کچے میں ڈاکوؤں کو اسلحہ کو فراہم کر رہا ہے؟ سندھ پولیس کی تحقیقات شروع

bahal11h1h.jpg


ملک بھر میں کچے کے ڈاکوئوں کی بڑھتی ہوئی کارروائی کے بعد آخرکار سندھ حکومت بھی حرکت میں آ ہی گئی! کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کو اسلحہ کون فراہم کر رہا ہے؟ صوبہ سندھ کی پولیس نے اس حوالے سے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سندھ کی طاقتور ترین شخصیات بلوچستان سے اسلحہ خریدتی ہیں اور وہاں سے اسلحہ پولیس پروٹوکول میں سندھ پہنچتا ہے۔ شکارپور کے کچے کے ڈاکوئوں سمگل شدہ اسلحہ نصیر آباد اور ڈیرہ مراد جمالی سے دیا جاتا ہے۔

جیکب آباد کے علاقے سے طاقتور شخصیات کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے ایس ایم جی، ایل ایم جی، جی تھری اور اڑھائی ہزار سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ جیکب آباد پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت غیرقانونی اسلحے کی ترسیل کا مقدمہ 19/2024 تھانہ مولاداد میں درج کر لیا ہے جس کے مطابق جیکب آباد پولیس نے سندھ بلوچستان بارڈر کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔

مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں پولیس موبائل اور ایک ڈبل کیبن گاڑی تحویل میں لی گئی تھی جس میں اسلحے کی ترسیل پولیس پروٹوکول میں کی جا رہی تھی۔ کارروائی میں اسلحہ برآمدگی کے علاوہ 7ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے 3 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

شکارپور جیکب آباد پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل SPN--375 کا ریکارڈ میں موجود ہے اور یہ مشیر وزیراعلیٰ سندھ بابل بھیو کے استعمال میں تھی۔ پولیس موبائل ملزموں کے پاس کیسے پہنچی اور اسے اسلحے کی ترسیل کیلئے کیسے استعمال کیا گیا اس بارے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کر دی گئی ہے۔

ایس ایس پی جیکب آباد سلیم شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ اسلحہ شکارپور میں کچے کے ڈاکوئوں کو پہنچایا جا رہا تھا کہ صوبے میں بدامنی کو فروغ دیا جا سکے۔ اسلحے کی ترسیل کا ماسٹرمائنڈ اختیار لاشاری نامی اسلحہ ڈیلر کو قرار دیا گیا ہے جس کا کرمنل ریکارڈ موجود ہے اور اس کے خلاف ضلع شکارپور کے گرھی یٰسین تھانے میں 4 سے زیادہ مقدمے درج ہیں۔

سلیم شاہ کے مطابق پولیس موبائل اور 2 گاڑیوں میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے 7 ملزم گرفتار ہوئے لیکن مشیر وزیراعلیٰ سندھ بابل بھیو کے صاحبزادے گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ گرفتار ملزموں میں سندھ کی اہم سیاسی شخصیت کے رشتے دار نبیل بھیو، اختیار علی لاشاری، توفیق احمد گجر اور ذاکر بھیو شامل ہیں جبکہ پولیس موبائل انچارج امتیاز علی بھیو، بقاء اللہ اور ثناء اللہ بھی گرفتار کیے گئے۔

واضح رہے کہ جیکب آباد پولیس نے سندھ وبلوچستان بارڈر کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر کے استعمال ڈبل کیبن گاڑی قبضہ میں لی تھی جس میں سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جیکب آباد پولیس نے اسلحے کی برآمدگی کے بعد پریس کانفرنس کرنی تھی مگر پولیس موبائل کی شناخت سامنے آنے اور سیاسی مداخلت کے بعد ملتوی کر دی گئی۔