کیا مریم اورنگزیب نے فوادکے ٹویٹ پر صحافیوں کو وٹس ایپ کرکے مذمت کروائی؟

fawaahahisahas.jpg

کیا مریم اورنگزیب نے فوادچوہدری کے ٹویٹ پر صحافیوں کو وٹس ایپ کرکے مذمت کروائی؟

گزشتہ روز فوادچوہدری نے ٹویٹ کیا تھا کہ نون لیگ والے اتنے احمق ہیں اور غیر سنجیدہ ہیں جو تحریک انصاف کےاتنے بڑے اجتماعات کا جواب ایک ایسی خاتون سے دلواتے ہیں جو کبھی کونسلر کا الیکشن نہیں لڑ سکتی۔

انکا مزید کہناتھا کہ بازاری زبان ہونا یا بازاری ہونے سے بیانیہ نہیں بنتا اس کیلئے بہت سوچ اور ٹیم چاہئے ٹی وی پر پابندی لگا کر بیانیہ نہیں بنتا

فوادچوہدری کے اس ٹویٹ پر ن لیگ کے کیمپ کے صحافی فوادچوہدری پر چڑھ دوڑے جن میں عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، منیب فاروق اور دیگر صحافی شامل تھے۔ان صحافیوں کے ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا تھا کہ مریم اورنگزیب جو عمران خان سے متعلق گھٹیا زبان استعمال کرتی ہیں اور تھپڑمارنے کی بات کرتی ہیں اس پر تو انہوں نے کچھ نہیں بولا جبکہ یہ صحافی فوادچوہدری پر برس رہے ہیں۔

یادرہے کہ گزشتہ روز مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ عمران خان کے دس نکاتی ایجنڈ پر انہیں دس چپیڑیں پڑنی چاہئیں۔

اس پر صحافی عدیل راجہ نے مریم اورنگزیب کے مبینہ وٹس ایپ اکاؤنٹ کا ایک سکرین شاٹ شئیر کرکے دعویٰ کیا ہے کہ مریم اورنگزیب صحافیوں کو وٹس ایپ کرکے کہہ رہی ہیں کہ فوادچوہدری کے ٹویٹ کی مذمت کریں۔

اس سکرین شاٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مریم اورنگزیب نے فوادچوہدری کے ٹویٹ کے مخصوص حصے " بازاری زبان ہونا یا بازاری ہونے سے بیانیہ نہیں بنتا" کو ہائی لائٹ کررکھا ہے۔

فوادچوہدری نے اس پر طنزیہ جملے بازی کرتے ہوئے کہا کہ وٹس ایپ پر حکم۔۔
 

yaar 20

MPA (400+ posts)
حکومت ملنے پر۔ اور کسی کو سزا دیں یا نہ دیں۔۔ اس کرلی کے منہ والی باندری ۔اور رانے ثنا اللہ بھین ۔۔۔چ و ۔۔کی ماں کی ضرور لن دیں ۔۔۔۔۔ی
 
Sponsored Link