ہمارا معاشرہ

HIDDEN

Minister (2k+ posts)
جب سے نور مقدّم کا قتل ہوا ہے، پورا پاکستان جیسے سکتے کی حالت میں آچکا ہے. ایسا لگتا ہے جیسے آج تک کوئی اور قتل ہوا ہی نہ ہو. ہماری عوام نے خوب ٹویٹر ٹرینڈ چلایا، ہمارے دانشور، صحافی، انتظامیہ، حتی کہ عوام بھی اس سانحے کو خوب اچھال رہی ہے. میرا اختلاف ان سے نہیں جو اس سانحے کو روزانہ، بلکہ گھنٹوں کے حساب سے رپورٹ کر رہے ہیں، میرا اختلاف ان سے ہے جو باقی جرائم کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے

اس قتل کے بعد ایک واقعہ اور رونما ہوا، جب ایک جانور نما انسان نے ایک عورت کی کھلے آسمان تلے عصمت دری کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے تعاون نہ کرنے پر نہ صرف اس کو شدید زخمی کردیا، بلکہ اس کے شیر خوار بچے کو اس کے سامنے ذبح کردیا. وہ عورت تو جیتے جی مر ہی گئی ہوگی، صرف اس کی روح پرواز کرنے میں تھوڑی دیر ہوگئی ورنہ اپنا بچہ اپنے سامنے ذبح ہوتے دیکھ کر کون زندہ رہ سکتا ہے

ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق صرف اور صرف امیروں کے ہیں. وہ مہنگا نشہ کر کے، اسلامی معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھیر تے ہوے تاریک راہوں میں مارے جایئں تو ہماری عوام کو جیسے لگتا ہے بڑا ظلم ہوگیا صرف انہی افراد کو تو معاشرے میں جینے کا حق تھا- باقی اس ماں اور بچے کے قتل پہ نہ عوام نے زیادہ شور مچایا، نہ صحافی اپنا گریبان پھاڑتے پھرے، نہ پولیس نے زیادہ کوئی مستعدی دکھائی. نا ہی کوئی ٹرینڈ بنا، نہ کسی کو ہوش آیا کہ آج جو اس ماں اور بچے کے ساتھ ہوا ہے، کل کو ہماری فیملی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، اور اگر ہم ارب پتی یا کسی بیوروکریٹ کی اولاد نہ ہوں، تو ہمیں کسی کاروائی یا انصاف کی توقع نہیں کرنی چاہیے

لوگ نور مقدّم کے لئے مرے جارہے ہیں. ایسا لگ رہا ہے کہ اس حرام کی اولاد نے نور مقدم کو اس کے گھر میں گھس کر اس کے ماں باپ کے سامنے ذبح کیا ہو. اور یہ آدمی ہر ایک کے ساتھ ایسا کرسکتا ہو. اگر فوری انصاف نہیں ملا تو پورا معاشرہ اس قاتل کے رحم و کرم پہ ہوگا. نہیں جناب، صرف وہ لوگ ان کے رحم و کرم پہ ہیں جن کے بچے مہنگے نشے کرتے ہیں، بغیر نکاح کے ماں باپ کی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، فجر کی اذان ہونے تک ناچ گانے کی محفلیں سجاتے ہیں. عام آدمی کو خطرہ ایسے لوگوں سے زیادہ اس بھیڑیے سے ہے جو کھلے عام ایک عورت اور اس کے بچے کو ذبح کر گیا. میں نہیں کہتا کہ جو کچھ نور کے ساتھ ہوا وہ ٹھیک تھا. میں یہ بھی نہیں کہتا کے ہمیں اس حرام کے پلّے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھانی چاہیے اور پولیس کو پریشر میں نہیں رکھنا چاہیے. میں یہ بھی سمجھتا ہوں کے بے راہ روی کے باوجود نور مقدّم کا معاملہ اب اللہ کے پاس ہے اور قوی امید ہے کہ اللہ نے اس کے تمام گناہ، اس تکلیف کے بدلے جس سے وہ گزری، معاف کر دیے ہونگے کیونکہ اس کی ذات تو غفور و رحیم ہے اور ہمیں اس سے بہت زیادہ رحم کی امید ہے. لیکن عوام کو اب سوچنا ہوگا کہ کیا صرف انصاف امیر زادوں اور امیر زادیوں کا ہی حق ہے یا ماڈل ٹاؤن میں کھلے عام چودہ افراد کا قتل بھی اہمیت کا حامل ہے، کیا ساہیوال کا سانحہ بھی کسی توجہ کے لائق ہے، کیا وہ بچے جو اپنے استادوں کے ہاتھوں ریپ ہوئے اور ان استادوں کا ان کے تعلق کی بنا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا، یہ کیا وہ ماں اور بچہ بھی ہم عوام کا ضمیر اسہی طرح جھنجوڑ پائینگے جیسے نور مقدم نے ہمارا دل، دماغ، شریانیں، سب کچھ ماؤف کردیا

نور مقدّم کو اللہ جنّت نصیب کرے، اور اس کے ماں باپ کو صبر عطا کرے، اور اس قاتل کو عوام پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھے، اور اللہ پاک ہماری بگڑی نسل کو اس واقعے سے سبق سیکھنے کی توفیق دے کہ اللہ کے ہر حکم میں ہمارے ہی لئے کوئی نہ کوئی فائدہ ہے. اللہ تمام ماں باپ کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت، اور اچھے برے کی پہچان کرنے کی توفیق دے. اور اللہ ہم عوام کو تمام جرائم کو اسہی طرح سمجھنے کی توفیق دے جیسے ہم نور مقدّم کے جرم کو سمجھ رہے ہیں. آمین

یاد رکھیں، ترقی صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم عوام کی نظر میں امیر اور غریب کی برابر اہمیت ہوگی. عوام ہی قانون بناتے ہیں، عوام ہی سے پولیس میں لوگ بھرتی ہوتے ہیں، عوام ہی سے لوگ وکیل اور جج بنتے ہیں، اور عوام ہی اپنے حکمران منتخب کرتی ہے. جو برائیاں عوام میں ہونگی وہ ہمارے سب اداروں، انتظامیہ، حکمرانوں میں سرائیت کرینگی. ہم اچھے تو سب اچھے

آخر میں وہی حدیث دہراتا چلوں، نبی پاک محمد صل اللہ علیه وسلم کا ارشاد ہے، تم سے پہلے کے لوگ اس لئے برباد ہوگئے کہ ان میں اگر کوئی غریب جرم کرتا تو سزا پاتا اور امیر کرتا تو معاف کردیا جاتا.

اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہماری بربادی میں ہمارا اپنا ہی ہاتھ ہے. ایسا نہیں ہے کہ ہماری قوم کا ضمیر ہمیشہ ہی سویا رہا ہو، ہم نے کبھی کبھی غریبوں کے لئے بھی ٹرینڈ چلائے ہیں، لیکن جس طرح آج کل ہماری عوام نور مقدّم کے کیس کو لے کر پیچھے پڑی ہے، کاش کہ ہم اپنی حکومت کو باقی جرائم جو وہ بھول چکے ہیں ساتھ ساتھ یاد کرواتے چلیں. کاش کہ ایک ٹرینڈ لاہور ہائی کورٹ کے ان گھٹیا ججز کے خلاف بھی ہوجاۓ جنہوں نے ماڈل ٹاؤن کے کیس کو بلاوجہ روکا ہوا ہے. کاش کہ ہم میں اتنی ہمت آجائے کہ ہم آتے جاتے ان ججز کی گاڑیوں کے اوپر انڈے جوتے اور پتھر برسائیں
 

knowledge88

Chief Minister (5k+ posts)
جب سے نور مقدّم کا قتل ہوا ہے، پورا پاکستان جیسے سکتے کی حالت میں آچکا ہے. ایسا لگتا ہے جیسے آج تک کوئی اور قتل ہوا ہی نہ ہو. ہماری عوام نے خوب ٹویٹر ٹرینڈ چلایا، ہمارے دانشور، صحافی، انتظامیہ، حتی کہ عوام بھی اس سانحے کو خوب اچھال رہی ہے. میرا اختلاف ان سے نہیں جو اس سانحے کو روزانہ، بلکہ گھنٹوں کے حساب سے رپورٹ کر رہے ہیں، میرا اختلاف ان سے ہے جو باقی جرائم کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے

اس قتل کے بعد ایک واقعہ اور رونما ہوا، جب ایک جانور نما انسان نے ایک عورت کی کھلے آسمان تلے عصمت دری کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے تعاون نہ کرنے پر نہ صرف اس کو شدید زخمی کردیا، بلکہ اس کے شیر خوار بچے کو اس کے سامنے ذبح کردیا. وہ عورت تو جیتے جی مر ہی گئی ہوگی، صرف اس کی روح پرواز کرنے میں تھوڑی دیر ہوگئی ورنہ اپنا بچہ اپنے سامنے ذبح ہوتے دیکھ کر کون زندہ رہ سکتا ہے

ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق صرف اور صرف امیروں کے ہیں. وہ مہنگا نشہ کر کے، اسلامی معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھیر تے ہوے تاریک راہوں میں مارے جایئں تو ہماری عوام کو جیسے لگتا ہے بڑا ظلم ہوگیا صرف انہی افراد کو تو معاشرے میں جینے کا حق تھا- باقی اس ماں اور بچے کے قتل پہ نہ عوام نے زیادہ شور مچایا، نہ صحافی اپنا گریبان پھاڑتے پھرے، نہ پولیس نے زیادہ کوئی مستعدی دکھائی. نا ہی کوئی ٹرینڈ بنا، نہ کسی کو ہوش آیا کہ آج جو اس ماں اور بچے کے ساتھ ہوا ہے، کل کو ہماری فیملی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، اور اگر ہم ارب پتی یا کسی بیوروکریٹ کی اولاد نہ ہوں، تو ہمیں کسی کاروائی یا انصاف کی توقع نہیں کرنی چاہیے

لوگ نور مقدّم کے لئے مرے جارہے ہیں. ایسا لگ رہا ہے کہ اس حرام کی اولاد نے نور مقدم کو اس کے گھر میں گھس کر اس کے ماں باپ کے سامنے ذبح کیا ہو. اور یہ آدمی ہر ایک کے ساتھ ایسا کرسکتا ہو. اگر فوری انصاف نہیں ملا تو پورا معاشرہ اس قاتل کے رحم و کرم پہ ہوگا. نہیں جناب، صرف وہ لوگ ان کے رحم و کرم پہ ہیں جن کے بچے مہنگے نشے کرتے ہیں، بغیر نکاح کے ماں باپ کی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، فجر کی اذان ہونے تک ناچ گانے کی محفلیں سجاتے ہیں. عام آدمی کو خطرہ ایسے لوگوں سے زیادہ اس بھیڑیے سے ہے جو کھلے عام ایک عورت اور اس کے بچے کو ذبح کر گیا. میں نہیں کہتا کہ جو کچھ نور کے ساتھ ہوا وہ ٹھیک تھا. میں یہ بھی نہیں کہتا کے ہمیں اس حرام کے پلّے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھانی چاہیے اور پولیس کو پریشر میں نہیں رکھنا چاہیے. میں یہ بھی سمجھتا ہوں کے بے راہ روی کے باوجود نور مقدّم کا معاملہ اب اللہ کے پاس ہے اور قوی امید ہے کہ اللہ نے اس کے تمام گناہ، اس تکلیف کے بدلے جس سے وہ گزری، معاف کر دیے ہونگے کیونکہ اس کی ذات تو غفور و رحیم ہے اور ہمیں اس سے بہت زیادہ رحم کی امید ہے. لیکن عوام کو اب سوچنا ہوگا کہ کیا صرف انصاف امیر زادوں اور امیر زادیوں کا ہی حق ہے یا ماڈل ٹاؤن میں کھلے عام چودہ افراد کا قتل بھی اہمیت کا حامل ہے، کیا ساہیوال کا سانحہ بھی کسی توجہ کے لائق ہے، کیا وہ بچے جو اپنے استادوں کے ہاتھوں ریپ ہوئے اور ان استادوں کا ان کے تعلق کی بنا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا، یہ کیا وہ ماں اور بچہ بھی ہم عوام کا ضمیر اسہی طرح جھنجوڑ پائینگے جیسے نور مقدم نے ہمارا دل، دماغ، شریانیں، سب کچھ ماؤف کردیا

نور مقدّم کو اللہ جنّت نصیب کرے، اور اس کے ماں باپ کو صبر عطا کرے، اور اس قاتل کو عوام پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھے، اور اللہ پاک ہماری بگڑی نسل کو اس واقعے سے سبق سیکھنے کی توفیق دے کہ اللہ کے ہر حکم میں ہمارے ہی لئے کوئی نہ کوئی فائدہ ہے. اللہ تمام ماں باپ کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت، اور اچھے برے کی پہچان کرنے کی توفیق دے. اور اللہ ہم عوام کو تمام جرائم کو اسہی طرح سمجھنے کی توفیق دے جیسے ہم نور مقدّم کے جرم کو سمجھ رہے ہیں. آمین

یاد رکھیں، ترقی صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم عوام کی نظر میں امیر اور غریب کی برابر اہمیت ہوگی. عوام ہی قانون بناتے ہیں، عوام ہی سے پولیس میں لوگ بھرتی ہوتے ہیں، عوام ہی سے لوگ وکیل اور جج بنتے ہیں، اور عوام ہی اپنے حکمران منتخب کرتی ہے. جو برائیاں عوام میں ہونگی وہ ہمارے سب اداروں، انتظامیہ، حکمرانوں میں سرائیت کرینگی. ہم اچھے تو سب اچھے

آخر میں وہی حدیث دہراتا چلوں، نبی پاک محمد صل اللہ علیه وسلم کا ارشاد ہے، تم سے پہلے کے لوگ اس لئے برباد ہوگئے کہ ان میں اگر کوئی غریب جرم کرتا تو سزا پاتا اور امیر کرتا تو معاف کردیا جاتا.

اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہماری بربادی میں ہمارا اپنا ہی ہاتھ ہے. ایسا نہیں ہے کہ ہماری قوم کا ضمیر ہمیشہ ہی سویا رہا ہو، ہم نے کبھی کبھی غریبوں کے لئے بھی ٹرینڈ چلائے ہیں، لیکن جس طرح آج کل ہماری عوام نور مقدّم کے کیس کو لے کر پیچھے پڑی ہے، کاش کہ ہم اپنی حکومت کو باقی جرائم جو وہ بھول چکے ہیں ساتھ ساتھ یاد کرواتے چلیں. کاش کہ ایک ٹرینڈ لاہور ہائی کورٹ کے ان گھٹیا ججز کے خلاف بھی ہوجاۓ جنہوں نے ماڈل ٹاؤن کے کیس کو بلاوجہ روکا ہوا ہے. کاش کہ ہم میں اتنی ہمت آجائے کہ ہم آتے جاتے ان ججز کی گاڑیوں کے اوپر انڈے جوتے اور پتھر برسائیں
Sometimes cases of very poor people also get lots of media attention. I am talking about the Zainab case She did not belong to a rich family. That case got more media attention than any other rape and murder case. Even PM thought about changing the law so public hanging could be introduced. Fast justice was delivered and the accused was hanged in a year. Why so much media attention for a case of a poor girl? In Pakistan many girls are raped every month, then Why Zainab case got so much priority?


As far as Noor's case is concerned, don't assume anything. People are assuming that she was there to sleep around and got killed the very next day after getting the perfect sex the night before. So Allah please forgive her sins. Some are saying " serves her right".

But according to the police investigation she was kidnapped. She tried her best to give ransom money to Zahir to escape but she couldn't escape. Zahirs family and her family knew each other for ages. What is the truth, why it happened, only God knows? Why people are in shock? Because you don't see a case where a murderer uses his knife to cut a woman's private parts and then removes her head from her body. It does send shivers through many people's bodies. There are people who will be mourning the case you discussed. Also, there are people who will mourn Noors case. Let them be. Let the people decide whichever case they want to mourn. Don't criticize them for why they are mourning this case, why not the other one? Otherwise, there will be cases worse than the case you mentioned, and some will say why are you not mourning the other case which is worse.
 
Last edited:

1234567

Minister (2k+ posts)
ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق صرف اور صرف امیروں کے ہیں.
You are right, in our society rights are only for whores, kanjers, drug addicts and looters. There are no rights for for normal hard working human beings because they dont use twitter, facebook, Instagram or any other social media.
 

HIDDEN

Minister (2k+ posts)
Sometimes cases of very poor people also get lots of media attention. I am talking about the Zainab case She did not belong to a rich family. That case got more media attention than any other rape and murder case. Even PM thought about changing the law so public hanging could be introduced. Fast justice was delivered and the accused was hanged in a year. Why so much media attention for a case of a poor girl? In Pakistan many girls are raped every month, then Why Zainab case got so much priority?
I have mentioned the same.. sometimes.

By the way, what happened to the people who raped hundreds of children in Qusur?
 

HIDDEN

Minister (2k+ posts)
But according to the police investigation she was kidnapped. She tried her best to give ransom money to Zahir to escape but she couldn't escape.
I have heard a different story.. Do you think Zahir would kidnap for the sake of 700,000 Rs?
 

knowledge88

Chief Minister (5k+ posts)
I have mentioned the same.. sometimes.

By the way, what happened to the people who raped hundreds of children in Qusur?
That is my point, child rape is not rare in Pakistan, then why Zainab case got so popular. According to your logic, her case shouldn't have become popular because she did not belong to a rich family.
 

knowledge88

Chief Minister (5k+ posts)
I have heard a different story.. Do you think Zahir would kidnap for the sake of 700,000 Rs?
According to the Police investigation, she constantly tried to escape from him. and was unable to do so. The money could be ransom. Why 700,000, why not & carore, we will find out through investigation. This is my point, Leave Noor alone. There are crimes all over Pakistan and in the world. Some cases get media attention, some don't. Nothing to do with the richness of the accused. I gave you an example of Zainab.
 

HIDDEN

Minister (2k+ posts)
According to the Police investigation, she constantly tried to escape from him. and was unable to do so. The money could be ransom. Why 700,000, why not & carore, we will find out through investigation. This is my point, Leave Noor alone. There are crimes all over in Pakistan and in the world. Some cases get media attention, some don't. Also, people have a weak memory, soon they forget about the cases which become popular in media.
Almost a year ago i.e. on the 29th of July 2020, Khalid Khan killed a blasphemy accused in the Peshawar court,

What happened in this case? No media covered it. Did Khalid Khan get the death penalty? Did he get away from capital punishment?

This was the news all over the world on the 30th of July 202

A man accused of blasphemy in Pakistan has been shot dead in a courtroom during his trial in the northern city of Peshawar.

What happened in this popular media case, none knows.
Not just that, what happened to Model Town case, what happened to Sahiwal Case? What happened to Qusur's Children rape case?
 

knowledge88

Chief Minister (5k+ posts)
Not just that, what happened to Model Town case, what happened to Sahiwal Case? What happened to Qusur's Children rape case?
If we are discussing Justice in Pakistan, then I am 100percent with you. there is no Justice for the poor in Pakistan. If you had started this thread with the notion that Justice is only given to the rich and the rich get away from murder in Pakistan then I would have fully agreed with you.

But you started the thread " Hamara Muashra " , you are criticizing the common men and women for taking interest in the Noor case. Here I disagreed with you.

You are mentioning Model Town case and Sahiwal Case.
No, there is a separate law for the rich in this country. We have not forgotten Shah Zab and Shahrukh Jatoi case. Also recently son of a senior lawyer got away from attempting murder and has been released from prison and I won't be surprised if Zahir also gets away from the death penalty on the assumption that he had scrisophenia.
 

HIDDEN

Minister (2k+ posts)
But you started the thread " Hamara Muashra " , you are criticizing the common men and women for taking interest in the Noor case. Here I disagreed with you.
Muashra hi tou qanoon aur hukumraan banata hai mere bhai. Iss liey likha..

Anyway.. if you agree with one part of my post, even then I am satisfied that I was successful in delivering the msg across.
 

knowledge88

Chief Minister (5k+ posts)
Muashra hi tou qanoon aur hukumraan banata hai mere bhai. Iss liey likha..

Anyway.. if you agree with one part of my post, even then I am satisfied that I was successful in delivering the msg across.
Well everyone is entitled to their opinion, no one can disagree that in Pakistan law is for the rich and powerful. Thank you for having a meaningful debate.
 

Citizen X

President (40k+ posts)
What disgusts me is why our sick "hamara mashara" thinks anyone who does not dress like a tent, stays imprisoned behind 4 walls is a whore and deserves to die!

It really and truly is disgusting.
 

knowledge88

Chief Minister (5k+ posts)
What disgusts me is why our sick "hamara mashara" thinks anyone who does not dress like a tent, stays imprisoned behind 4 walls is a whore and deserves to die!

It really and truly is disgusting.
I made the same point in my response above.
 
Sponsored Link