کراچی میں لاپتہ ہونے والے 16 سالہ ٹک ٹاکر کی ’تشدد زدہ‘ لاش برآمد

tik1h11i.jpg


کراچی سے 4 روز قبل ملنے والی لاش کی شناخت ہوگئی ہے، علی دوست نام کا 16 سالہ مقتول ٹک ٹاکرتھا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے سائٹ سپر ہائی وے تھانے کی حدود میں چاکر ہوٹل سے فقیرا گوٹھ جانے والے راستے پر واقع آکا خیل گراؤنڈ کے قریب سے ملنے والی ہاتھ پاؤں بندھی لاش کی شناخت ہوگئی ہے۔

مقتول کی شناخت کرنے والے شخص نے اسے اپنا بیٹا بتایا اور کہا کہ چار روز قبل مقتول 3 دسمبر کو گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا، بچے کو تلاش کرنے کیلئے شہر کے تمام تھانوں، اسپتالوں اوردیگر مقامات پر بیٹے کو تلاش کیا مگر کچھ پتا نہیں چلا تھا،بعد ازاں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بچے کی لاش برآمد ہونے کی خبر سنی تو سپر ہائی وے تھانہ پہنچا۔

مقتول کے والدریاض احمد نے کہا کہ تھانے والوں نے کہا کہ علی دوست کی شناخت کیلئے سہراب گوٹھ سرد خانے جاؤ، سرد خانے والوں نے بتایا کہ بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، میں عباسی شہید پہنچا اور اسپتال کے مردہ خانے میں جاکر لاش کی شناخت کی، مقتول ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے کا شوقین 5 بہن بھائیوں میں سے سب سے بڑا تھا۔

پولیس کے مطابق بچے کی لاش 5دسمبر کی صبح تشدد کی حالت میں ملی، بچے کو اغوا کے بعد ہاتھ پاؤں باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گلہ دبا کر قتل کیا گیا۔

بچے کے والد کے مطابق لاش ملنے کے باوجود روزانہ پولیس اسٹیشنز کے چکر لگارہاہوں مگر پولیس قتل کا مقدم درج نہیں کررہی، اعلی پولیس حکام میرے بچے کے قاتل میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔