گھر کے اندر جلتی ہوئی آگ چھوڑ نے کی ممانعت

Amal

Chief Minister (5k+ posts)

گھر کے اندر جلتی ہوئی آگ چھوڑ نے کی ممانعت

سوتے وقت یا اس طرح کے کسی اور وقت گھر کے اندر جلتی ہوئی آگ کی چھوڑ نے کی ممانعت ،خواہ وہ چراغ کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں ۔


حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: تم سوتے وقت اپنے گھروں میں جلتی ہوئی آگ نہ چھوڑا کرو۔ (متفق علیہ) بخاری (/۸۵۱۱۔ فتح)و مسلم (۲۰۱۵) ۔

حضرت ابو موسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک گھر رات کے وقت اپنے گھر والوں سمیت جل گیا ، جب رسول اللہﷺ کو ان کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے ،پس جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔ (متفق علیہ) حدیث نمبر (۱۶۱) ۔


حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو، مشکیزہ کا منہ بند کرو، دروازہ بند کر دیا کرو اور چراغ بجھا دیا کرو،اس لیے کہ شیطان (بند)مشکیزے کو (بند) دروازے کو اور (ڈھکے ہوئے)برتن کو نہیں کھولتا ،اگر تم سے کسی کوئی چیز نہ ملے وہ اس کی چوڑ آئی میں ایک لکڑ ی ہی رکھ دے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے ،اس لیے کہ ایک چوہا بھی گھرکو گھر والوں سمیت جلا دیتا ہے۔ بخاری (/۸۵۱۱۔ ۸۷۔ فتح) مسلم (۲۰۱۲)۔

دائیں سے استنجا کرنے کی کراہت ۔

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ سے شرم گاہ کو پکڑے نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ہی برتن میں سانس لے۔ (متفق علیہ۔ اور اس باب میں بہت سی صحیح احادیث ہیں) بخاری (/۲۵۳۱۔ ۲۵۴۔ فتح)و مسلم (۲۶۷)۔

أُعِيذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
صحیح بخاری:3371، سنن ترمذی:2060،

میں تم کو اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔


12931159_1283811734965509_2818411144903715914_n.jpg