ڈو مور

Haidar Ali Shah

MPA (400+ posts)
یہ تو ہونا ہی تھا

امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کردی اور ساری دنیا سے اپیل کی درخواست کی. ہمارے اس وقت کے آہنی مکوں والا جرنیل اپنے ایک سنیئر (جنرل نیازی) کیطرح سجدہ ریز ہوگیا. اس وقت ترکی سے بھی مدد کی درخواست ہوئی انہوں نے صاف انکار کردیا. انکل سام نے سارے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی زمہ داری بھی لے لی لیکن ترکی ٹس سے مس نہیں ہوا. امریکہ کو ہمارے جرنیل کی صورت میں گدھا مل گیا تھا معلوم نہیں ترکی کی حمایت کیوں درکار تھی. ایران سے بھی خفیہ ڈیل ہوچکی تھی جس کے تحت ایران طالبان کو سپورٹ نہیں کرے گا.

امریکہ نے تو صرف رستہ مانگ لیا تھا لیکن فون پر ہماری جرنیل کی کپکپاہٹ سن کر انہوں نے ڈرون، شمسی ائیر بیس اور پاکستان میں امریکی فوج کو ہر جگہ رسائی ان کی مدد اور حفاظت کا بھی مطالبہ بھی کردیا جو ہمارے جرنیل نے سجدے میں گر کر منظور کرلیا. امریکیوں نے بعد میں پاکستانیوں کو پکڑ کر اپنے پاکستان میں موجود تفشیش سینٹروں میں پرتشدد تفشیش بھی کی. اس کے ساتھ ساتھ بلیک واٹر کے درجنوں ایجنٹوں کو پاکستان بھیجا جنہوں نے پاکستانی سڑکوں پر پاکستانیوں کو شہید کیا اور اپنے منظور نظر تنظیموں کو فنڈ دیئے. یہ سب ہو رہا تھا تو ہماری فوج دھنیا پی کر سو رہی تھی.

شمسی ائیر بیس کے ذریعے ناصرف پاکستان میں ڈرون حملے ہوئے بلکہ یہاں سے جنگی طیارے اڑ کر افغانستان میں بمباری کرتے تھے. بلیک واٹر کے کارندے کئی مرتبہ پکڑے گئے لیکن وہ اپنی گاڑیوں سے اترنے سے انکار کرتے اور کچھ دیر بعد وزارت داخلہ سے متعلقہ لوگوں کو کال آجاتی کہ ان کو کچھ نا کہو بس جانے دو.

کئی بین تنظیموں کے لوگوں نے اقرار کیا کہ ان کو پیسے اور اسلحہ کون دیتا ہے لیکن چونکہ ہم "اتحادیوں" کے اتحادی تھے اس لئے کچھ کرنے سے قاصر تھے.
عافیہ صدیقی کو امریکی فوجیوں نے پاکستانی اہلکاروں کے سامنے دن دیہاڑے بھرے بازار میں بے عزت کرکے اور مزاحمت پر تشدد کرکے اپنی گاڑی میں ڈال دیا تھا. یاد رہے کہ اس وقت اس کی گود میں چھ مہینے کا بچہ بھی تھا باقی دو بچوں کے عمرے چھ اور سات سال تھی ہمیں غیرت نہیں آئی پھر اس پر ناراورا ظلم اور بربریت کی داستانیں بھی آئی لیکن ہمیں غیرت تب بھی نہیں آئی بلکہ کچھ یار لوگوں نے کہنا شروع کیا امریکہ نے پکڑا ہے تو ضرور اس نے کچھ کیا ہوگا.
افغانی سفیر ملا ضعیف کو سفارت خانے سے اٹھانے امریکیوں کے ساتھ ہماری فوج بھی گئی تھی اور ہم نے بے غیرتی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک سفیر کو اس کے سفارت خانے سے پکڑ کر تیسرے ملک کے حوالے کر دیا تھا.

امریکہ نے ڈومور کہا اور ہم نے ہر جگہ پکڑ دھکڑ شروع کی اس نے پر ڈو مور کہا ہم باجوڑ پر چڑھ دوڑے اس نے پھر ڈو مور کہا ہم وزیرستان پر چڑھ دوڑے اس نے پر ڈو مور کہا ہم نے سوات تاراج کر دیا اس نے پھر ڈو مور کہا ہم نے مدرسے تباہ کر ڈالے، مسجدیں شہید کر ڈالی، اپنے ہی لوگوں پر F16 اور F17 سے بجلیاں گرائی، اپنے ہی 5 لاکھ لوگوں کو وزیرستان سے بےگھر کرکے کیمپوں میں بےیار و مددگار چھوڑ دیا. ہم سب نے مل کر ایک دوسرے کو امریکہ کی خوشنودی کیلئے ہلاک کر ڈالا. ہم نے ایک دوسرے کے کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کردالے لیکن دل ابھی بھرے نہیں ہاتھ ابھی تھکے نہیں.

ہمارے تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے ہسپتال کھنڈرات بن گئے 70 ہزار لوگ جانوں سے گئے معیشت تباہی کے دوراہے پر کھڑی ہے سارے سرمایہ دار دبئی اور بنگلہ دیش بھاگ گئے. کھیلوں کے میدان ویران ہوگئے امید کی شمعیں بجھ گئی مختلف قوموں کے درمیان کھڑی کمزور دیوار میں دراڑیں پڑ گئی. سندھ بلوچستان اور پختونخواہ کے متاثرہ علاقوں میں فوج کیخلاف نفرت بڑ گئی لیکن ہمارے آقا انکل سام کو ابھی تک ہمارے کارکردگی پر شک ہے اور ڈو مور کا ورد جاری ہے. قتل عام ابھی جاری ہے خون کا دریا ابھی رکا نہیں خوارج ہے کہ ختم نہیں ہورہے قربانیاں ہے

کہ کم نہیں ہورہی جنگ ہے کہ تھم نہیں رہی شہادتیں ہے کہ رک نہیں اور یہ جنگ جاری و ساری ہے. اس طرف سینے حاضر تو اس طرف بھی سر حاضر،کون قاتل کون مقتول، کون ظالم اور کون مظلوم، کون خارج اور کون داخل سمجھ یہ بھی نہیں رہے وہ بھی نہیں البتہ مشرف کے اکاونٹ میں اربوں جمع ہوگئے یہ کون ڈال گئے اس کا مشرف کو بھی نہیں پتا شاید فرشتے ڈال گئے ہاں وہی گنجے فرشتے.

سوچنے کا مقام ہے جس کیلئے ہم قاتل بنے جس کیلئے ہم "شہید" ہوئے جن کیلئے ہم دلال بنے ان کو ہم خوش نہیں کرسکے. پشتو کا محاورہ ہے " ہندو ستڑے او خدے ناراضہ" ہندو سارا دن عبادت کرکے تھک جاتا ہے اور خدا پھر بھی ناراض رہتا ہے. امریکہ کا ڈو مور کا مطالبہ تو ہونا ہی تھا اسمیں حیرانگی والی کونسی بات ہے؟ آج امریکہ ہمیں دھتکار کر ہندوستان کو سینے لگا رہا ہے تو پریشانی کس بات کی؟ یہ تو ہونا ہی تھا. اپنی عزت اور آبرو تو ہم امریکی دوستی کے خاطر گروی رکھ آئے ہے اب ان کی ناراوہ مطالبوں پر حیرانگی کیوں؟ جسٹ ڈو مور، مور اینڈ مور.

شاہ جی بقلم خود بخود

اج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی
تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں
آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

https://m.facebook.com/OfficialShahJi/
 
Last edited by a moderator:

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
مشرف پر تنقید بجا اور بالکل درست مگر آج یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کونسے طبقات، صحافی، دانشور اور سیاسی جماعتیں مشرف کی ایسی پالیسیوں کی حمایت کر رہی تھیں۔ کون تھے جو امریکہ جا کر در در وویلہ کرتے تھے کہ ہمیں اقتدار دلاوَ کہ ہم اصلی وفادار ہیں اور یہ افواج تو تمہیں دھوکا دے رہی ہیں۔اور آج وہ کہاں کھڑے ہیں۔۔
 
Sponsored Link