کرکٹ ٹیم سدھارنے کے لئے میری چند تجاویز

oscar

Minister (2k+ posts)

پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ ہار چکی ہے، اور موجودہ حالات میں اسکی کارکردگی میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہےجب تک مناسب اقدامات نہ کئے جائیں۔
کرکٹ ٹیم کو سدھارنے کے لئے میری چند تجاویز درج ذیل ہیں۔ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ تعمیری تنقید اور مزید مثبت تجاویز اسی تھریڈ پر جمع کریں


نجم سیٹھی، شہریار اور ان جیسے سفارشی گندے انڈوں کو کرکٹ بورڈ سے باہر پھینکا جائے
ملٹری اکیڈمی کی طرز پر ایبٹ آباد میں مستقل کرکٹ اکیڈمی بنائی جائے۔ تاکہ آف سیزن گرم موسم میں بہترین ٹریننگ ہو سکے
اس اکیڈمی میں پاکستان بھر سے60-50 گنے چنے باؤلر اور بیٹسمین مستقل رہیں جن کو اوپن میرٹ اور اوپن ٹرائلز کی بنیاد پر پاکستان بھر سے شفاف طریقے سے چنا جائے
فائینل گیارہ کھلاڑی صرف اکیڈمی کے ممبرز سے چنے جائیں جبکہ وہ اکیڈمی میں کم از کم ایک سال گزار چکے ہوں اور رینکنگ میں ٹاپ پر رہیں۔
کھلاڑی اس وقت تک ٹیم میں رہ سکے گا جب تک وہ اکیڈمی کا مستقل ممبر ہے۔
اکیڈمی میں داخل ہر کھلاڑی کی مستقل ٹنڈ کی جائے تاکہ اسےسپر سٹار شپ، انٹرویوز،لڑکیوں، اشتہاروں اور سیلفیوں کا خیال نہ آئے۔
انٹرنیٹ اور موبائل فون پر پابندی ہو۔ وقت پر سونے اور جاگنے کی پابندی ہو۔
سوائے انٹرنیشنل میچز کے، کھلاڑیوں کو اکیڈمی سے باھر نکلنے کی اجازت نہ ہو۔ مہینے میں ایک آدھ آوٹ پاس کی اجازت ہو۔
ماھرین کی تجویز شدہ خوراک دی جائے۔
کھلاڑیوں کو بولنے، اٹھنے بیٹھنے، گیم پلاننگ اور کھیل میں نت نئی تبدیلیوں سے آگاہ رکھنے کے لئے مستقل کلاسز ہوں۔
آرمی فٹنس سکول کے بہترین انسٹرکٹر انکی ان ڈور اور آوٹ فزیکل ٹریننگ کروائیں، اور ڈسپلن کی کسی بھی خلاف ورزی پر باھر نکال پھینکیں۔
ہفتے میں پانج دن چھ گھنٹے تک بیٹنگ،باؤلنگ اور فیلڈنگ کی پریکٹس ھو۔
اکیڈمی میں 20 پریکٹس نیٹ، 20 باؤلنگ مشینیں، ایکسرسائز جم، قابل انسٹرکٹر اور مناسب سپورٹنگ سٹاف ہو۔
اکیڈمی میں متعدد گراؤنڈز، پچز اور عالمی معیار کی کٹس اور سٹیڈیم فراھم کیا جائے۔
اکیڈمی کے کھلاڑیوں سے 3-2 ٹیمیں بنا کر ہر ہفتے میں ایک دفعہ ان کے پریکٹیس میچ کروائے جائیں جنہیں عوام مفت دیکھ سکیں۔
ٹریننگ سیشنز کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جائے، جس کی بنیاد پر ٹاپ بیٹسمین بالر اور وکٹ کیپر کو انٹرنیشنل ٹیم میں رکھا جائے۔
ٹیم میں کارکردگی کو مستقل مانیٹر کیا جائے، اور خراب کھیلنے والے کو واپس کیمپ بھیج کر اگلے بہترین کھلاڑی کو موقع دیا جائے
کوئی کھلاڑی اگر اس سخت زندگی سے خوش نہیں تو اسے شکریے کےساتھ واپس بھیج کر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔
 
Last edited:

SAIT_

Senator (1k+ posts)
ان تجاویز پر عمل کرنے سے آپ ایک اچھا پولٹری فارم تو بنا سکتے ہیں لیکن اچھی ٹیم نہیں -مثلا" مرغیوں کو ٹھیک خراک دیں - انکو اچھا موسم فراہم کریں - جو مرغی انڈے نا دے یا جسکی گروتھ ٹھیک نا ہو اسے پولٹری فارم سے باہر پھینک دیں -


کرکٹ ٹھیک کرنی ہے تو اپنے بچوں کو کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے سے اٹھا کر میدان میں بھیجو - گراس روٹ لیول سے اگر ٹیلینٹ نہیں آئے گا تو ایسی ہزار اکیڈمیاں بھی فضول ہیں
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
آج ایک انگلش فلم دیکھی ہے
Maze Runner!
میرے خیال میں اس جیسی ٹریننگ کرنی چاہیے
 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
اس اکادمی کے بعد یہ ملک پر مارشل لاء لگا دیں گے ، پھر کسی کے قابو نہیں آئیں گے ، ان کو رینک بھی دینا پڑھے گا ، یہ کون دیگا ؟؟


اس کا ایک ہی حل ہے ، آزاد اور خود مختار ادارہ ، مداخلت سے پاک ، صرف میریٹ ، ہا کی قومی کھیل ہے اس کا حال تو سب نے دیکھ لیا ہے
 
جب تک پاکستان میں حالات بہتر نہیں ہوتے ہم وہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے ہیں یعنی کے کارکردگی میں تسلسل پھر بھی کچھ کوشش کر کے کرکٹ میں مقام اپنا بلند کیا جا سکتا ہے اور خدشہ ہے کے بنگلادیش کی طرح کسی بھی وقت افغانستان بھی ہم سے جیتنا شروع نہ کر دے
سب سے پہلے جدھر جدھر پرانے گراونڈز پر سکول نجی ہسپتال شادی ہال پلازے اور دوسری عمارتیں بنی ہیں ان کے مالکوں سے مختلف علاقوں میں گراونڈز بنواے جایں اگر نہیں دیں تو ان کی پراپرٹیوں کو سیز کر کے حکومت یا شہری انتظامیہ اس پر عمل درآمد کر واے
بوگس کلوبوں کا خاتمہ کیا جاے جس طرح کراچی میں اور خاص طور پرلاہور میں زمان فیملی کی بدمعاشی ہوتی تھی اس کو ختم کیا جاے اور کلبوں کا باقاعدہ آڈٹ کیا جاے اور دیکھا جاے کے انہوں نے کتنے میچز سیزن میں کھیلے ہیں ورنہ ان کو ختم کیا جاے
انٹر سکول اور انٹر کالجز کی سطح پر کرکٹ کو فروغ دیا جاے اور مخیر حضرات جیسا کےبحریہ والا نوٹ دیتا پھرتا ہے اس سے اور باقی لوگوں سے مل کر شہروں میں گراونڈز بنواے جایں اور ان کی دیکھ بھال بھی ان ہی سے کر وائی جاے
ہر سال سکولز اور کالجز کی سطح کی ٹیموں کا اپنے صوبے میں جیتنی والی ٹیموں سے مقابلہ کر وایا جاے اگر ممکن نهیں تو کم از کم کالجز کی سطح پر ہی یہ کام کیا جاے اورہر صوبے سے تین چار ٹیمیں ٹورنامنٹ کھیلیں
یہ جو طریقہ استمعال کیا جاتا ہے کے سفارش پر نیٹ میں بلا کر اس کو کھلا دیا جاے اس کی بجاے اس کی باقائدہ تربیت کی جاے ہر صوبہ اپنے خرچے پر ٹیموں کو اگر آسٹرلیا انگلینڈ نہیں تو سری لنکا ساوتھ افریقہ بھارت بنگلہ دیش ویسٹ انڈیز میں ٹور کر واے اور ان کی فیس معاف کی جاے اور ان کو خرچہ بھی دیا جاے
علاقائی سطح پر کرکٹ کو فروغ دیا جاے
بورڈ میں نا اہل لوگوں کو نکالا جاے جو کے سفارش کی بنیاد پر موجود ہیں
سیمنٹ کی پچوں کی بجاے باقاعدہ ٹرف وکٹ بنائی جائیں اور ان کے لیے باقاعدہ خیال رکھا جاے کے ہر سیزن میں ایک پچ پر اتنے میچز کے علاوہ اس کا استمعال نہ ہونے پاے
وقت کی قلت کی بنا پر اس کو یہیں ختم کرتا ہوں پران سب تجاویز جو آپ سب دے رہے ہیں ان پر عمل تب ہی ممکن ہے کے ہم افغانستان کو پانچواں صوبہ یا چھٹا بنانے سے توبہ کریں جہاد جہاد کی رٹ لگانے کی بجاے ملک کے اندر امن لائیں تو بہت کچھ ممکن ہے بہت سارے ٹیلینٹڈ کھلاڑی صرف توجہ نہ ملنے پر مایوس ہو کر غلط عادتوں میں پڑ جاتے ہیں کھیلوں کو فروغ دیا جاے لوگ چھٹی والے دن میدانوں میں آ کر جب میچز دیکھیں گے تو اس سے بھی کھلاڑیوں میں جوش جذبہ بڑھے گا
 
Last edited:

y2sag

Voter (50+ posts)
maine suna hai k football k baray baray players bari mushkil aur kathin zindagi guzartay hain. Un ka coach un ka mai baap hota hai, **** peena traning, hatta k girlfriend bhi coach se pooch k rakhi jaati hai, kiss waqt sona hai, kab jagna hai, kab bathroom jana hai (may be) sab schedule ke tehat hota hai. end result is obvious.

i will second you suggestion. thori taraash kharaash k baad implement ho sakta hai.
 

Haristotle

Minister (2k+ posts)
اس اکادمی کے بعد یہ ملک پر مارشل لاء لگا دیں گے ، پھر کسی کے قابو نہیں آئیں گے ، ان کو رینک بھی دینا پڑھے گا ، یہ کون دیگا ؟؟


اس کا ایک ہی حل ہے ، آزاد اور خود مختار ادارہ ، مداخلت سے پاک ، صرف میریٹ ، ہا کی قومی کھیل ہے اس کا حال تو سب نے دیکھ لیا ہے

آزادی اور خود مختاری وہ بھی ان حکمرانوں سے

گندے انڈے سے بھی کبھی چوزہ نکلا ہے صاحب؟
 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
آزادی اور خود مختاری وہ بھی ان حکمرانوں سے

گندے انڈے سے بھی کبھی چوزہ نکلا ہے صاحب؟
گندے انڈے ، یہ عوام ہی دے کر ان کو اقتدار میں لاتی ہے ، نتیجہ صاف ظاہر ہے