کمینہ صفت لوگ

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
کمینہ صف لوگ

آئیے آپکو کمینہ صفت لوگوں کی پہچان کرواتا ہوں بات
ہو گی لبرٹی چوک میں عورت کو بال سے گھسیٹنے کی جواب آۓ گا مریم نواز نیب میں گئ تھیں

بات ہو گی عثمان ڈار کی ضعیف والدہ کو ریپ کی دھمکی کی جواب آۓ گا مریم نواز جیل گئ تھیں

بات ہو گی جیل میں خاتون سے ریپ کرنے کی جواب آۓ گا مریم نواز نے جیل میں باتھ روم صاف کیا تھا

یہ کمینہ صف لوگ صرف ایک جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ اس میں آپکو نفرت کے خمیر سے اٹھے سرخ پوش دکھائ دیں گے۔ اس میں آپکو حسد کی آگ میں جلتے باریش علما دکھائ دیں گے۔ اس میں آپکو جہل کی کوکھ جنم لئیے ہوۓ سطحی لوگ دکھائ دیں گے اور دکھائ دے گا اداروں کا چاپلوس کم ظرف طبقہ بھی۔ یہ بغض کی ہنڈیا میں تیار ہوئ ترکاری ہے جسے انا کی آگ پر پکا تقسیم کیا جا رہا ہے یہ کمینہ صفت لوگ کانٹے کا تقابل قتل سے کرتے ہیں ۔۔ مہنگائ مارچ پہلے بھی ہوۓ تھے اسلام آباد پر چڑھائ پہلے بھی ہوئ تھی شہر شہر جلسے پہلے بھی ہوۓ تھے ہوۓ تھے نا؟ تو بتائیے کتنے گھروں میں آدھی رات پولیس کے چھاپے مارے گئے تھے؟ کتنے سیاسی کارکنوں کو راہ چلتے اٹھا لیا گیا تھا؟ کتنے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فون کر کے دھمکاۓ گئے؟ کتنی خواتین کی سرِ راہ تذلیل کی گئ تھی؟ کتنی بزرگ خواتین کو ریپ کی دھمکیاں دی گئیں؟ کتنی خواتین کو سروں پر کالے کپڑے لپیٹ کر پیش کیا گیا؟ ارشد شریف کے جسم کو چاقو سے کاٹا، اس کے ناخن اکھیڑے اور پھر نیم مردہ جسم کو گولی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کیا پہلے کبھی ایسا ہوا تھا؟ جواب آۓ گا فلاں صحافی کو ایک ایجنسی نے تھپڑ مارے تھے۔ کیا تھپڑ اور نفرت انگیز قتل برابر قرار پاۓ گا؟ لیکن پھر وہی کمینہ صفت لوگ اور وہی انکے جواز ۔۔ کہتے ہیں عذر گناہ بتر از گناہ! لیکن یہ کمینہ صفت لوگ ہیں ان سے کیا شکوہ۔۔ ایسے لوگوں کا یہی شیوہ ہوا کرتا ہے
 

Shehbaz

Senator (1k+ posts)
FxQUnGwWYAEz-4T
 

Melanthus

Chief Minister (5k+ posts)
کمینہ صف لوگ

آئیے آپکو کمینہ صفت لوگوں کی پہچان کرواتا ہوں بات
ہو گی لبرٹی چوک میں عورت کو بال سے گھسیٹنے کی جواب آۓ گا مریم نواز نیب میں گئ تھیں

بات ہو گی عثمان ڈار کی ضعیف والدہ کو ریپ کی دھمکی کی جواب آۓ گا مریم نواز جیل گئ تھیں

بات ہو گی جیل میں خاتون سے ریپ کرنے کی جواب آۓ گا مریم نواز نے جیل میں باتھ روم صاف کیا تھا

یہ کمینہ صف لوگ صرف ایک جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ اس میں آپکو نفرت کے خمیر سے اٹھے سرخ پوش دکھائ دیں گے۔ اس میں آپکو حسد کی آگ میں جلتے باریش علما دکھائ دیں گے۔ اس میں آپکو جہل کی کوکھ جنم لئیے ہوۓ سطحی لوگ دکھائ دیں گے اور دکھائ دے گا اداروں کا چاپلوس کم ظرف طبقہ بھی۔ یہ بغض کی ہنڈیا میں تیار ہوئ ترکاری ہے جسے انا کی آگ پر پکا تقسیم کیا جا رہا ہے یہ کمینہ صفت لوگ کانٹے کا تقابل قتل سے کرتے ہیں ۔۔ مہنگائ مارچ پہلے بھی ہوۓ تھے اسلام آباد پر چڑھائ پہلے بھی ہوئ تھی شہر شہر جلسے پہلے بھی ہوۓ تھے ہوۓ تھے نا؟ تو بتائیے کتنے گھروں میں آدھی رات پولیس کے چھاپے مارے گئے تھے؟ کتنے سیاسی کارکنوں کو راہ چلتے اٹھا لیا گیا تھا؟ کتنے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فون کر کے دھمکاۓ گئے؟ کتنی خواتین کی سرِ راہ تذلیل کی گئ تھی؟ کتنی بزرگ خواتین کو ریپ کی دھمکیاں دی گئیں؟ کتنی خواتین کو سروں پر کالے کپڑے لپیٹ کر پیش کیا گیا؟ ارشد شریف کے جسم کو چاقو سے کاٹا، اس کے ناخن اکھیڑے اور پھر نیم مردہ جسم کو گولی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کیا پہلے کبھی ایسا ہوا تھا؟ جواب آۓ گا فلاں صحافی کو ایک ایجنسی نے تھپڑ مارے تھے۔ کیا تھپڑ اور نفرت انگیز قتل برابر قرار پاۓ گا؟ لیکن پھر وہی کمینہ صفت لوگ اور وہی انکے جواز ۔۔ کہتے ہیں عذر گناہ بتر از گناہ! لیکن یہ کمینہ صفت لوگ ہیں ان سے کیا شکوہ۔۔ ایسے لوگوں کا یہی شیوہ ہوا کرتا ہے
یہ حرامی دلے ہیں