ہتک عزت بل پر پیپلزپارٹی کا ہمارے ساتھ میچ فکسڈ تھا،حنیف عباسی

adiahza111.jpg


مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نےبجٹ،ہتک عزت بل پر پیپلزپارٹی کےفکسڈمیچ سےپردہ اٹھادیا,نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہتک عزت بل پر پیپلزپارٹی ہم سےملی ہوئی تھی گورنرطےکرکےباہرگئے،بجٹ بھی انکی مرضی سےبنا،

انہوں نے کہا یہ ماسی ویہڑہ نہیں آپ عہدے بھی لیں اوراسٹیک ہولڈر بھی نہیں،اتحادی پیپلزپارٹی کی مجبوری ہے ن لیگ کی نہیں،ایسےکشتی پارنہیں چڑھ سکتی، پیپلزپارٹی کوجب موقع ملاوہ ضائع نہ کرےگی.
https://twitter.com/x/status/1803678974834295203
ان کا مزید کہنا تھا کہ فضل الرحمان،محموداچکزئی کچھ توانکے اصول ہونےچاہیے،جس طرح عمران خان نےانکی نقلیں اتاریں،جو کچھ کہا،کم ازکم اس سےپہلےمعافی تومنگوا لیتے،دونوں اسکی جھولی میں جاکربیٹھ گئے،مولانا کو یہودی ایجنٹ والی بات پر کھڑا رہنا چاہیےتھا،یہ نہیں کہہ سکتے کہ سیاسی بات تھی
https://twitter.com/x/status/1803693407367291006
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو جیل سےباہر اتا نہیں دیکھ رہا،چاہےجتنی مرضی انکی سہولت کاری ہوجائے لیکن وہ کسی صورت بھی باہر نہیں ائیں گے،ابھی تو توشہ خانہ 2 عمران خان کےلیےبڑا سرپرائز ہوگا،

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی اب فیصلہ کرلیں،یا تووزارت داخلہ رکھ لیں یا چیرمین پی سی بی بنیں،انکو چاہیےکہ یہ ہمارےشہداٗ کےمتعلق بتائیں اورحکومت کا دفاع کریں، پوری کرکٹ ٹیم ہی سفارشی تھی،کوئی جذبہ نہیں ماسوائےنسیم شاہ کے۔یہ صرف ماڈلنگ کرسکتےہیں،اعظم خان تورسہ کشی کی ٹیم میں ہوناچاہیے
https://twitter.com/x/status/1803690234355372256
ہتک عزت بل 2024 بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی،غیرحقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکےگا,یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پربھی بل کا اطلاق ہوگا۔

ذاتی زندگی،عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کیلئے پھیلائی جانے والی خبروں پر بھی کارروائی ہو گی۔ہتک عزت کےکیسز کیلئے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ 6 ماہ میں فیصلہ کرنےکے پابند ہوں گے۔ہتک عزت بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہو گا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائی کورٹ بینچ کیس سن سکیں گے۔


8 جون کو قائم مقام گورنر پنجاب ملک احمد خان نے ہتک عزت کا بل منظور کرتے ہوئے دستخط کیے تھے۔24 مئی کو پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر نے پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو مزید مشاورت اور نظرثانی کے لیے اسمبلی میں واپس بھیجنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
https://twitter.com/x/status/1803664063311835243 https://twitter.com/x/status/1803747089492689022
 
Last edited by a moderator: