چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&#1585

syed01

MPA (400+ posts)
254473_233562579993851_187812074568902_1113287_1590890_n.jpg
حکومت اور فوج کے خلاف بہادرانہ اور سخت فیصلوں کے نتائج چیف جسٹس کے خلاف حسب توقع نکلنا شروع ہوگئے ہیں اور اب اسلام آباد سے یہ تصدیق شدہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ریاض ملک کے خود کش حملے کےبعد چیف جسٹس کو منصب سےہٹانے کی سرکاری تیاریاں مکمل ہیں۔ اس کےلئے دو طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلےپر حکومت لاتعلقی ظاہر کررہی ہے اور چیف پر سیاسی دبائو اس قدر بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ خود ہی مستعفی ہوجائیں اگر اگلے چند دن میں ایسا نہیں ہوتا تو پھر مشرف کی طرح ہی حکومت چیف جسٹس کے خلاف ایک ریفرنس دائر کر کے انہیں زبردستی ہٹا دے گی اور جواز یہ بنایا جائے گا کہ چیف پر کرپشن ثابت ہونے کےبعد اب وہ اس منصب کے لائق نہیں رہے۔ اس سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سات ججز کی حمایت بھی حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب وکلا نے بھی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں تا کہ وہ اس صورت میں حکومت کےخلاف اور چیف کی بحالی کے لئے ایک اور تحریک چلا سکیں۔ مگر اس بار معروف وکلا، مثلا اعتزاز احسن چیف کے بجائے حکومت کے ساتھ ہیں۔ چیف جسٹس خود بھی اس صورتحال سے آگاہ ہیں اور اسی سلسلے میں انہوں نے فل کورٹ اجلاس بلا لیا ہے اور سپریم کورٹ کے تمام ججز کواسلام آباد آنے کا حکم دیا ہے۔ وفاقی حکومت میں یہ خبریں بازگشت کر رہی ہیں کہ ملک ریاض کی جانب سے پہلا حملہ کرنے کے بعد پی پی حکومت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف ریفرنس دائر یا پھر انہیں سیاسی دباؤ کے تحت مستعفی ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔ لیکن کسی بھی حکومتی نمائندے نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔ ان تردیدوں کے باوجود، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اکرم شیخ نے چیف جسٹس کے خلاف کسی بھی اقدام کو روکنے یا چیلنج کرنے کیلئے پہلے ہی ایک پٹیشن کا مسودہ تیار کرلیا ہے، اس نمائندے سے گفتگو میں انہوں نے اس کی تصدیق کی اور تفصیلات بتائیں۔ اطلاعات ہیں کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنے قانونی مشیروں کیساتھ صلاح مشورے کر رہے ہیں تاکہ چیف جسٹس کو ہٹایا جا سکے۔ ایک ذریعے کے مطابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی، جن کی آزاد عدلیہ اور چیف جسٹس کی مخالفت کے متعلق سب کو علم ہے، کے ساتھ چیف جسٹس کے خلاف مشاورت کی جا رہی ہے۔ اسی حقیقت کے متعلق اکرم شیخ کی تیار کردہ پٹیشن سے بھی اشارہ ملتا ہے۔ اکرم شیخ نے اس سلسلے میں کئی صحافیوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔ اکرم شیخ کے مطابق سیکریٹری قانون نے ریفرنس بھی تیار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پٹیشن کے ذریعے وہ ایسے کسی بھی اقدام کو روکنے یا پھر اقدام ہونے کی صورت میں فوراً اسے چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس بات کی تصدیق نواز لیگ کے سینئر رہنما اسحق ڈار نے بھی کی ہے۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ اس بات کی اطلاعات بڑھ رہی ہیں کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے لیکن حکومت ابھی اسے قبول نہیں کررہی۔ عین اس دوران جب یہ معاملات چل رہے ہیں، ریاض ملک نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کو متنازعہ بنانے کے لئے اپنے حملے جاری رکھے ہیں، اور کئی ٹی وی چینل، انہیں بھرپور کوریج دے رہے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز ایک سےزائد ٹی وی چینلز نے انہیں کئ گھنٹے دئے جہاں بیٹھ کر انہوں نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر حملے کئے اور اسے تسلیم کرنے سےہی انکار کردیا۔ارسلان کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان کو چیلنج کرنے والے شخص بحریہ ٹاؤن کے روح رواں ملک ریاض حسین نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ انہیں ججوں سے انصاف کی توقع نہیں ہے ، ملک ریاض حسین نے کہا کہ عدالت پر ڈان ارسلان کا کنٹرول اور پوری عدالت اس کے زیر اثر ہے ۔منگل کو اپنی پریس کانفرنس میں عائد کردہ الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے ملک ریاض حسین نے کہا کہ ارسلان کا اپنے والد اور دیگر ججوں پر اثر ہے اور وہ عدالیہ کا ڈان ہے ، جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے بیانات سے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں اور ان پر توہین عدالت کا کیس بن سکتا ہے ملک ریاض حسین نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ فیصلے دینے کی ہدایات کے حوالے سے ان کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا مجھے معلوم ہے ہدایات کس طرح بھیجی جاتی تھیں، اس کے دستاویزی ثبوت جلد پیش کر دیئے جائیں گے ، اپنے پوچھے گئے تین سوالات کے بارے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے ملک ریاض کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ سوالات چیف جسٹس سے کئے تھے اور انہیں ہی اس کے جوابات دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا میں نے سوالات رجسٹرار سے نہیں پوچھے تھے ، لیکن چیف جسٹس یہ بات حلفیہ کہیں اور میرے سوالات کے جوابات دیں۔ انہوں نے اپنے اس الزام کو دہرایا کہ چیف جسٹس خود احمد خلیل کے گھر گئے جو ان کے بزنس پارٹنر ہیں، پھر انہوں نے سوال کیا آیا عید کے دنوں میں بڑے لوگ دوسروں کے گھروں کو جاتے ہیں یا لوگ خود چل کر ان کے پاس آتے ہیں؟ جب ملک ریاض سے پوچھا گیا کہ آیا وہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ان سے ملے تھے ۔ ان کہنا تھا کہ وہ اس سوال کا جواب اسی صورت میں دیں گے جب چیف جسٹس ان کے ذاتی طور پر پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیں گے ۔ جب ملک ریاض سے کہا گیا کہ وہ کشتیاں جلا کر اب کھل کر سامنے آگئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں دیوار سے لگا دیا گیا تو وہ اور کیا کرتے۔ انسان اسی وقت خودکشی کرتا ہے جب وہ نہایت مایوس ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں منگل کو چیف جسٹس کی جانب سے ان کے کیس میں ان کے وکیل دستبردار ہوئے، وہ ایک قسم کی بلیک میلنگ تھی جس کا انہیں سامنا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے داماد نے ڈاکٹر ارسلان کو مقدمات کے فیصلے حق میں کرانے کے لئے رقوم دیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے معزولی کے وقت یقین دلایا تھا کہ متوازی حکومت نہیں چلائیں گے اور نہ ہی پیپلزپارٹی کو ناجائز تنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شک ہے چیف جسٹس بھی اپنے بیٹے کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ملک بھر میں وکلا نے بھی ایک اور تحریک چلانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں وکلاء نے گذشتہ روز ملک ریاض کی پریس کانفرنس کیخلاف اور چیف جسٹس افتخار چوہدری سے اظہار یکجہتی کیلئے عدالتوں کا بائیکاٹ کر کے مکمل ہڑتال کی جبکہ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ وکلاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کر کے ملک ریاض اور اہم حکومتی شخصیات کے پتلے بھی نذرآتش کئے،وکلاء نے اس عزم کا اظہارکیاکہ عدلیہ کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنادیاجائے گا، راولپنڈی اسلام آباد کے وکلاء نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے یکجہتی کا عملی اظہار کرتے ہوئے بدھ کو 11 بجے کے بعد ضلعی عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد نے آج جمعرات کو بھی عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دن 11 بجے جنرل باڈی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدر سید جاوید اکبر نے کہا کہ ریاض ملک نے چیف جسٹس کو الزام تراشی کا نشانہ بنا کر اعلیٰ عدلیہ کا تقدس پامال کرنے کی سازش کی جس پر نہ صرف وکلاء ملک بھر کے عوام کو بھی دلی افسوس ہوا ہے۔ بار کے جنرل سیکرٹری ارباب ایوب گجر نے کہا ہے کہ آج ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد کی جنرل باڈی کا اجلاس ہو گا جس میں چیف جسٹس کے خلاف سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ادھر چیف جسٹس سے اظہار یکجہتی کیلئے بدھ کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں ارجنٹ کیسز کی بھی سماعت نہ ہو سکی۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری کے بار میں داخلہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ راولپنڈی میں کوئی بھی وکیل ملک ریاض کے کسی بھی کیس کی پیروی نہیں کرے گا۔ دریں اثناء چیف جسٹس کی حمایت میں راولپنڈی میں جماعت اسلامی اور تاجروں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر مری روڈ بلاک کر دی،مظاہرین نے ملک ریاض کا پتلا بھی نذرآتش کیا،ادھر چکوال کے وکلاء نے بحریہ ٹاؤن کے ریاض ملک کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کے خلاف مکمل ہڑتال کی جس کے نتیجے میں چکوال، تلہ گنگ اور چوآسیدن شاہ کی عدالتوں میں کام مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔ادھر لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری ذوالفقار کی قیادت میں درجنوں وکلاء نے ایوان عدل کے باہر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ کے حق میں مظاہرہ کیا۔ چیف جسٹس نے بھی اس سلسلے میں فل کورٹ اجلاس طلب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے تمام ججز کو اسلام آباد بلا لیا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 16 جون سے ہونے والی سپریم کورٹ کی سالانہ موسم گرما کی چھٹیوں کے پیش نظر15 جون جمعہ(کل)کو سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے علاوہ انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں بحریہ ٹان کے سابق سربراہ ملک ریاض کی طرف سے اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران عدلیہ پر لگائے جانے والے الزامات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔
 
Last edited:

Skeptic

Siasat.pk - Blogger
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

Very good.....if it can be made possible
 

ProCJ

Politcal Worker (100+ posts)
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

Man propose got dispose..InshaAllah if this country has to sunvive, justice will prevail
 

Adeel

Founder
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

[MENTION=28182]syed01[/MENTION]

What is the source of this news? Please always mention the source link at the end, or we have to delete the content.
 

sarmadsl

Banned
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

yes i dont know what will happen next but today in gujrat lawyers have made a decision to bycote and in the coming days all the lawyers are ready for their new tehreek
 

gazoomartian

Prime Minister (20k+ posts)
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

the SC should defer all holidays. Zardari seems to have planned this during their holidays because judges will be in different part of the country/world on vacation.

Allah gharat karey is zaradri, son of 1000 fathers ko
 

gazoomartian

Prime Minister (20k+ posts)
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

Man propose got dispose..InshaAllah if this country has to sunvive, justice will prevail

aey bhai Allah key bundey, got nahin, God :lol:
 

sshahid

Siasat.pk - Blogger
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

we should not implicate foj into this situation until there is clear evidence. For sure Zardari tola is clearly behind this and their stakes are very high. This news although we still await the source, sounds true as I heard earlier in some shows that PPP is secretly working on such plans, Islamabad is abuzz.
 

nuzhatghazali

Minister (2k+ posts)
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

چیف جسٹس کے خلاف یہ ساری اسکیم پیپلز پارٹی کی ہی ہے . اتنے دنوں سے جو یہ بات مہشور تھی کہ زرداری نے دوسری مرتبہ بھی پیپلز پارٹی کو کامیابی کا یقین دلایا ہے وہ اسی منصوبے پر منحصر تھی ''اگلی باری پھر زرداری '' کے نعرے یونہی نہیں لگایے جا رہے تھے . زرداری کو تو اپنی جان پر بھی کھیل کر یہ الکشن جیتنا تھا کیونکے اگر وہ اقتدار میں نہیں رہتے تو جو پیسہ وہ لوٹ کر لیجاتے وہ انے والی حکومت ان سے وصول کر لیتی ،بلکے سزا بھی دیتی .ساری پارٹیوں کو تو اپنے ساتھ ملا کر بیٹھے ہیں ان کی پلاننگ کی یہیں سے داد دینی پڑے گی کہ کتنے عرصے سے بھان متی کا کنبہ جوڑے بیٹھے ہیں کوئی اپنی جگہہ سے حل نہیں رہا ہے . میمو گیٹ بھی کامیاب ہے کیونکے جو میسج امریکا کو پہنچانا تھا وہ میسج تو امریکا کو مل گیا اور شائد اس پر عمل بھی ہوگیا کیونکے فوج واقعی ستو پی کر بیٹھی ہے . چیف جسٹس کو راستے سے ہٹانے کے لئے دو سال سے منصوبے بنا رہے تھے اگر شاہین صہبائی بھانڈا نہ پوھڑتے اور چیف جسٹس سو او موٹو نہ لیتے تو یہ اندر ہی اندر انھیں بلیک میل کر کے ان سے استعفیٰ لکھوا لیتے اور پھر الیکشن ان کا ہوتا .
چیف جسٹس ایک سچے آدمی ہیں ،الله انکی حفاظت کرے اگر ساری عوام انکے ساتھ کھڑی ہوجا ے اور الله کی مدد شامل حال ہو تو زرداری جیسے شیطان سے پیچھا چھوٹ سکتا ہے .
 

Aamir raja

Minister (2k+ posts)
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

We r Ready to Save cj and to kick out These corrut Mafia Malik riaz and zardari
 

Fouad Shafiq

New Member
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

چیف جسٹس کے خلاف یہ ساری اسکیم پیپلز پارٹی کی ہی ہے . اتنے دنوں سے جو یہ بات مہشور تھی کہ زرداری نے دوسری مرتبہ بھی پیپلز پارٹی کو کامیابی کا یقین دلایا ہے وہ اسی منصوبے پر منحصر تھی ''اگلی باری پھر زرداری '' کے نعرے یونہی نہیں لگایے جا رہے تھے . زرداری کو تو اپنی جان پر بھی کھیل کر یہ الکشن جیتنا تھا کیونکے اگر وہ اقتدار میں نہیں رہتے تو جو پیسہ وہ لوٹ کر لیجاتے وہ انے والی حکومت ان سے وصول کر لیتی ،بلکے سزا بھی دیتی .ساری پارٹیوں کو تو اپنے ساتھ ملا کر بیٹھے ہیں ان کی پلاننگ کی یہیں سے داد دینی پڑے گی کہ کتنے عرصے سے بھان متی کا کنبہ جوڑے بیٹھے ہیں کوئی اپنی جگہہ سے حل نہیں رہا ہے . میمو گیٹ بھی کامیاب ہے کیونکے جو میسج امریکا کو پہنچانا تھا وہ میسج تو امریکا کو مل گیا اور شائد اس پر عمل بھی ہوگیا کیونکے فوج واقعی ستو پی کر بیٹھی ہے . چیف جسٹس کو راستے سے ہٹانے کے لئے دو سال سے منصوبے بنا رہے تھے اگر شاہین صہبائی بھانڈا نہ پوھڑتے اور چیف جسٹس سو او موٹو نہ لیتے تو یہ اندر ہی اندر انھیں بلیک میل کر کے ان سے استعفیٰ لکھوا لیتے اور پھر الیکشن ان کا ہوتا .
چیف جسٹس ایک سچے آدمی ہیں ،الله انکی حفاظت کرے اگر ساری عوام انکے ساتھ کھڑی ہوجا ے اور الله کی مدد شامل حال ہو تو زرداری جیسے شیطان سے پیچھا چھوٹ سکتا ہے .


انشاء الله
 

Zulfi Khan

Chief Minister (5k+ posts)
Re: چیف جسٹس کو زبردستی ہٹانے کےلئےحکومت تیا&a

Chief Justice Zindabad! This PPP govt will not remove Iftikhar Chaudhry by force because it knows
very well that th peole of Pakistan are with CJ of the SC.Musharraf could not remove him by force.
Musharraf is outside Pakistan but chief Justice is still in Pakistan.Geo Chief Justice! Geo Imran Khan!
 
Sponsored Link