'چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر خارجہ کا اضافی چارج سنبھال لیا'

5qaziishahdhirandndl.png

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کے بلے کانشان سے متعلق عدالتی فیصلے پر تنقید برٹش ہائی کمیشن جین میریٹ کو جواب دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے برٹش ہائی کمیشن جین میریٹ کو عدالتی فیصلے پر تنقید کے جواب میں خط لکھ دیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے،ضرورت اس امر کی ہے برطانیہ بھی غلطیوں کا ازالہ کرے،خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں آپ کی پرجوش تقریر میں جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا،انتخابات اس لئے بر وقت نہیں ہو سکے تھے کیوں کہ صدر اور الیکشن کمیشن متفق نہیں تھے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کس کو ہے، پاکستان میں الیکشن لڑنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑتا تھا،کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں ایماندار اور قابل اعتماد(صادق و امین) نہیں سمجھا جاتا ہے۔

خط میں کہا گیا قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہوگی، ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے تھے۔اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقیدبلاجواز تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے سامنے آنے پر مختلف حلقوں کی طرف سے ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس خط کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کس کس کو صفائیاں دی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے سے پوری دنیا میں پاکستان کے عدالتی نظام کی جگ ہنسائی ہوئی ملٹری کورٹس اور عدت کیس جیسے فیصلے فائز عیسی کی تاریخ میں جگہ کا تعین کر چکے ہیں، جج صاحبان پر دباؤ، سیاسی بنیادوں پر جعلی مقدمات کی بھرمار اور بے گناہ خواتین اور مردوں کو بے گناہ پابند سلاسل رکھنے میں سہولت کاری وہ روایات ہیں جو چیف جسٹس کے دور سے جڑی رہیں گی۔

https://twitter.com/x/status/1795807669304930627

ایک اور ٹویٹ میں کہا پاکستان میں انتخابی عمل پر صرف برطانیہ کے تحفظات نہیں ہیں چار ماہ کے بعد شہباز شریف کو آج تک یورپی یونین ، امریکہ اور برطانیہ کے کسی ملک کے سربراہ نے فون تو دور مبارکباد کا خط تک نہیں لکھا، مودی وہ واحد لیڈر ہے جس نے شہباز شریف کو ٹویٹر پر مبارک دی، اس سے اندازہ لگا لیں دنیا موجودہ پاکستانی سیٹ اپ کو کتنا جمہوری ۔سمجھتی ہے، پاکستان کے چیف جسٹس کو اس طرح بیرونی سفارت کاروں سے براہ راست خط وکتابت سے پرہیز کرنا چاہئے اس طرح آپ مزید جگ ہنسائی کرا رہے ہیں

https://twitter.com/x/status/1795821557467513343

سینئر قانون دان ابوذر سلمان نیازی اس خط کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ چیف جسٹس کو ان کے فیصلوں سے پرکھیں گے ان کے خطوط سے نہیں، یہ فیصلہ بھی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس، عاصمہ جیلانی کیس اور ایسے دیگر کیسز کی طرح پیچھا کرے گا۔

https://twitter.com/x/status/1795816684156231935
عبدالمعیز جعفری نے اس خط کو اوور ری ایکشن قرار دیا۔

https://twitter.com/x/status/1795808760075804972
سکندر فیاض نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن اس لیے نہیں ہو پائے اور سپریم کورٹ نے تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھین لیا کیونکہ 1917 میں برطانیہ نے خط لکھ کر فلسطین میں یہودی ریاست بنانے کی بات کی تھی؟

https://twitter.com/x/status/1795813200220327968
وسیم ملک نے لکھا، چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر خارجہ کا اضافی چارج بھی سنبھال لیا۔

https://twitter.com/x/status/1795813943488745483
عاصمہ جہانگیرکانفرنس میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا تھا قانونی عمل کو استعمال کر کے سیاسی رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا گیا، انتخابی نشان لیا گیا، انٹرنیٹ/سوشل میڈیا پر پابندیاں، نتائج آنے میں کافی تاخیر ہوئی، کاؤنٹنگ میں بے ضابطگیاں نظر آئیں۔

https://twitter.com/x/status/1795832092909052299
https://twitter.com/x/status/1795844987378426358
https://twitter.com/x/status/1795852221814325592
https://twitter.com/x/status/1795746549945004247
https://twitter.com/x/status/1795900932993040719
 
Last edited by a moderator:

Melanthus

Chief Minister (5k+ posts)
I don’t understand why Qazi fraudster had to send a letter to British High Commissioner.Qazi’s duty to deliver justice.Is Qazi going to write letters to every government which expresses it’s opinion regarding Pakistani elections,human rights violations or corruption?.
 

Mocha7

Minister (2k+ posts)
This bitch should be kicked out of the country immediately. Sigh what joke of a country. Jiske jo mounh me aata hai, bhonk deta hai.
 

Azpir

MPA (400+ posts)
5qaziishahdhirandndl.png

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کے بلے کانشان سے متعلق عدالتی فیصلے پر تنقید برٹش ہائی کمیشن جین میریٹ کو جواب دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے برٹش ہائی کمیشن جین میریٹ کو عدالتی فیصلے پر تنقید کے جواب میں خط لکھ دیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے،ضرورت اس امر کی ہے برطانیہ بھی غلطیوں کا ازالہ کرے،خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں آپ کی پرجوش تقریر میں جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا،انتخابات اس لئے بر وقت نہیں ہو سکے تھے کیوں کہ صدر اور الیکشن کمیشن متفق نہیں تھے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کس کو ہے، پاکستان میں الیکشن لڑنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑتا تھا،کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں ایماندار اور قابل اعتماد(صادق و امین) نہیں سمجھا جاتا ہے۔

خط میں کہا گیا قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہوگی، ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے تھے۔اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقیدبلاجواز تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے سامنے آنے پر مختلف حلقوں کی طرف سے ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس خط کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کس کس کو صفائیاں دی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے سے پوری دنیا میں پاکستان کے عدالتی نظام کی جگ ہنسائی ہوئی ملٹری کورٹس اور عدت کیس جیسے فیصلے فائز عیسی کی تاریخ میں جگہ کا تعین کر چکے ہیں، جج صاحبان پر دباؤ، سیاسی بنیادوں پر جعلی مقدمات کی بھرمار اور بے گناہ خواتین اور مردوں کو بے گناہ پابند سلاسل رکھنے میں سہولت کاری وہ روایات ہیں جو چیف جسٹس کے دور سے جڑی رہیں گی۔

https://twitter.com/x/status/1795807669304930627

ایک اور ٹویٹ میں کہا پاکستان میں انتخابی عمل پر صرف برطانیہ کے تحفظات نہیں ہیں چار ماہ کے بعد شہباز شریف کو آج تک یورپی یونین ، امریکہ اور برطانیہ کے کسی ملک کے سربراہ نے فون تو دور مبارکباد کا خط تک نہیں لکھا، مودی وہ واحد لیڈر ہے جس نے شہباز شریف کو ٹویٹر پر مبارک دی، اس سے اندازہ لگا لیں دنیا موجودہ پاکستانی سیٹ اپ کو کتنا جمہوری ۔سمجھتی ہے، پاکستان کے چیف جسٹس کو اس طرح بیرونی سفارت کاروں سے براہ راست خط وکتابت سے پرہیز کرنا چاہئے اس طرح آپ مزید جگ ہنسائی کرا رہے ہیں

https://twitter.com/x/status/1795821557467513343

سینئر قانون دان ابوذر سلمان نیازی اس خط کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ چیف جسٹس کو ان کے فیصلوں سے پرکھیں گے ان کے خطوط سے نہیں، یہ فیصلہ بھی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس، عاصمہ جیلانی کیس اور ایسے دیگر کیسز کی طرح پیچھا کرے گا۔

https://twitter.com/x/status/1795816684156231935
عبدالمعیز جعفری نے اس خط کو اوور ری ایکشن قرار دیا۔

https://twitter.com/x/status/1795808760075804972
سکندر فیاض نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن اس لیے نہیں ہو پائے اور سپریم کورٹ نے تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھین لیا کیونکہ 1917 میں برطانیہ نے خط لکھ کر فلسطین میں یہودی ریاست بنانے کی بات کی تھی؟

https://twitter.com/x/status/1795813200220327968
وسیم ملک نے لکھا، چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر خارجہ کا اضافی چارج بھی سنبھال لیا۔

https://twitter.com/x/status/1795813943488745483
عاصمہ جہانگیرکانفرنس میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا تھا قانونی عمل کو استعمال کر کے سیاسی رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا گیا، انتخابی نشان لیا گیا، انٹرنیٹ/سوشل میڈیا پر پابندیاں، نتائج آنے میں کافی تاخیر ہوئی، کاؤنٹنگ میں بے ضابطگیاں نظر آئیں۔

https://twitter.com/x/status/1795832092909052299
https://twitter.com/x/status/1795844987378426358
https://twitter.com/x/status/1795852221814325592
https://twitter.com/x/status/1795746549945004247
Yeh Nafsiati insan ha. Ilaj banta ha
 

Fact Checker

Citizen
Perhaps, no state in the world has overtly and covertly undermined Islamic world and Pakistan more than His/Her Majesty's Governments since 1815 (and before), yet the people still compete to prove them as Lord T. B. Macaulay's ideal subjects. And then wonder why we are what we are!!

Amb Marriott's public commentary on a SCP judgment was an audacious breach of Vienna Convention, which required her "to respect the laws and regulations of the receiving State [...] duty not to interfere in the internal affairs of that State."

People need to let go their negativity and cynicism; for once, SCP letter should be supported instead of being blinded by hate against all those who won't agree with IK/PTI or you (if you're sincere with the country). Otherwise, keep inflaming passions, keep fueling hatred, keep dividing the people/society .... that's what your enemies want.

In an ideal world, a demarche would 've been issued to Amb Marriott for maligning the superior judiciary and interfering in Pakistan's internal affairs, but there're reasons to assume why this letter. Perhaps, next time, if a letter indeed needs to go out, make the FM send it - or - obligate the Event Organisers/Hosts to spell out the parameters of such events in advance in their invites and take responsibility. Shield the institutions from such unnecessary exposures/controversies. Second, if not yet, get a standing memo/NV to the diplomatic corps to respect Vienna Convention and refrain from political commentaries / interference in domestic matters, such as at public events (as is the universal norm). Everyone knows, some in Ramna-5 are particularly fond of poking their noses publicly everywhere.

On a side note, re "Open Society" - pl do not jump onto the Soros/OSF and Davos bandwagon being promoted by His Majesty's govt blindly. Digest, if haven't already, how "Open Society" got into academic and social parlance, know what it means to NWO and what end-state it has in sight. Less said the better here, for now.

Re events of 1917 or 1953, it may be advisable to first contest/correct the events that have impacted Pakistan gravely and directly at the hands of His/Her Majesty's govt. For starters, perhaps ask them to:
(1) Declassify (/share/own) the Sit Reps/Assessments on PM Liaquat Ali Khan's assassination submitted to His Majesty's govt. (esp. share the actual forensic reports (not the fudged ones given to then GOP) of bullets/weapons & audio recordings prepared by Brig Dixon and Maj Moore in the interest of Open Society);
(2) Declassify (/share/own) all Assessments related to East Bengal/East Pakistan submitted to His/Her Majesty's govt between 1945-1972, particularly those to Sir Alec Douglas-Home. (esp. share the Assessments re: aiding and hosting part of the Mujibnagar (Free BD) Govt-in-Exile and its activities in London; provision of RAF Comet to Sheikh Mujib for his victory flight from London to Dacca via New Delhi; accordance of immediate diplomatic recognition to breakaway Free Bangladesh in early Feb amongst the first few countries of world; provision of diplomatic and military assistance to the Nigerian govt to brutally crush civil war there at around the same time but full diplomatic pressure on Dr. Kissinger to indirectly press the Pakistani govt to unconditionally surrender to Mujib/AL's declaration of secession; tacit opposition to Pakistan at the UN during Nov-Dec 1971 - in the interest of Open Society);
There's a lot more between 1945-2024 about Pakistan that His Majesty's govt needs to be open in the Open Society, but maybe begin with these two.
 

Asad Mujtaba

Chief Minister (5k+ posts)
Perhaps, no state in the world has overtly and covertly undermined Islamic world and Pakistan more than His/Her Majesty's Governments since 1815 (and before), yet the people still compete to prove them as Lord T. B. Macaulay's ideal subjects. And then wonder why we are what we are!!

Amb Marriott's public commentary on a SCP judgment was an audacious breach of Vienna Convention, which required her "to respect the laws and regulations of the receiving State [...] duty not to interfere in the internal affairs of that State."

People need to let go their negativity and cynicism; for once, SCP letter should be supported instead of being blinded by hate against all those who won't agree with IK/PTI or you (if you're sincere with the country). Otherwise, keep inflaming passions, keep fueling hatred, keep dividing the people/society .... that's what your enemies want.

In an ideal world, a demarche would 've been issued to Amb Marriott for maligning the superior judiciary and interfering in Pakistan's internal affairs, but there're reasons to assume why this letter. Perhaps, next time, if a letter indeed needs to go out, make the FM send it - or - obligate the Event Organisers/Hosts to spell out the parameters of such events in advance in their invites and take responsibility. Shield the institutions from such unnecessary exposures/controversies. Second, if not yet, get a standing memo/NV to the diplomatic corps to respect Vienna Convention and refrain from political commentaries / interference in domestic matters, such as at public events (as is the universal norm). Everyone knows, some in Ramna-5 are particularly fond of poking their noses publicly everywhere.

On a side note, re "Open Society" - pl do not jump onto the Soros/OSF and Davos bandwagon being promoted by His Majesty's govt blindly. Digest, if haven't already, how "Open Society" got into academic and social parlance, know what it means to NWO and what end-state it has in sight. Less said the better here, for now.

Re events of 1917 or 1953, it may be advisable to first contest/correct the events that have impacted Pakistan gravely and directly at the hands of His/Her Majesty's govt. For starters, perhaps ask them to:
(1) Declassify (/share/own) the Sit Reps/Assessments on PM Liaquat Ali Khan's assassination submitted to His Majesty's govt. (esp. share the actual forensic reports (not the fudged ones given to then GOP) of bullets/weapons & audio recordings prepared by Brig Dixon and Maj Moore in the interest of Open Society);
(2) Declassify (/share/own) all Assessments related to East Bengal/East Pakistan submitted to His/Her Majesty's govt between 1945-1972, particularly those to Sir Alec Douglas-Home. (esp. share the Assessments re: aiding and hosting part of the Mujibnagar (Free BD) Govt-in-Exile and its activities in London; provision of RAF Comet to Sheikh Mujib for his victory flight from London to Dacca via New Delhi; accordance of immediate diplomatic recognition to breakaway Free Bangladesh in early Feb amongst the first few countries of world; provision of diplomatic and military assistance to the Nigerian govt to brutally crush civil war there at around the same time but full diplomatic pressure on Dr. Kissinger to indirectly press the Pakistani govt to unconditionally surrender to Mujib/AL's declaration of secession; tacit opposition to Pakistan at the UN during Nov-Dec 1971 - in the interest of Open Society);
There's a lot more between 1945-2024 about Pakistan that His Majesty's govt needs to be open in the Open Society, but maybe begin with these two.
is this siasat.pk's official fact checker?

just checked his histroy, sounds like a rogue army's employee
 

Wake up Pak

Prime Minister (20k+ posts)
Perhaps, no state in the world has overtly and covertly undermined Islamic world and Pakistan more than His/Her Majesty's Governments since 1815 (and before), yet the people still compete to prove them as Lord T. B. Macaulay's ideal subjects. And then wonder why we are what we are!!

Amb Marriott's public commentary on a SCP judgment was an audacious breach of Vienna Convention, which required her "to respect the laws and regulations of the receiving State [...] duty not to interfere in the internal affairs of that State."

People need to let go their negativity and cynicism; for once, SCP letter should be supported instead of being blinded by hate against all those who won't agree with IK/PTI or you (if you're sincere with the country). Otherwise, keep inflaming passions, keep fueling hatred, keep dividing the people/society .... that's what your enemies want.

In an ideal world, a demarche would 've been issued to Amb Marriott for maligning the superior judiciary and interfering in Pakistan's internal affairs, but there're reasons to assume why this letter. Perhaps, next time, if a letter indeed needs to go out, make the FM send it - or - obligate the Event Organisers/Hosts to spell out the parameters of such events in advance in their invites and take responsibility. Shield the institutions from such unnecessary exposures/controversies. Second, if not yet, get a standing memo/NV to the diplomatic corps to respect Vienna Convention and refrain from political commentaries / interference in domestic matters, such as at public events (as is the universal norm). Everyone knows, some in Ramna-5 are particularly fond of poking their noses publicly everywhere.

On a side note, re "Open Society" - pl do not jump onto the Soros/OSF and Davos bandwagon being promoted by His Majesty's govt blindly. Digest, if haven't already, how "Open Society" got into academic and social parlance, know what it means to NWO and what end-state it has in sight. Less said the better here, for now.

Re events of 1917 or 1953, it may be advisable to first contest/correct the events that have impacted Pakistan gravely and directly at the hands of His/Her Majesty's govt. For starters, perhaps ask them to:
(1) Declassify (/share/own) the Sit Reps/Assessments on PM Liaquat Ali Khan's assassination submitted to His Majesty's govt. (esp. share the actual forensic reports (not the fudged ones given to then GOP) of bullets/weapons & audio recordings prepared by Brig Dixon and Maj Moore in the interest of Open Society);
(2) Declassify (/share/own) all Assessments related to East Bengal/East Pakistan submitted to His/Her Majesty's govt between 1945-1972, particularly those to Sir Alec Douglas-Home. (esp. share the Assessments re: aiding and hosting part of the Mujibnagar (Free BD) Govt-in-Exile and its activities in London; provision of RAF Comet to Sheikh Mujib for his victory flight from London to Dacca via New Delhi; accordance of immediate diplomatic recognition to breakaway Free Bangladesh in early Feb amongst the first few countries of world; provision of diplomatic and military assistance to the Nigerian govt to brutally crush civil war there at around the same time but full diplomatic pressure on Dr. Kissinger to indirectly press the Pakistani govt to unconditionally surrender to Mujib/AL's declaration of secession; tacit opposition to Pakistan at the UN during Nov-Dec 1971 - in the interest of Open Society);
There's a lot more between 1945-2024 about Pakistan that His Majesty's govt needs to be open in the Open Society, but maybe begin with these two.
Moron, it is the international communities right to pinpoint where blatant rigging took place. As for the Qazi Faraud, it was not his fucking job to write a letter to her. Anyone who wanted to clear the rigging allegations should have been the Election Commission or the foreign office. Qazi fraud should be sacked for stepping outside of his domain.
 

Nebula

Minister (2k+ posts)
Qazi will get a reply shortly. Qazi as per london plan need an extension so asking the granters to do the job otherwise I will open the pendora box.