یونان دیوالیہ پن سے بچ گیا

Uncle Q

Minister (2k+ posts)
یونان دیوالیہ پن سے بچ گیا، یورپی رہنماؤں کی تاریخی ڈیل

0,,18580070_303,00.jpg



خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ یورپی رہنماؤں کے مابین یونان کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی ایک نئی ڈیل پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے آج بروز پیر تیرہ جولائی کو بتایا ہے کہ یورو زون کے ممالک سترہ گھنٹوں کے طویل مذاکرات کے بعد ایتھنز حکومت کے لیے مالیاتی ڈیل کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سن 2010ء کے بعد یونان کے لیے یہ تیسری مالیاتی ڈیل ہے۔





یونان کے لیے مالیاتی پیکج پر سخت جرمن مؤقف کے جواب میں کئی یورپی لیڈران کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے۔ فرانس، اٹلی اور لکسمبرگ نے مالیاتی ڈیل کے حوالے سے جرمن خیال پر تنقید کی ہے۔ (12.07.2015)



یونان کا مستقبل، فیصلہ کُن یورپی سربراہی اجلاس اتوار کو





ڈونلڈ ٹسک نے کہا، یورو زون کی سمٹ کے دوران متقفہ طور پر اس ڈیل کو منظور کیا گیا ہے۔ تمام رکن ممالک یونان کی طرف سے سخت مالیاتی اصلاحات کے عوض اس کے لیے ESM پروگرام کے حق میں ہیں۔ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاؤد یُنکر نے اس ڈیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یونان یورو زون میں ہی رہے گا۔ یورپی یونین کی طرف سے اس اعلان کے فوری بعد ہی یورپی مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

اس مالیاتی ڈیل پر اتفاق رائے تو ہو گیا ہے لیکن جرمنی کی سرپرستی میں بین الاقوامی قرض دہندگان نے سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ یوں ماہرین کے مطابق اس مخصوص صورتحال میں یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس کی بائیں بازو کی حکومت ختم ہو سکتی ہے، جو یونان میں ایک غم و غصے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس ڈیل کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں لیکن ابتدائی معلومات کے مطابق یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ یونانی وزیراعظم نے بآلاخر یونین کی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ایتھنز حکومت نے جرمنی اور دیگر مالیاتی پارٹنرز کی ایسے شرائط بھی تسلیم کر لی ہیں کہ یونان کے سرکاری اثاثوں کو عارضی طور پر گروی رکھ دیا جائے۔ سپراس نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اس شرط پر بھی مزاحمت ختم کر دی کہ ایتھنز کے لیے 86 بلین یورو (95.78 بلین ڈالر) کے مجوزہ مالیاتی پیکج میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کا مکمل کردار نہیں ہونا چاہیے۔ میرکل کے بقول برلن میں پارلیمنٹ سے اس ڈیل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یوں کرنا ناگزیر ہے۔


یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک

مبصرین کے بقول اب یہ دیکھنا ہے کہ وزیراعظم سپراس اپنی سیاسی پارٹی کو اس ڈیل کے لیے کس طرح اعتماد میں لیتے ہیں۔ سپراس کے اپنے ہی ساتھی سیاستدانوں نے اس ڈیل کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ رواں برس ہی یونان میں نئے انتخابات کے راہ کھول دے گا۔دریں اثناء جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس ڈٰیل کو حتمی شکل دینے سے فوری بحران تو ٹل گیا ہے لیکن یونان کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لیے طویل وقت درکار ہو گا۔

http://www.dw.com/ur/یونان-دیوالیہ-پن-سے-بچ-گیا-یورپی-رہنماؤں-کی-تاریخی-ڈیل/a-18580555
 

such bolo

Chief Minister (5k+ posts)
ایتھنز/یونان کی میٹرو یونان کی ترقی کا باعث نا بن سکی
قرضے ملک کو لے ڈوبے

ن والوں ہوش کے ناخن لو
قرضوں سے ملک نہیں چلا کرتے
یہ حال ہوتا ہے

یہ تو یونان تھا...بیل آوٹ پیکیج بھی مل گیا یورپی یونین سے
الله نے کرے ہماری تو نسلیں بھی گروی رکھ لینگے گورے قرضوں کے بدلے



athens-metro.jpg
athens-agios-dimitrios-station.jpg

mapathensmetro.jpg
 
Last edited:

liuali

MPA (400+ posts)
Bro dont worry pakistan overseas remittanes par chal raha hai... In ganjo ko bhi pata hai is liye mastia kar rahey hai..
ایتھنز/یونان کی میٹرو یونان کی ترقی کا باعث نا بن سکی
قرضے ملک کو لے ڈوبے

ن والوں ہوش کے ناخن لو
قرضوں سے ملک نہیں چلا کرتے
یہ حال ہوتا ہے

یہ تو یونان تھا...بیل آوٹ پیکیج بھی مل گیا یورپی یونین سے
الله نے کرے ہماری تو نسلیں بھی گروی رکھ لینگے گورے قرضوں کے بدلے



athens-metro.jpg
athens-agios-dimitrios-station.jpg

mapathensmetro.jpg
 
Sponsored Link