یہ نامور لوگوں کے مراتب و منازل ہیں۔ اس مقام کو پانے کے لئے سرکاری یا سماجی حیثیت ہونی ضروری ہے۔ جنرل پرویز مشرف چھ بار بیت اللہ شریف کے اندر جا چکا ہے۔ان کا تو کہنا ہے کہ وہ حرم شریف مکہ مکرمہ کی چھت پر بھی چڑھ چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار نام ایسے ہیں جو رسول اللہﷺ کی لحد مبارک کی زیارت کر چکے ہیں۔ خواب میں زیارت نبویﷺ یا حقیقت میں مقدس مقامات کی زیارت مبارک ہے تو امتحان بھی ہے۔

خدا کے حضور نعمت کے مطابق باز پُرس ہو گی۔ بیت اللہ شریف یا روضہ رسولﷺ کے اندر کی حاضری بخشش یا نجات کی ضمانت نہیں۔زیارت با سعادت کو بطور ”شو آف“ یا اپنی نیکی کی دلیل کے طور پر استعمال کرنا،کمزوری کی دلیل ہے جبکہ ایسے لوگوں سے مخلوق کی توقعات بھی زیادہ وابستہ ہو جاتی ہیں۔ میڈیا پر آ کر گناہوں اور غلطیوں کا اقرار اچھا فعل ہے مگر خود کو اچھا ثابت کرنے کے لئے بیت اللہ شریف اور روضہ رسولﷺ کے اندر کی حاضری کو بطور گواہی پیش کرنا،کم عقلی ہے۔ سیاستدان میڈیا اور عوام کے ہاتھوں شب و روز ذلیل ہوتے ہیں، وہ اگر بیت اللہ شریف اور روضہ رسول ﷺ کے اندر بھی چلے جائیں تو کوئی ان کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں مگر کوئی مذہبی ”نیم برانڈ“ایسی بات کرتا ہے تو لوگ اس پر فوری اعتبار کر لیتے ہیں البتہ جب قول و فعل میں تضاد دیکھتے ہیں تو کسی صورت معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ انسان خطا کاپُتلا ہے،کمزور ہے ،اس کے مرض کا علاج فقط تزکیہ نفس ہے ۔میڈیا پر جلوہ افروز ہو کر خود کو پارسا ثابت کرنے کے لئے لچھے دار تقاریر کرنا اور روضہ رسول ﷺ کے اندر حاضری کو بطور دلیل پیش کرنا ، کمزوری کی علامت ہے۔ ایک عورت کو بیت اللہ شریف یا روضہ رسول ﷺ کے اندر کی زیارت تودرکنار مقدس جالیوں کے قریب جانے کی بھی اجازت نہیں ،تو کیا سمجھا جائے کہ عورت کا روحانی مقام مرد سے کم ہے ۔زیارات خواہ حالت بیداری میں ہوں یا نیند کی حالت میں، دوسروں کو مرعوب کرنے کے لئے ان کا ذکر کیا جائے یا اپنی پارسائی کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا جائے، کمزوری کی دلیل ہے۔یہ ہے وہ ”میں“ جو بندے کو بندہ خدا بننے نہیں دیتی۔



http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Columns/11-Jul-2012/28848
 
Last edited:

sarbakaf

Siasat.pk - Blogger
Aamir liaqat.........
Zuban e khalaq.........nakara e khudda.....

see what people say about u ...and probably its a devine hint for you.

lastly can aamir liaqat tell how many times he has visited harmain sharifain from his own legit halal money and how many times from
MQMs HALAL money or money of govt of pakistan ( i.e money of poor pakistanis ?
 
Sponsored Link