کوئٹہ کے ننھے ٹک ٹاکر ابوبکر کیلئے اپنی ہی ویڈیوز پریشانی کاسبب بن گئیں

abubakrh11.jpg

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا 5 سالہ ٹک ٹاکر ابوبکر ان دنوں سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے اس کی بنائی گئی ٹک ٹاک ویڈیوز کچھ ہی لمحوں میں وائرل ہوجاتی ہیں، ابوبکر کی ٹک ٹاک ویڈیوز کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ویڈیوز میں لڑکی اور لڑکا بن کر ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے والد یا کسی اور کیساتھ بیٹھے نظرآتےہیں۔

زیادہ تر ابوبکر کی ویڈیوز طنزو مزاح اور سماجی برائیوں کی روک تھام سے متعلق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ ابوبکر کی اداکاری کو انتہائی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔والد کے مطابق بچے کی عمر 5 سال کے قریب ہے اور ٹک ٹاک کے قواعد و ضوابط ہیں، جس کے تحت کم عمر بچے ٹِک ٹاک استعمال نہیں کرسکتے

انکے مطابق اس مسئلے کا حل انہوں نے اس طرح نکالا ہے کہ میں ابوبکر کے پیچھے ایک دوسرا شخص بٹھا دیتا ہوں تا کہ ویڈیو ٹک ٹاک رولز کی خلاف ورزی میں نہ چلی جائے۔

صرف 9 ماہ کے عرصے میں ہی ابوبکر کے ٹک ٹاک پرفالورز کی تعداد 4ملین سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ابوبکر کے لاکھوں فالورز ہیں، سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے بعد ابوبکر کی آمدن لاکھوں میں ہے جسے دیکھ کر انہوں نے ٹک ٹاک ویڈیوز کو ہی اپنی کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے لیکن یہی ٹک ٹاک ویڈیوز انکے لئے پریشانی کا سبب بھی بن گئی ہیں۔

ابوبکر والد نے بتایا کہ پہلے جب انہوں نے ویڈیوز بنانا شروع کیں تو گھر والوں کے ساتھ گلی محلے میں بھی انہیں اور ان کے بچوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ابوبکر کے والد کے مطابق چند روز قبل محلے کی ایک دکان پر ابوبکر سودا سلف لینے گیا جہاں چند نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانے پر نا صرف ابوبکر کو برابھلا کہا اور مذاق اڑایا بلکہ قینچی سے اس کے بال بھی کاٹ دئیے جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا ہے۔

ابوبکر کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو اہل خانہ کی جانب سے پولیس میں رپورٹ نہیں کیا گیا۔ وہ جہاں رہتے ہیں وہ ایک پسماندہ اور بہت حد تک قبائلی علاقہ ہے اور پولیس سے کوئی امید نہیں کیونکہ پولیس بھی شاید سوشل میڈیا کے اس سلسلے کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

والد نے مزید بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ابوبکر کو گھر سے باہر نکلنے پر منع کردیا گیا ہے اور کچھ عرصے کے لیے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیوز بنانے سے منع کر دیا ہے۔
 
Sponsored Link