ڈالرز کی قلت: کھانے پینے کی مصنوعات کی امپورٹ بند کرنے کا اعلان

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
331892_1156095_updates.jpg


کراچی: کمرشل امپوٹرز نے زرمبادلہ نہ ملنے کے مسائل کی وجہ سے 25 جون کے بعد کھانے پینے والی تمام مصنوعات کی امپورٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری فرحت صدیق نے اپنے ممبران کے نام اعلان میں بتایا ہے کہ تمام بینک امپورٹرز کو ڈالر دینے سے انکاری ہیں اس لیے ایسوسی ایشن کی ایک اہم میٹنگ میں تمام امپورٹرز اور انڈینٹر نے شرکت کی۔

میٹنگ میں تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امپورٹر اپنے انڈینٹر کو بتادیں کہ 25 جون کے بعد کوئی شپمنٹ روانہ نہ کی جائے، اس وقت جو مال پورٹ پر پہنچ چکا ہے یا راستے میں ہے امپورٹرز اس کی کلیئرنس کے ذمہ دار ہیں، 25 جون کے بعد اگر کوئی بھی شپمنٹ کرائی گئی تو اس کی کلیئرنس کی ذمہ داری امپورٹرز پر نہیں ہوگی۔

امپورٹرز کا کہنا ہے کہ اس وقت زر مبادلہ کے مسائل کی وجہ سے ہزاروں کنیٹنرز پورٹس پر پھنسے ہیں، ان پر جرمانہ اور چارجز پڑ رہے ہیں، اسٹیٹ بینک ان کیلئے زر مبادلہ فراہم نہیں کررہا، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کا بحران پیدا ہو جائے گا، اسٹیٹ بینک کی پالیسی سے کاروبار، معیشت اور ملک کو بے تحاشا نقصان ہورہا ہے۔

Source
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
ایسٹیبلشمنٹ عمران خان کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے ملک کو یہاں تک لے آئ ہے کہ ان کے بھی کھانے پینے کو کچھ نہیں بچے گا تمام جرنیلوں کے بچے شان سے باہر ہیں اور چلے جائیں گے لیکن غریب اپنا سب کچھ انہیں بیچ کر سمندروں میں ڈوب جائے گا لیکن پاکستان کے تمام ادارے کرش پی ٹی آئ پر لگے پاکستان کرش کررہے ہیں
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

وہ جو ہے وہ جو ہے، امریکہ اور مغربی ممالک میں رہنے والے بیغیرت پاکستانی جلدی ڈالر پاکستان بھیجیں . ان بےشرموں کو نظر نہیں آ رہا کہ ملک ڈوب رہا ہے، ہم بھوکے مر رہے ہیں اور وہ ڈالر دبا کر بیٹھ گئے ہیں
 

digitalzygot1

Minister (2k+ posts)
331892_1156095_updates.jpg


کراچی: کمرشل امپوٹرز نے زرمبادلہ نہ ملنے کے مسائل کی وجہ سے 25 جون کے بعد کھانے پینے والی تمام مصنوعات کی امپورٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری فرحت صدیق نے اپنے ممبران کے نام اعلان میں بتایا ہے کہ تمام بینک امپورٹرز کو ڈالر دینے سے انکاری ہیں اس لیے ایسوسی ایشن کی ایک اہم میٹنگ میں تمام امپورٹرز اور انڈینٹر نے شرکت کی۔

میٹنگ میں تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امپورٹر اپنے انڈینٹر کو بتادیں کہ 25 جون کے بعد کوئی شپمنٹ روانہ نہ کی جائے، اس وقت جو مال پورٹ پر پہنچ چکا ہے یا راستے میں ہے امپورٹرز اس کی کلیئرنس کے ذمہ دار ہیں، 25 جون کے بعد اگر کوئی بھی شپمنٹ کرائی گئی تو اس کی کلیئرنس کی ذمہ داری امپورٹرز پر نہیں ہوگی۔

امپورٹرز کا کہنا ہے کہ اس وقت زر مبادلہ کے مسائل کی وجہ سے ہزاروں کنیٹنرز پورٹس پر پھنسے ہیں، ان پر جرمانہ اور چارجز پڑ رہے ہیں، اسٹیٹ بینک ان کیلئے زر مبادلہ فراہم نہیں کررہا، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کا بحران پیدا ہو جائے گا، اسٹیٹ بینک کی پالیسی سے کاروبار، معیشت اور ملک کو بے تحاشا نقصان ہورہا ہے۔


Source
YAh corrupt nalaik criminal log hain. Aur kuch nahin kar saktay