ہندوستان میں مہنگائی کی شرح میں کمی آنے لگی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

13indiainflationssss.jpg

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے باعث ماہ اکتوبر میں بھارت میں افراط زر 6.77 فیصد ہو گئی تھی جو ستمبر میں 7.41 فیصد تھی۔

تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے افراط زر کے حوالے سے دنیا بھر کے مالیاتی اعدادوشمار جاری کر دیئے گئے ہیں۔

جس کے مطابق پاکستان کے ہمسایہ ملک ہندوستان میں مہنگائی میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور رواں مالی سال کے دوران خوردہ افراط زر کی شرح 7.1 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور صارفین کیلئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آنے سے مہنگائی کا دبائو بھی کم رہے گا جبکہ معاشی شرح نمو 6.9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

بھارت نے جی ڈی پی کے 6.4 فیصد کے مالیاتی خسارے کا ہدف پورا کیا۔


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ورلڈ بینک) کی طرف سے جاری رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے باعث ماہ اکتوبر میں بھارت میں افراط زر 6.77 فیصد ہو گئی تھی جو ستمبر میں 7.41 فیصد تھی جو مرکزی بھارتی بینک کے گزتہ 10 ماہ کے طے شدہ ہدف سے زائد تھی جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کے ہدف سے افراط زر کچھ زیادہ ہے۔

آئندہ سال کے دوران افراط زر طے شدف ہدف 2 سے 5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، ورلڈ بینک کے ماہر معیشت کی طرف سے کہا گیا کہ بھارت میں افراط زر کی شرح آئندہ مالی سال میں 5.1 تک ہو گی۔

چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے 30 نومبر کو کہا تھا کہ "ہندوستانی معیشت رواں مالی سال میں 6.8 جی ڈی پی کی شرح نمو حاصل کرنے کے راستے پر ہے اور جی ڈی پی 20-2019 کی اوسط سطح پر ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ پی ایم آئی، فیسٹیول سیلز، بینک کریڈٹ گروتھ اور آٹو سیلز کے اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر معاشی بحران کے باوجود بھارتی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی اور ٹیکسز میں کمی کے باعث افراط زر کی شرح کنٹرول کرنے میں مدد ملی جبکہ مائیکرو اکنامکس اور مانیٹری پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ سالوں میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد لی جبکہ بین الاقوامی سطح پر معاشی مشکلات کا اثر بھی بھارت کی جی ڈی پی پر پڑا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کی تیزی سے سخت ہوتی مانیٹری پالیسیوں کی وجہ سے سرمائےکے اخراج اوربھارتی روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ عالمی سطح پر اشیاء کی بڑھتی قیمتیں بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ بنیں۔
 

انقلاب

Minister (2k+ posts)
13indiainflationssss.jpg

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے باعث ماہ اکتوبر میں بھارت میں افراط زر 6.77 فیصد ہو گئی تھی جو ستمبر میں 7.41 فیصد تھی۔

تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے افراط زر کے حوالے سے دنیا بھر کے مالیاتی اعدادوشمار جاری کر دیئے گئے ہیں۔

جس کے مطابق پاکستان کے ہمسایہ ملک ہندوستان میں مہنگائی میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور رواں مالی سال کے دوران خوردہ افراط زر کی شرح 7.1 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور صارفین کیلئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آنے سے مہنگائی کا دبائو بھی کم رہے گا جبکہ معاشی شرح نمو 6.9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

بھارت نے جی ڈی پی کے 6.4 فیصد کے مالیاتی خسارے کا ہدف پورا کیا۔


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ورلڈ بینک) کی طرف سے جاری رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے باعث ماہ اکتوبر میں بھارت میں افراط زر 6.77 فیصد ہو گئی تھی جو ستمبر میں 7.41 فیصد تھی جو مرکزی بھارتی بینک کے گزتہ 10 ماہ کے طے شدہ ہدف سے زائد تھی جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کے ہدف سے افراط زر کچھ زیادہ ہے۔

آئندہ سال کے دوران افراط زر طے شدف ہدف 2 سے 5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، ورلڈ بینک کے ماہر معیشت کی طرف سے کہا گیا کہ بھارت میں افراط زر کی شرح آئندہ مالی سال میں 5.1 تک ہو گی۔

چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے 30 نومبر کو کہا تھا کہ "ہندوستانی معیشت رواں مالی سال میں 6.8 جی ڈی پی کی شرح نمو حاصل کرنے کے راستے پر ہے اور جی ڈی پی 20-2019 کی اوسط سطح پر ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ پی ایم آئی، فیسٹیول سیلز، بینک کریڈٹ گروتھ اور آٹو سیلز کے اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر معاشی بحران کے باوجود بھارتی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی اور ٹیکسز میں کمی کے باعث افراط زر کی شرح کنٹرول کرنے میں مدد ملی جبکہ مائیکرو اکنامکس اور مانیٹری پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ سالوں میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد لی جبکہ بین الاقوامی سطح پر معاشی مشکلات کا اثر بھی بھارت کی جی ڈی پی پر پڑا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کی تیزی سے سخت ہوتی مانیٹری پالیسیوں کی وجہ سے سرمائےکے اخراج اوربھارتی روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ عالمی سطح پر اشیاء کی بڑھتی قیمتیں بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ بنیں۔
کمی تو آنی ہی تھی، انہوں نے اپنا باجوہ وقت پر مار دیا تھا
 
Sponsored Link