کیا ہارون رشید کا جنرل باجوہ کو جنرل ڈائر سے ملانا درست ہے؟

Kashif Rafiq

Chief Minister (5k+ posts)

ہارون رشید نے بہت سخت بات کی ہے، جنرل ڈائروہ شخص تھا جس نے جلیانوالہ باغ امرتسر میں 500 سے زائد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا اور تقریبا 1500 کے قریب لوگوں کو زخمی کردیا تھا

جنرل ڈائر کو اسی جلیانوالہ میں قتل ہونیوالی فیملی کے بچے اودھم سنگھ نے جوان ہوکر لندن جاکر قتل کیا تھا، وہ اس قتل وغارت میں زندہ بچ گیا تھا۔ قتل کے بعد اودھم سنگھ آزاد کو پھانسی دیدی گئی تھی







 
Last edited by a moderator:

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
یہ تو ڈائر سے بڑا لعنتی بے غیرت نسل کا مجرم ہے اس قوم کا ملک کا فوج کا مجرم چوروں ڈاکوؤں لٹیروں منی لانڈروں کو دوبارہ لوٹ مار کے لئے مسلط کرنے والا نطفہ حرام اس نے اپنے پورے ٹبر کو ارب پتی بنادیا اور چوروں ڈاکوؤں کو کلین چٹ دینے کی نطفہ حرامی کے بدلے خود بھی اربوں ڈالر کے فائدے اٹھاکر ملک کو بینک کرپسی کے دھانے پر پہنچاکر عوام ُاور فوج میں نفرت پھیلانے جیساگھناؤناجرم جیسی غداری اور نطفہ حرامی کی
جنرل ڈائر نے جو بھی جنگی جرائم کئے وہ انگلستان کی حکومت کے بظاہر فائدے کو مدنظر رکھ کر اور انگلستان کی حمایت میں کئے مگر باجوے بے غیرت نے جو جنگی جرائم کئے وہ چوروں ڈاکوؤں لٹیروں منی لانڈروں منشیات فروشوں ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں اور اپنی نطفہ حرامی اور خاندانی لوٹ مار قائم رکھنے کے لئے کئے اس لئے ڈائر نے جو کیا وہ اپنے حساب سے اپنے ملک کی حمایت اور بہتری کے لئے کیا باجوے ارب پتی نو دولتئے ٹبر نے جو کیا وہ چوروں ڈاکوؤں اور اپنے ٹبر کے لئے اور ملک کے خلاف کیا عوام کے خلاف کیا فوج کے خلاف کیا
 

Eagle-on-the-green

Senator (1k+ posts)
جنرل جنرل ہوتا ہے.... ڈائر ہو یا باجوہ
عوام اور ھکومت سے تو نہیں ڈرتا لیکن بیوی اور امریکہ سے ضرور ڈرتا ھے۔۔غالبا” ۱۹۹۴ کی بات ھے۔ایک پٹھان جرنل کو پرائیویٹ گاڑی میں مزنگ لاھور میں ناکے پر سب انسپیکٹر نے روکا۔ پلسیا نشے میں دھت تھا۔جرنل نے کہا میں جرنل ھوں۔ نہیں دکھاتا۔ بات بڑھی اور انسپکٹر ان کو تھانے لے آیا۔تھانے میں آ کر۔ پلسیۓ نے محرر سے کہا۔ لکھ اؤۓ میجر فلانا مظالبے پر گاڑی کے کاغذ دکھانے سے انکاری ھے۔ جرنل نے ٹوکا میں میجر نہیں میجر جرنل ھوں۔ پلسیۓ نے بڑھک لگاٰ ئ ۔اؤۓ نال جرنل وی کیخ لے۔۔جب صبح ھؤئ اور نشہ اترا تو پتہ چلا کہ انسپکٹر صاحب نوکری سے برخاست ھو چکے تھے۔ نتیجہ یہ کہ اپنے سے اوپر والے کو کو نشے میں انگل نہیں کرنی چاحیۓ۔
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
عوام اور ھکومت سے تو نہیں ڈرتا لیکن بیوی اور امریکہ سے ضرور ڈرتا ھے۔۔غالبا” ۱۹۹۴ کی بات ھے۔ایک پٹھان جرنل کو پرائیویٹ گاڑی میں مزنگ لاھور میں ناکے پر سب انسپیکٹر نے روکا۔ پلسیا نشے میں دھت تھا۔جرنل نے کہا میں جرنل ھوں۔ نہیں دکھاتا۔ بات بڑھی اور انسپکٹر ان کو تھانے لے آیا۔تھانے میں آ کر۔ پلسیۓ نے محرر سے کہا۔ لکھ اؤۓ میجر فلانا مظالبے پر گاڑی کے کاغذ دکھانے سے انکاری ھے۔ جرنل نے ٹوکا میں میجر نہیں میجر جرنل ھوں۔ پلسیۓ نے بڑھک لگاٰ ئ ۔اؤۓ نال جرنل وی کیخ لے۔۔جب صبح ھؤئ اور نشہ اترا تو پتہ چلا کہ انسپکٹر صاحب نوکری سے برخاست ھو چکے تھے۔ نتیجہ یہ کہ اپنے سے اوپر والے کو کو نشے میں انگل نہیں کرنی چاحیۓ۔

???
اعلیٰ، اعلیٰ......... نہایت اعلیٰ
 
Sponsored Link