یااللہ یا رسول خان صاحب بے قصور

Lord Botta

Minister (2k+ posts)
انگریزی کا محاورہ ہے " بارکنگ اپ دی رانگ ٹری "۔یعنی غلط درخت پر بھونکنا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ کتا کسی شکار کا تعاقب کرتا ہے اور شکار تیزی سے ایک درخت پر چڑھ کر دوسرے پر چھلانگ مارتے ہوئے یہ جا وہ جا۔ مگر کتا پہلے درخت کے نیچے ہی کھڑا بھونکتا رہتا ہے ۔بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ شکار تو کب کا کہیں سے کہیں نکل لیا اور درخت بے قصور ہے۔
اب ذرا غور فرمائیے کہ ہم سب روزانہ کتنی بار یہ حرکت بذاتِ خود فرماتے ہیں۔ پھل یا سبزی مہنگے ملیں تو گالیاں ٹھیلے والے کو پڑتی ہیں حالانکہ وہ غریب تو خود اپنا سامان منڈی کے کسی ذخیرہ اندوز آڑھتی سے مہنگے داموں خرید کر لایا ہے اور اپنا منافع رکھ کے آپ کو فروخت کر رہا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے لیٹر کا اضافہ ہو جائے تو موٹر سائیکل سوار پٹرول پمپ والے لڑکے پر غصہ نکالتا ہے۔ جب کہ اضافہ تو اوگرا کی سفارش پر حکومت کرتی ہے۔اس غریب لڑکے کا اس پورے معاملے سے نہ لینا ایک نہ دینا دو۔


میں نے تو کئی معصوم صارفین کو بجلی اور گیس کے بل میں اضافے کی شکایت بھی اس مسکین بینک کیشئر سے کرتے دیکھا ہے جس کا کام بس اتنا ہے کہ آپ سے بل لے کر پیسے گنے اور جمع کر کے مہر لگا کے بل واپس کر دے۔
بینکوں نے کریڈٹ کارڈ کی شکایات کے لیے کال سنٹرز کے مخصوص نمبر دے رکھے ہیں۔ میں نے کئی پڑھے لکھے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کو ان نمبروں پر فون کر کے کال اٹینڈ کرنے والے آپریٹرز کو گالیاں دیتے سنا ہے ۔گویا کریڈٹ کارڈ سٹیٹمنٹ میں غلطی کے ذمہ دار دراصل یہی دیہاڑی دار آپریٹرز ہیں۔حالانکہ ان کا کام تو بس آپ کی بات یا شکایت سن کر کارروائی کے لیے آگے بڑھانا ہے۔آگے بینک جانے اور آپ ۔
تصویر کے کاپی رائٹ
عید کے موقع پر من مانے کرائے ٹرانسپورٹ کمپنی کے سیٹھ کی تجوری میں جا رہے ہیں مگر مشتعل مسافروں کے ہاتھ بس ڈرائیور اور کلینر کے گریبان پر ہیں۔ ہر بازار میں مفت پارکنگ کی جگہوں پر بھی پیسے بدمعاشیہ وصول کر رہی ہے مگر گاڑی والے پارکنگ کی پرچی تھمانے والے اس لمڈے کی ماں بہن ایک کر رہے کہ جو خود دو ڈھائی سو روپے کی دہاڑی پر یہ گالیاں سننے پر مجبور ہے۔اس بچارے کو تو اصلی بدمعاش کا نام تک نہیں معلوم ۔
اور یہی سب حرکتیں کرنے والے ہم اور آپ اب پی ٹی آئی حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان بچاروں کا بس اتنا قصور ہے کہ انہیں بچپن سے حکومت سنبھالنے کا شوق تھا۔ بادشاہ گروں نے ان کا شوق پورا کر دیا اور ظالم مجمع کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔
بالکل ایسے ہی جیسے چھوٹا بچہ جب گاڑی چلانے کی مسلسل ضد کرتا ہے تو بڑا بھائی یا باپ اسے گود میں بٹھا لیتا ہے اور بچہ سٹیرنگ گھماتے ہوئے سمجھتا ہے کہ وہی ڈرائیو کر رہا ہے۔
اب کہیں آٹھ نو ماہ بعد احساس ہو رہا ہے کہ یہ حکومت نہیں چا کری ہے اور کام بس اتنا ہے کہ روزانہ داتا صاحب جانا ہے ، لنگر سے خود بھی پیٹ بھرنا ہے اور شاپر ڈبل کروا کے مالک کے لئے بھی کھانا لانا ہے۔
ممکن ہے میں مبالغہ کر رہا ہوں اور صورتِ حال ایسی نہ ہو۔چلئے اس کو یوں سمجھ لیتے ہیں کہ گورنمنٹ لمیٹڈ کمپنی میں پی ٹی آئی کو اکیاون فیصد شئیرز دئیے گئے اور انچاس فیصد دیگر اداروں نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔خان صاحب کو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیرمین بنا دیا گیا۔
مگر سٹاک کے حالات بہتر ہونے کے بجائے کچھ اتنی تیزی سے بگڑے کہ پی ٹی آئی کو اپنے تیس فیصد حصص دیگر شئیرز ہولڈرز کو فروخت کرنے پڑ گئے تاکہ کمپنی دیوالیہ نہ ہو جائے۔اب پی ٹی آئی کے پاس اکیس فیصد اور دیگر کے پاس اناسی فیصد شئیرز آ گئے ہیں۔پالیسی اکثریتی شیئر ہولڈرز کی چل رہی ہے مگر خان صاحب بدستور اعزازی چیرمین ہیں ۔تاکہ جس کو جو بھی اچھا برا کہنا ہے وہ ان کی تصویر سے کہہ لے اور توجہ پسِ تصویر نہ جائے۔
بہت عرصے پہلے اخبارات میں خبریں آتی تھیں کہ سادہ لوح افراد کو ریکروٹنگ ایجنٹ نے دوبئی کا جھانسہ دیا اور دو دن کے سفر کے بعد لانچ کو گوادر کے قریب ویرانے میں لنگر انداز کر کے مسافروں سے کہا لو بھئی ، تمہارے پیسے پورے ۔دوبئی آ گیا۔
مجھے لگتا ہے موجودہ حکومت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہاتھ ہوا ہے۔اسے کچھ کہنا بارکنگ اپ دی رانگ ٹری ہے۔

https://www.bbc.com/urdu/48490407
 
Last edited by a moderator:

imisa2

Senator (1k+ posts)
اگر پارلیمنٹ کے ذریعے حکومت میں تبدیلی نہ لائی گئی تو گالی اسٹیبلشمنٹ ہی کو پڑے گی۔ ابھی تو اکا دکا لوگ ہیں۔ آہستہ آہستہ بڑھتے جائیں گے۔ وجہ صاف ہے: کار سرکار ٹھپ ہے، پالیسی سازی مفقود اور کچھ سیکھنے کی خواہش بھی نہیں ہے۔بدترین صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے نالائق ترین وزرا اور کارندوں سے اب ویسا ہی نیپوٹزم برآمد ہو رہا ہے جس کا الزام کبھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو دیا جاتا تھا۔ شاید ان نالائقوں کا خیال ہے کہ اب پھر تو اقتدار میں آنا ممکن نہیں سو جتنی جھولی بھر لی جائے اتنا بہتر ہے۔
 

insouciant

Minister (2k+ posts)
OK! But Kaan khol k Sun Lo Sab!!! KOI NRO NAI MILEGA!!! ? ? ? ? ? ? ?

اگر پارلیمنٹ کے ذریعے حکومت میں تبدیلی نہ لائی گئی تو گالی اسٹیبلشمنٹ ہی کو پڑے گی۔ ابھی تو اکا دکا لوگ ہیں۔ آہستہ آہستہ بڑھتے جائیں گے۔ وجہ صاف ہے: کار سرکار ٹھپ ہے، پالیسی سازی مفقود اور کچھ سیکھنے کی خواہش بھی نہیں ہے۔بدترین صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے نالائق ترین وزرا اور کارندوں سے اب ویسا ہی نیپوٹزم برآمد ہو رہا ہے جس کا الزام کبھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو دیا جاتا تھا۔ شاید ان نالائقوں کا خیال ہے کہ اب پھر تو اقتدار میں آنا ممکن نہیں سو جتنی جھولی بھر لی جائے اتنا بہتر ہے۔
انگریزی کا محاورہ ہے " بارکنگ اپ دی رانگ ٹری "۔یعنی غلط درخت پر بھونکنا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ کتا کسی شکار کا تعاقب کرتا ہے اور شکار تیزی سے ایک درخت پر چڑھ کر دوسرے پر چھلانگ مارتے ہوئے یہ جا وہ جا۔ مگر کتا پہلے درخت کے نیچے ہی کھڑا بھونکتا رہتا ہے ۔بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ شکار تو کب کا کہیں سے کہیں نکل لیا اور درخت بے قصور ہے۔
اب ذرا غور فرمائیے کہ ہم سب روزانہ کتنی بار یہ حرکت بذاتِ خود فرماتے ہیں۔ پھل یا سبزی مہنگے ملیں تو گالیاں ٹھیلے والے کو پڑتی ہیں حالانکہ وہ غریب تو خود اپنا سامان منڈی کے کسی ذخیرہ اندوز آڑھتی سے مہنگے داموں خرید کر لایا ہے اور اپنا منافع رکھ کے آپ کو فروخت کر رہا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے لیٹر کا اضافہ ہو جائے تو موٹر سائیکل سوار پٹرول پمپ والے لڑکے پر غصہ نکالتا ہے۔ جب کہ اضافہ تو اوگرا کی سفارش پر حکومت کرتی ہے۔اس غریب لڑکے کا اس پورے معاملے سے نہ لینا ایک نہ دینا دو۔


میں نے تو کئی معصوم صارفین کو بجلی اور گیس کے بل میں اضافے کی شکایت بھی اس مسکین بینک کیشئر سے کرتے دیکھا ہے جس کا کام بس اتنا ہے کہ آپ سے بل لے کر پیسے گنے اور جمع کر کے مہر لگا کے بل واپس کر دے۔
بینکوں نے کریڈٹ کارڈ کی شکایات کے لیے کال سنٹرز کے مخصوص نمبر دے رکھے ہیں۔ میں نے کئی پڑھے لکھے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کو ان نمبروں پر فون کر کے کال اٹینڈ کرنے والے آپریٹرز کو گالیاں دیتے سنا ہے ۔گویا کریڈٹ کارڈ سٹیٹمنٹ میں غلطی کے ذمہ دار دراصل یہی دیہاڑی دار آپریٹرز ہیں۔حالانکہ ان کا کام تو بس آپ کی بات یا شکایت سن کر کارروائی کے لیے آگے بڑھانا ہے۔آگے بینک جانے اور آپ ۔
تصویر کے کاپی رائٹ
عید کے موقع پر من مانے کرائے ٹرانسپورٹ کمپنی کے سیٹھ کی تجوری میں جا رہے ہیں مگر مشتعل مسافروں کے ہاتھ بس ڈرائیور اور کلینر کے گریبان پر ہیں۔ ہر بازار میں مفت پارکنگ کی جگہوں پر بھی پیسے بدمعاشیہ وصول کر رہی ہے مگر گاڑی والے پارکنگ کی پرچی تھمانے والے اس لمڈے کی ماں بہن ایک کر رہے کہ جو خود دو ڈھائی سو روپے کی دہاڑی پر یہ گالیاں سننے پر مجبور ہے۔اس بچارے کو تو اصلی بدمعاش کا نام تک نہیں معلوم ۔
اور یہی سب حرکتیں کرنے والے ہم اور آپ اب پی ٹی آئی حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان بچاروں کا بس اتنا قصور ہے کہ انہیں بچپن سے حکومت سنبھالنے کا شوق تھا۔ بادشاہ گروں نے ان کا شوق پورا کر دیا اور ظالم مجمع کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔
بالکل ایسے ہی جیسے چھوٹا بچہ جب گاڑی چلانے کی مسلسل ضد کرتا ہے تو بڑا بھائی یا باپ اسے گود میں بٹھا لیتا ہے اور بچہ سٹیرنگ گھماتے ہوئے سمجھتا ہے کہ وہی ڈرائیو کر رہا ہے۔
اب کہیں آٹھ نو ماہ بعد احساس ہو رہا ہے کہ یہ حکومت نہیں چا کری ہے اور کام بس اتنا ہے کہ روزانہ داتا صاحب جانا ہے ، لنگر سے خود بھی پیٹ بھرنا ہے اور شاپر ڈبل کروا کے مالک کے لئے بھی کھانا لانا ہے۔
ممکن ہے میں مبالغہ کر رہا ہوں اور صورتِ حال ایسی نہ ہو۔چلئے اس کو یوں سمجھ لیتے ہیں کہ گورنمنٹ لمیٹڈ کمپنی میں پی ٹی آئی کو اکیاون فیصد شئیرز دئیے گئے اور انچاس فیصد دیگر اداروں نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔خان صاحب کو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیرمین بنا دیا گیا۔
مگر سٹاک کے حالات بہتر ہونے کے بجائے کچھ اتنی تیزی سے بگڑے کہ پی ٹی آئی کو اپنے تیس فیصد حصص دیگر شئیرز ہولڈرز کو فروخت کرنے پڑ گئے تاکہ کمپنی دیوالیہ نہ ہو جائے۔اب پی ٹی آئی کے پاس اکیس فیصد اور دیگر کے پاس اناسی فیصد شئیرز آ گئے ہیں۔پالیسی اکثریتی شیئر ہولڈرز کی چل رہی ہے مگر خان صاحب بدستور اعزازی چیرمین ہیں ۔تاکہ جس کو جو بھی اچھا برا کہنا ہے وہ ان کی تصویر سے کہہ لے اور توجہ پسِ تصویر نہ جائے۔
بہت عرصے پہلے اخبارات میں خبریں آتی تھیں کہ سادہ لوح افراد کو ریکروٹنگ ایجنٹ نے دوبئی کا جھانسہ دیا اور دو دن کے سفر کے بعد لانچ کو گوادر کے قریب ویرانے میں لنگر انداز کر کے مسافروں سے کہا لو بھئی ، تمہارے پیسے پورے ۔دوبئی آ گیا۔
مجھے لگتا ہے موجودہ حکومت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہاتھ ہوا ہے۔اسے کچھ کہنا بارکنگ اپ دی رانگ ٹری ہے۔

https://www.bbc.com/urdu/48490407
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
اگر پارلیمنٹ کے ذریعے حکومت میں تبدیلی نہ لائی گئی تو گالی اسٹیبلشمنٹ ہی کو پڑے گی۔ ابھی تو اکا دکا لوگ ہیں۔ آہستہ آہستہ بڑھتے جائیں گے۔ وجہ صاف ہے: کار سرکار ٹھپ ہے، پالیسی سازی مفقود اور کچھ سیکھنے کی خواہش بھی نہیں ہے۔بدترین صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے نالائق ترین وزرا اور کارندوں سے اب ویسا ہی نیپوٹزم برآمد ہو رہا ہے جس کا الزام کبھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو دیا جاتا تھا۔ شاید ان نالائقوں کا خیال ہے کہ اب پھر تو اقتدار میں آنا ممکن نہیں سو جتنی جھولی بھر لی جائے اتنا بہتر ہے۔



آپکو انکی حرکتوں پہ حیرت کیوں ہے ۔ انکے پیچھے کھڑے ہونے والے افراد کے کردار اور گفتگو کے معیار کا اندازہ اس فورم پہ لکھے جانے والے حروف سے ہی لگایا جاسکتا ہے ۔

 

imisa2

Senator (1k+ posts)

آپکو انکی حرکتوں پہ حیرت کیوں ہے ۔ انکے پیچھے کھڑے ہونے والے افراد کے کردار اور گفتگو کے معیار کا اندازہ اس فورم پہ لکھے جانے والے حروف سے ہی لگایا جاسکتا ہے ۔
حیرت وغیرہ تو کچھ نہیں شدید مایوسی ہے۔ باقی جو لوگ آج خان صاحب کے لئے بدزبانی کر رہے ہیں، یہ تو کل نظر بھی نہیں آئیں گے۔ بلکہ نئی آئی ڈیز بنا کر خان صاحب کے لتے لے رہے ہوں گے۔
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
حیرت وغیرہ تو کچھ نہیں شدید مایوسی ہے۔ باقی جو لوگ آج خان صاحب کے لئے بدزبانی کر رہے ہیں، یہ تو کل نظر بھی نہیں آئیں گے۔ بلکہ نئی آئی ڈیز بنا کر خان صاحب کے لتے لے رہے ہوں گے۔


جناب ، یہ جنگ تو اُس وقت ہی ہار چکے تھے جب الیکٹیبلز کی بھرتیاں شروع کی
گئ تھیں ۔ دراصل یہ کندھے استعمال ہورہے ہیں ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب فردوس عاشق اعوان نے پی ٹی آئ میں شمولیت اختیار کی تھی تو یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان جیسے لوگوں کو کوئ وزارت نہیں دی جاۓگی ۔ اب تو جو حال ہے ، وہ تو نظر ہی آرہا ہے ۔


 

الرضا

Senator (1k+ posts)
انگریزی کا محاورہ ہے " بارکنگ اپ دی رانگ ٹری "۔یعنی غلط درخت پر بھونکنا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ کتا کسی شکار کا تعاقب کرتا ہے اور شکار تیزی سے ایک درخت پر چڑھ کر دوسرے پر چھلانگ مارتے ہوئے یہ جا وہ جا۔ مگر کتا پہلے درخت کے نیچے ہی کھڑا بھونکتا رہتا ہے ۔بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ شکار تو کب کا کہیں سے کہیں نکل لیا اور درخت بے قصور ہے۔
اب ذرا غور فرمائیے کہ ہم سب روزانہ کتنی بار یہ حرکت بذاتِ خود فرماتے ہیں۔ پھل یا سبزی مہنگے ملیں تو گالیاں ٹھیلے والے کو پڑتی ہیں حالانکہ وہ غریب تو خود اپنا سامان منڈی کے کسی ذخیرہ اندوز آڑھتی سے مہنگے داموں خرید کر لایا ہے اور اپنا منافع رکھ کے آپ کو فروخت کر رہا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے لیٹر کا اضافہ ہو جائے تو موٹر سائیکل سوار پٹرول پمپ والے لڑکے پر غصہ نکالتا ہے۔ جب کہ اضافہ تو اوگرا کی سفارش پر حکومت کرتی ہے۔اس غریب لڑکے کا اس پورے معاملے سے نہ لینا ایک نہ دینا دو۔


میں نے تو کئی معصوم صارفین کو بجلی اور گیس کے بل میں اضافے کی شکایت بھی اس مسکین بینک کیشئر سے کرتے دیکھا ہے جس کا کام بس اتنا ہے کہ آپ سے بل لے کر پیسے گنے اور جمع کر کے مہر لگا کے بل واپس کر دے۔
بینکوں نے کریڈٹ کارڈ کی شکایات کے لیے کال سنٹرز کے مخصوص نمبر دے رکھے ہیں۔ میں نے کئی پڑھے لکھے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کو ان نمبروں پر فون کر کے کال اٹینڈ کرنے والے آپریٹرز کو گالیاں دیتے سنا ہے ۔گویا کریڈٹ کارڈ سٹیٹمنٹ میں غلطی کے ذمہ دار دراصل یہی دیہاڑی دار آپریٹرز ہیں۔حالانکہ ان کا کام تو بس آپ کی بات یا شکایت سن کر کارروائی کے لیے آگے بڑھانا ہے۔آگے بینک جانے اور آپ ۔
تصویر کے کاپی رائٹ
عید کے موقع پر من مانے کرائے ٹرانسپورٹ کمپنی کے سیٹھ کی تجوری میں جا رہے ہیں مگر مشتعل مسافروں کے ہاتھ بس ڈرائیور اور کلینر کے گریبان پر ہیں۔ ہر بازار میں مفت پارکنگ کی جگہوں پر بھی پیسے بدمعاشیہ وصول کر رہی ہے مگر گاڑی والے پارکنگ کی پرچی تھمانے والے اس لمڈے کی ماں بہن ایک کر رہے کہ جو خود دو ڈھائی سو روپے کی دہاڑی پر یہ گالیاں سننے پر مجبور ہے۔اس بچارے کو تو اصلی بدمعاش کا نام تک نہیں معلوم ۔
اور یہی سب حرکتیں کرنے والے ہم اور آپ اب پی ٹی آئی حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان بچاروں کا بس اتنا قصور ہے کہ انہیں بچپن سے حکومت سنبھالنے کا شوق تھا۔ بادشاہ گروں نے ان کا شوق پورا کر دیا اور ظالم مجمع کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔
بالکل ایسے ہی جیسے چھوٹا بچہ جب گاڑی چلانے کی مسلسل ضد کرتا ہے تو بڑا بھائی یا باپ اسے گود میں بٹھا لیتا ہے اور بچہ سٹیرنگ گھماتے ہوئے سمجھتا ہے کہ وہی ڈرائیو کر رہا ہے۔
اب کہیں آٹھ نو ماہ بعد احساس ہو رہا ہے کہ یہ حکومت نہیں چا کری ہے اور کام بس اتنا ہے کہ روزانہ داتا صاحب جانا ہے ، لنگر سے خود بھی پیٹ بھرنا ہے اور شاپر ڈبل کروا کے مالک کے لئے بھی کھانا لانا ہے۔
ممکن ہے میں مبالغہ کر رہا ہوں اور صورتِ حال ایسی نہ ہو۔چلئے اس کو یوں سمجھ لیتے ہیں کہ گورنمنٹ لمیٹڈ کمپنی میں پی ٹی آئی کو اکیاون فیصد شئیرز دئیے گئے اور انچاس فیصد دیگر اداروں نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔خان صاحب کو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیرمین بنا دیا گیا۔
مگر سٹاک کے حالات بہتر ہونے کے بجائے کچھ اتنی تیزی سے بگڑے کہ پی ٹی آئی کو اپنے تیس فیصد حصص دیگر شئیرز ہولڈرز کو فروخت کرنے پڑ گئے تاکہ کمپنی دیوالیہ نہ ہو جائے۔اب پی ٹی آئی کے پاس اکیس فیصد اور دیگر کے پاس اناسی فیصد شئیرز آ گئے ہیں۔پالیسی اکثریتی شیئر ہولڈرز کی چل رہی ہے مگر خان صاحب بدستور اعزازی چیرمین ہیں ۔تاکہ جس کو جو بھی اچھا برا کہنا ہے وہ ان کی تصویر سے کہہ لے اور توجہ پسِ تصویر نہ جائے۔
بہت عرصے پہلے اخبارات میں خبریں آتی تھیں کہ سادہ لوح افراد کو ریکروٹنگ ایجنٹ نے دوبئی کا جھانسہ دیا اور دو دن کے سفر کے بعد لانچ کو گوادر کے قریب ویرانے میں لنگر انداز کر کے مسافروں سے کہا لو بھئی ، تمہارے پیسے پورے ۔دوبئی آ گیا۔
مجھے لگتا ہے موجودہ حکومت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہاتھ ہوا ہے۔اسے کچھ کہنا بارکنگ اپ دی رانگ ٹری ہے۔

https://www.bbc.com/urdu/48490407
بھائی صاحب آپ نے بلاوجہ تکلیف کی۔ یہ آرٹیکل اس فورم پر ڈال دیا۔ یہاں اکثریت یوتھیوں کی ہے، ان کو ایسے ذومعنی اور عقل لڑانے والے جملے سمجھ نہیں آتے۔ یہ اسپیڈ کی لائیٹ سے تیز بھاگنے والے لوگ ہیں۔ ان کو بس دو چار گالیوں کے ساتھ چار لائنوں میں عمران خان کی اوقات سمجھا دیں۔ یہ اس پر اچھا ردعمل دیں گے۔ یہ پڑھے لکھوں کا آرٹیکل تو ان کی زرتاج باجی کے بھی سر سے پاؤں تک سلام کر کے گزر جائے گا۔
 

Salazar67

Chief Minister (5k+ posts)
بھائی صاحب آپ نے بلاوجہ تکلیف کی۔ یہ آرٹیکل اس فورم پر ڈال دیا۔ یہاں اکثریت یوتھیوں کی ہے، ان کو ایسے ذومعنی اور عقل لڑانے والے جملے سمجھ نہیں آتے۔ یہ اسپیڈ کی لائیٹ سے تیز بھاگنے والے لوگ ہیں۔ ان کو بس دو چار گالیوں کے ساتھ چار لائنوں میں عمران خان کی اوقات سمجھا دیں۔ یہ اس پر اچھا ردعمل دیں گے۔ یہ پڑھے لکھوں کا آرٹیکل تو ان کی زرتاج باجی کے بھی سر سے پاؤں تک سلام کر کے گزر جائے گا۔
Two IDIOTS both metric failed calling each other educated? Lananth on Mrs Qatri of Heera Mundee for hiring Hindustani trolls.
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
Two IDIOTS both metric failed calling each other educated? Lananth on Mrs Qatri of Heera Mundee for hiring Hindustani trolls.
ہاں بھئی، آج آپ نے کتنے بندے پھانسی چڑھائے؟ کتنوں کے سر قلم کیے؟ اور کس کس کی کھال میں بھس بھر کے کھیتوں میں نصب کروایا؟
 

imisa2

Senator (1k+ posts)
جناب ، یہ جنگ تو اُس وقت ہی ہار چکے تھے جب الیکٹیبلز کی بھرتیاں شروع کی
گئ تھیں ۔ دراصل یہ کندھے استعمال ہورہے ہیں ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب فردوس عاشق اعوان نے پی ٹی آئ میں شمولیت اختیار کی تھی تو یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان جیسے لوگوں کو کوئ وزارت نہیں دی جاۓگی ۔ اب تو جو حال ہے ، وہ تو نظر ہی آرہا ہے ۔


آپ ان سو کالڈ الیکٹیبلز کو جتنا بھی برا کہیں مگر یہ تو محض مہرے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ پیپلز پارٹی اور نون میں بھی شامل رہے ہیں۔ مگر نواز شریف وغیرہ ان کو حد سے باہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ یہ خامی اور کمزوری لیڈر کی ہے کہ فواد چوہدری، شاہ محمود ٹائپ لوگ سازشیں کر رہے ہیں۔ باقی نیپوٹزم اور بدعنوانی کی خبریں ان الیکٹیبلز کی طرف سے تو آ ہی نہیں رہیں بلکہ تحریک انصاف کے سو کالڈ نظریاتی لوگوں کی طرف سے آ رہی ہیں۔ یہ فیصل واڈا، زرتاج گل اور نعیم الحق جیسے لوگ تو تحریک انصاف کی پروڈکٹ ہیں۔ اسد عمر جس نے معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا تحریک انصاف کا سٹار پلئیر تھا۔ میرا تو اب بھی یہی خیال ہے کہ الیکٹیبلز شامل کرنے کی پالیسی میں کوئی غلطی نہیں تھی۔ خان صاحب اور ان کی کور ٹیم سخت نااہل تھی۔
 

الرضا

Senator (1k+ posts)
Baoji ki EID Pakistan mananaye k Ghum mei Cheekhein KoT Lakhpat Jail take pohnchni chaiyein!! ?????
باؤجی پر اتنی مہربانی کی ہے تو نیازی جی کے دونوں شہزادوں کو بھی پاکستان بلا کر اس عید ان کا عقیقہ کر دیں۔ اور ساتھ مسلمانی بھی ہوجائے تو کیا کہنے۔
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
آپ ان سو کالڈ الیکٹیبلز کو جتنا بھی برا کہیں مگر یہ تو محض مہرے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ پیپلز پارٹی اور نون میں بھی شامل رہے ہیں۔ مگر نواز شریف وغیرہ ان کو حد سے باہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ یہ خامی اور کمزوری لیڈر کی ہے کہ فواد چوہدری، شاہ محمود ٹائپ لوگ سازشیں کر رہے ہیں۔ باقی نیپوٹزم اور بدعنوانی کی خبریں ان الیکٹیبلز کی طرف سے تو آ ہی نہیں رہیں بلکہ تحریک انصاف کے سو کالڈ نظریاتی لوگوں کی طرف سے آ رہی ہیں۔ یہ فیصل واڈا، زرتاج گل اور نعیم الحق جیسے لوگ تو تحریک انصاف کی پروڈکٹ ہیں۔ اسد عمر جس نے معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا تحریک انصاف کا سٹار پلئیر تھا۔ میرا تو اب بھی یہی خیال ہے کہ الیکٹیبلز شامل کرنے کی پالیسی میں کوئی غلطی نہیں تھی۔ خان صاحب اور ان کی کور ٹیم سخت نااہل تھی۔



ہوسکتا ہے کہ آپ کی بات درست ہو ، لیکن اصولوں کی پاسداری ہی آپ کو وہ اخلاقی جرت دیتی ہے جس سے آپ ہر چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں ، پی ٹی آئ کے پرانے خیر خواہو ںکو جس طرح پارٹی سے فارغ کیا گیا ہے ، اس سے آپ بخوبی واقف ہونگے ۔ ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین اسکی ایک مثال ہے اور جس بات پہ انہیں مجبور کیا گیا ، اس سے بھی آپ واقف ہونگے ۔ ان کے پرانے ممبر بابر اکبر کا کیس جو بیرونی فنڈنگ پر تھا ، آج تک اس پر فیصلہ نہیں دیا گیا ہے ، حالانکہ وہ صاف صاف پارٹی کو ڈسکوالیفائ کرتا ہے اور اس کے وافر تعداد میں ثبوت بھی موجود ہیں ، کبھی موقع ملے تو اکبر بابر کے عمران خان کے بارے میں خیلات ضرور سنیے گا ۔

 

imisa2

Senator (1k+ posts)

ہوسکتا ہے کہ آپ کی بات درست ہو ، لیکن اصولوں کی پاسداری ہی آپ کو وہ اخلاقی جرت دیتی ہے جس سے آپ ہر چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں ، پی ٹی آئ کے پرانے خیر خواہو ںکو جس طرح پارٹی سے فارغ کیا گیا ہے ، اس سے آپ بخوبی واقف ہونگے ۔ ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین اسکی ایک مثال ہے اور جس بات پہ انہیں مجبور کیا گیا ، اس سے بھی آپ واقف ہونگے ۔ ان کے پرانے ممبر بابر اکبر کا کیس جو بیرونی فنڈنگ پر تھا ، آج تک اس پر فیصلہ نہیں دیا گیا ہے ، حالانکہ وہ صاف صاف پارٹی کو ڈسکوالیفائ کرتا ہے اور اس کے وافر تعداد میں ثبوت بھی موجود ہیں ، کبھی موقع ملے تو اکبر بابر کے عمران خان کے بارے میں خیلات ضرور سنیے گا ۔
درست بات ہے۔ اکبر بابر تو مجھے ذاتی طور پر بھی بہت پسند تھا۔ مگر سیاست میں اصول کی پاسداری ایک حد تک کی جاتی ہے۔ سب دلائل ایک طرف رہے۔ میرا اصرار دراصل یہ ہے کہ خرابی کی اصل جڑ عمران خان صاحب خود تھے۔ باقی باتیں اضافی ہیں۔
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
درست بات ہے۔ اکبر بابر تو مجھے ذاتی طور پر بھی بہت پسند تھا۔ مگر سیاست میں اصول کی پاسداری ایک حد تک کی جاتی ہے۔ سب دلائل ایک طرف رہے۔ میرا اصرار دراصل یہ ہے کہ خرابی کی اصل جڑ عمران خان صاحب خود تھے۔ باقی باتیں اضافی ہیں۔



آپ عمران خان کو نظریاتی نہیں مانتے، اصول پسند نہیں مانتے ، اھل نہیں مانتے یا لیڈر نہیں مانتے ۔ وہ خرابی کی اصل جڑ ہے کیا ؟
 

imisa2

Senator (1k+ posts)

آپ عمران خان کو نظریاتی نہیں مانتے، اصول پسند نہیں مانتے ، اھل نہیں مانتے یا لیڈر نہیں مانتے ۔ وہ خرابی کی اصل جڑ ہے کیا ؟
نظریاتی سیاست کا وقت تو کب کا لد چکا۔ خیر ۱۰ ماہ کی حکومت سے تو عمران خان نے خود کو نااہل ہی ثابت کیا ہے اور نااہل آدمی بڑا لیڈر کیسے ہو سکتا ہے۔