یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی ، آٹا اور چاول مارکیٹ کے مقابلے میں مہنگے فروخت

4uutiisjmmhgagaiisslsk.png

ملک بھر میں مہنگائی کا نہ تھمنے والا طوفان جاری ہے, یوٹیلیٹی اسٹور بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگئے,سبسڈی کے باوجود یوٹیلیٹی اسٹورز پر کئی اشیاء مارکیٹ کے مقابلے میں مہنگی فروخت ہونے لگیں, دستاویز کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا عام مارکیٹ کی نسبت 48.21 روپے مہنگا فروخت ہو رہا ہے ، یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 کلو کا تھیلا 2840 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 2792 روپے میں دستیاب ہے۔

سیلا چاول کی قیمت عام مارکیٹ کی نسبت یوٹیلیٹی اسٹورز پر 53.40 روپے زیادہ ہے ، مارکیٹ میں چاول 317 روپے جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر قیمت 370 روپے ہے, سفید چناعام مارکیٹ کی نسبت یوٹیلیٹی اسٹورز پر 13.53 روپے مہنگا فروخت ہو رہا ہے ، مارکیٹ میں فی کلو سفید چنا 391 اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر 405 روپے جبکہ چینی 9 روپے مہنگی بیچی جا رہی ہے ، مارکیٹ کے 146 کے مقابلے میں یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی 155 روپے میں فروخت ہونے لگی ہے۔


ملک میں فروری کے تین ہفتے مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی کے رجحان کے بعد حالیہ ہفتے پھر مہنگائی کی شرح میں معمولی اضافہ ہوا، مہنگائی کی شرح میں 0.04 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے مں آیا,سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 30.68 فیصد کی سطع پر آگئی ہے تاہم ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر 22ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا طبقہ متاثر ہوا۔ اس طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 35.39 فی صد رہی۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 23 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں,اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر، چینی، دالیں اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں جن میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 22.71فیصد، ڈیزل کی قیمتوں میں3.02فیصد، پیٹرول کی قیمتوں میں ایک فیصد، چکن کی قیمتوں میں 1.22 فیصد، چینی اور دال مونگ کی قیمتوں میں 0.54فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.74 فیصد، مٹن کی قیمتوں میں 0.86 فیصد اور دہی کی قیمتوں میں 0.71 فیصد جبکہ آگ جلانے والی لکڑی کی قیمتوں میں 0.20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انڈے کی قیمتوں میں 11.19 فیصد، آلو قیمتوں میں 0.23فیصد، پیاز کی قیمتوں میں 14.42 فیصد، ککنگ آئل کی قیمتوں میں 0.75 فیصد، آٹے کی قیمتوں میں 0.36 فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 1.82 فیصد، ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں 0.11 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.33 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔02

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 25.33فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 29.15فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 35.39فیصد رہی, 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 32.72 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 28.228 فیصد رہی ہے۔.
 

ranaji

President (40k+ posts)
پہلے منافع صرف حکومت کھاتی تھی اب ریاست بھی حصہ دار ہے اس لئے
Chill bro chill