چلو چلو امریکہ چلو‘: افغان پناہ گزین جنھیں افراتفری میں موقع نظر آیا

Goldfinger

MPA (400+ posts)

_120221892_18a40e98-5079-4453-bf76-248484a2be1a.jpg


’آنکھوں میں امریکہ یا کسی یورپی ملک جانے کا خواب بچپن سے تھا لیکن راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔‘ اچانک داؤد (فرضی نام) کو اپنے ایک رفیق سے ایسی بات پتا چلی کہ ان کی انکھیں چمک اٹھیں۔

اسے ایسا لگا کہ یہی وقت ہے کہ وہ اپنے خواب کی تعبیر حاصل کر سکتا ہے۔ داؤد نے اس خوشی میں فوری انتظام کیے اور گھر جانے کی بجائے بیوی بچوں کو ورکشاپ بلایا اور گاڑی میں بیٹھ کر کابل روانہ ہو گیا۔

’چلو چلو امریکہ چلو‘

یہ قصہ ہے ایک افغان پناہ گزین داؤد (فرضی نام )کا جن کی پیدائش پشاور کے کچہ گڑھی کیمپ میں ہوئی۔ وہ یہیں پلے بڑھے اور شادی کی لیکن اس کے باوجود انھیں افغان مہاجر پکارا جاتا ہے۔
داؤد اس جدوجہد میں تھے کہ کسی طریقے سے اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے امریکہ یا کسی یورپی ملک چلے جائیں لیکن کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
رواں ماہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد کابل کے ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ پہنچے اور یہ افواہ پھیل گئی کہ سب لوگ یہاں سے امریکہ اور یورپی ممالک جا رہے ہیں۔
طالبان کے خوف کی وجہ سے جو لوگ کابل ایئر پورٹ پہنچے اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اس سے یہ تاثر پھیل گیا کہ جیسے سب لوگ بغیر کسی دستاویزات، پاسپورٹ یا ویزے کے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک جا رہے ہیں۔
افغانستان سے تو بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے ہی تھے مگر پاکستان میں موجود افغان پناہ گزین بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے اور مقامی لوگوں کے مطابق ایک اچھی خاصی تعداد میں لوگ کابل پہنچ گئے۔
داؤد بھی ان میں شامل ہیں اور وہ کابل ایئر پورٹ کے باہر اس انتظار میں ہیں کہ کوئی راستہ کھلے اور وہ امریکہ چلے جائیں۔
پشاور میں داؤد سے اکثر ملاقات ہوتی تو یہی پوچھتے کہ ’میں کیسے برطانیہ یا امریکہ جا سکتا ہوں۔‘ میں اسے کوئی جواب نہیں دے پاتا تھا۔
وہ کہتے ’اچھا میرا ایک انٹرویو ہی کر لو۔ باہر ملک میں لوگ تو مجھے دیکھ لیں گے۔‘ لیکن ان کے لیے میں یہ بھی نہ کر پایا۔
چند روز قبل جب میری ملاقات داؤد سے ہوئی وہ دور سے مجھے دیکھ کر آگئے اور کہاں ’اب میرا وقت ہے اور میں جلد چلا جاؤں گا۔‘ میں ان کی بات سمجھ نہیں پایا۔
گذشتہ روز صبح ورکشاپ سے فون آیا تو پتا چلا داؤد کابل پہنچ گئے ہیں اور اب انھیں ایئر پورٹ داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔
ورکشاپ میں ان کے ساتھیوں سے معلوم کیا تو انھوں نے بتایا کہ بس اچانک انھوں نے کہا ’میں جا رہا ہوں۔‘
_120221888_560af8db-280a-48d4-88be-e027fe2359ac.jpg

یہاں تک کہ ’وہ خود گھر بھی نہیں گئے۔ بیوی بچوں کو ٹیکسی میں بلایا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کابل روانہ ہوگئے۔‘
انھوں نے ورکشاپ میں اپنی دکان ایک ساتھی کے حوالے کی اور سب سے کہا ’دعا کرنا میرا کام ہو جائے۔‘
کابل ایئر پورٹ پر موجود داؤد سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ یہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں لیکن ایئر پورٹ کے اندر جانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔ ’یہاں ایک گیٹ پر طالبان موجود ہیں اور دوسرے گیٹ پر غیر ملکی فوجی۔ کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔‘
_120222392_8215c2f3-2bcc-46e8-8a37-cb9584f8b981.jpg

داؤد نے بتایا کہ وہ وہاں پشاور سے آنے والے واحد شخص نہیں بلکہ ’سینکڑوں لوگ یہاں پہنچے ہیں لیکن ان میں کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔‘
داؤد نے پیر کو بتایا کہ وہ اب پھر ایئر پورٹ کی جانب جا رہے ہیں لیکن یہ مشکل نظر آتا ہے کہ وہ ایئر پورٹ کے اندر داخل ہو سکیں گے یا ان کی قسمت ایسی بدلے گی کہ وہ بھی کسی جہاز میں بیٹھ کر امریکہ جا سکیں گے۔
داؤد نے بتایا کہ امید پر دنیا قائم ہے لیکن اب امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔
بلکہ اب تو انھیں لگتا ہے کہ وہ واپس پاکستان ہی آئیں گے کیونکہ ’باہر ملک جانا اب بھی شاید خواب بن کر رہ جائے گا۔‘

’افغان پناہ گزین پاکستان میں اپنے اپنے کاروبار پر توجہ دیں‘

پشاور میں افغان پناہ گزینوں کی تنظیم کے سربراہ حاجی عصمت اللہ طوخی اس بارے میں پریشان ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک افواہ ایسی اُڑی ہے کہ اتنی تعداد میں ایسے لوگ جا رہے ہیں جن کے یہاں چلتے کاروبار ہیں اور وہ کاروبار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
عصمت اللہ نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنے چلتے ہوئے کاروبار چھوڑ کر باہر ملک جائیں بلکہ یہاں اپنے کاربار کو چمکانے کی کوششیں کریں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دو روز پہلے پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر اتنا ہجوم تھا کہ بیان سے باہر ہے۔
’یہاں افغان پناہ گزینوں کو یہ خبر جانے کہاں سے ملی ہے اور خبر یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک بیس بیس ہزار افغان پناہ گزینوں کو پناہ دیں گے۔ اب یہاں مقیم افغان پناہ گزینوں نے کوئی معلومات حاصل نہیں کیں اور کابل ایئر پورٹ کی جانب چل پڑے۔‘
حاجی عصمت اللہ نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق دو روز پہلے طورخم کے مقام پر سرحد پر کوئی تین ہزار افغان پناہ گزین پہنچے تھے جبکہ کابل ایئر پورٹ پر تو لوگ دیواریں پھلانگنیں کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ خاندان شاید اس بنیاد پر گئے ہیں جن کے رشتہ دار باہر ممالک میں رہتے ہیں اور انھوں نے وہاں سے حکومت کے ذریعے ای میل بھیجے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کا خطرہ لاحق ہے۔ اس کی بنیاد پر کابل ائیر پورٹ پر ان کے کاغذات کی تصدیق کے بعد ان کے باہر جانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
’ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہر کوئی جا رہا ہے بلکہ جن کے کاغذات نہیں ہیں انھیں قطر اور دیگر ممالک سے بھی واپس بھیج دیا جاتا ہے۔‘
_120222456_1adcaaf2-a522-4960-8918-77e602dd1956.jpg

افغانستان سے واپسی بھی مشکل

اس وقت ضلع خیبر میں طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد سے صرف پاکستان سے افغان شہریوں کو افغانستان جانے کی اجازت ہے جبکہ افغانستان سے صرف پاکستانی شہریوں کو آنے کی اجازت ہے۔
سرحد پر تعینات اہلکاروں نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے چند روز بعد سے واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ جانے والوں کا مقصد کیا ہے لیکن بظاہر لوگوں کی باتوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید وہ کابل ایئر پورٹ کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ لوگوں کو بغیر دستاویز کے باہر ملک جانے دیا جا رہا ہے۔
یہاں افغان پناہ گزینوں میں اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ اگر جانے میں ناکامی ہوتی ہے تو واپسی کیسے ہو سکے گی۔
اس وقت طور خم سرحد پر سختی ہے اور افغان شہریوں کو پاکستان نہیں آنے دیا جار ہا اور جو لوگ ابھی چلے گئے ہیں ان کی واپسی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
پشاور میں داؤد کے ساتھی بھی پریشان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیلیفون پر آخری مرتبہ جب بات ہوئی تو داؤد واپس آنے کا عندیہ دے رہے تھے لیکن اب ان کے لیے واپس پشاور آنا مشکل ہوگا۔

ان کے ایک ساتھی کا کہنا تھا کہ داؤد تو ’اپنی کشتیاں جلا کر گئے ہیں۔‘
سورس
 

Aslan

Chief Minister (5k+ posts)
Afghans started leaving Afghanistan many yearsago.In Turkey alone there are estimated to be 300,000 Afghan refugees.They went to Turkey long before the Taliban came into power.The majority of people at Kabul airport are economic migrants.They are taking advantage of the situation.They see it as a golden opportunity to go to pastures new.Who can blame them?.Their country has been at war for 40 years.
 

Citizen X

President (40k+ posts)
I don't understand if the tattibans are so awesome then why are 1000s of Afghanis risking life and limb to leave it?
 

Citizen X

President (40k+ posts)
Afghans started leaving Afghanistan many yearsago.In Turkey alone there are estimated to be 300,000 Afghan refugees.They went to Turkey long before the Taliban came into power.The majority of people at Kabul airport are economic migrants.They are taking advantage of the situation.They see it as a golden opportunity to go to pastures new.Who can blame them?.Their country has been at war for 40 years.
Hence I say deport the millions of Afghanis in Pakistan, according to some such and awesome, peaceful and fair govt has come, go back to you home. We cannot afford to keep and feed you anymore. I think 40 years is a long enough time, time to go back.
 

Waqar_H

Senator (1k+ posts)
I don't understand if the tattibans are so awesome then why are 1000s of Afghanis risking life and limb to leave it?
Same question can be asked abt Imran khan, pakistani asylum seekers and economic migrants are found in huge numbers everywhere around the world.
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
یقین کرنا مشکل ہے کے تیرا سالہ جمہوری تسلسل سے مایوس جمہوروں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش نا کی ہو
 

Waqar_H

Senator (1k+ posts)
Oh is that why that kala saand ran away to edgeware?
Phir wohi youthiana rundi rona. Tou phir le yeh le apna youthiana beemari ki dawa:
Kala saand teri Maa ka phatta huwa kaala bh***ra dekh k bhaaga tha ?

Europe k har mulk meh, Turkey, Greece, Spain, Germany har jaggah Pakistani economic migrants , asylum seekers bharray huway hain. Har tarrah ki dubious activity meh involved hain..Go and see for yourself (if u ever get the schengen visa). Imran Khan k Naya Pakistan se Log apni jaan bacha k bhagnay pe majboor hain.
 

Citizen X

President (40k+ posts)
Phir wohi youthiana rundi rona. Tou phir le yeh le apna youthiana beemari ki dawa:
Kala saand teri Maa ka phatta huwa kaala bh***ra dekh k bhaaga tha ?

Europe k har mulk meh, Turkey, Greece, Spain, Germany har jaggah Pakistani economic migrants , asylum seekers bharray huway hain. Har tarrah ki dubious activity meh involved hain..Go and see for yourself (if u ever get the schengen visa). Imran Khan k Naya Pakistan se Log apni jaan bacha k bhagnay pe majboor hain.
Yaar kaalay saand ka naam lete hi tu kuch ziyada hi jazbati hogaya! lol
 

kayawish

Chief Minister (5k+ posts)
Phir wohi youthiana rundi rona. Tou phir le yeh le apna youthiana beemari ki dawa:
Kala saand teri Maa ka phatta huwa kaala bh***ra dekh k bhaaga tha ?

Europe k har mulk meh, Turkey, Greece, Spain, Germany har jaggah Pakistani economic migrants , asylum seekers bharray huway hain. Har tarrah ki dubious activity meh involved hain..Go and see for yourself (if u ever get the schengen visa). Imran Khan k Naya Pakistan se Log apni jaan bacha k bhagnay pe majboor hain.
about 95% punjabi hain ... go and confirm it.Punjabis from India side SIkhs and Punjabis from Pakistan they both living illegal in Europe.But in Germany Pakistanis are not involved in criminal activities like afghans are so thats a good sign atleast...
 

1234567

Minister (2k+ posts)

_120221892_18a40e98-5079-4453-bf76-248484a2be1a.jpg


’آنکھوں میں امریکہ یا کسی یورپی ملک جانے کا خواب بچپن سے تھا لیکن راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔‘ اچانک داؤد (فرضی نام) کو اپنے ایک رفیق سے ایسی بات پتا چلی کہ ان کی انکھیں چمک اٹھیں۔
اسے ایسا لگا کہ یہی وقت ہے کہ وہ اپنے خواب کی تعبیر حاصل کر سکتا ہے۔ داؤد نے اس خوشی میں فوری انتظام کیے اور گھر جانے کی بجائے بیوی بچوں کو ورکشاپ بلایا اور گاڑی میں بیٹھ کر کابل روانہ ہو گیا۔

’چلو چلو امریکہ چلو‘

یہ قصہ ہے ایک افغان پناہ گزین داؤد (فرضی نام )کا جن کی پیدائش پشاور کے کچہ گڑھی کیمپ میں ہوئی۔ وہ یہیں پلے بڑھے اور شادی کی لیکن اس کے باوجود انھیں افغان مہاجر پکارا جاتا ہے۔
داؤد اس جدوجہد میں تھے کہ کسی طریقے سے اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے امریکہ یا کسی یورپی ملک چلے جائیں لیکن کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
رواں ماہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد کابل کے ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ پہنچے اور یہ افواہ پھیل گئی کہ سب لوگ یہاں سے امریکہ اور یورپی ممالک جا رہے ہیں۔
طالبان کے خوف کی وجہ سے جو لوگ کابل ایئر پورٹ پہنچے اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اس سے یہ تاثر پھیل گیا کہ جیسے سب لوگ بغیر کسی دستاویزات، پاسپورٹ یا ویزے کے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک جا رہے ہیں۔
افغانستان سے تو بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے ہی تھے مگر پاکستان میں موجود افغان پناہ گزین بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے اور مقامی لوگوں کے مطابق ایک اچھی خاصی تعداد میں لوگ کابل پہنچ گئے۔
داؤد بھی ان میں شامل ہیں اور وہ کابل ایئر پورٹ کے باہر اس انتظار میں ہیں کہ کوئی راستہ کھلے اور وہ امریکہ چلے جائیں۔
پشاور میں داؤد سے اکثر ملاقات ہوتی تو یہی پوچھتے کہ ’میں کیسے برطانیہ یا امریکہ جا سکتا ہوں۔‘ میں اسے کوئی جواب نہیں دے پاتا تھا۔
وہ کہتے ’اچھا میرا ایک انٹرویو ہی کر لو۔ باہر ملک میں لوگ تو مجھے دیکھ لیں گے۔‘ لیکن ان کے لیے میں یہ بھی نہ کر پایا۔
چند روز قبل جب میری ملاقات داؤد سے ہوئی وہ دور سے مجھے دیکھ کر آگئے اور کہاں ’اب میرا وقت ہے اور میں جلد چلا جاؤں گا۔‘ میں ان کی بات سمجھ نہیں پایا۔
گذشتہ روز صبح ورکشاپ سے فون آیا تو پتا چلا داؤد کابل پہنچ گئے ہیں اور اب انھیں ایئر پورٹ داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔
ورکشاپ میں ان کے ساتھیوں سے معلوم کیا تو انھوں نے بتایا کہ بس اچانک انھوں نے کہا ’میں جا رہا ہوں۔‘
_120221888_560af8db-280a-48d4-88be-e027fe2359ac.jpg

یہاں تک کہ ’وہ خود گھر بھی نہیں گئے۔ بیوی بچوں کو ٹیکسی میں بلایا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کابل روانہ ہوگئے۔‘
انھوں نے ورکشاپ میں اپنی دکان ایک ساتھی کے حوالے کی اور سب سے کہا ’دعا کرنا میرا کام ہو جائے۔‘
کابل ایئر پورٹ پر موجود داؤد سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ یہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں لیکن ایئر پورٹ کے اندر جانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔ ’یہاں ایک گیٹ پر طالبان موجود ہیں اور دوسرے گیٹ پر غیر ملکی فوجی۔ کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔‘
_120222392_8215c2f3-2bcc-46e8-8a37-cb9584f8b981.jpg

داؤد نے بتایا کہ وہ وہاں پشاور سے آنے والے واحد شخص نہیں بلکہ ’سینکڑوں لوگ یہاں پہنچے ہیں لیکن ان میں کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔‘
داؤد نے پیر کو بتایا کہ وہ اب پھر ایئر پورٹ کی جانب جا رہے ہیں لیکن یہ مشکل نظر آتا ہے کہ وہ ایئر پورٹ کے اندر داخل ہو سکیں گے یا ان کی قسمت ایسی بدلے گی کہ وہ بھی کسی جہاز میں بیٹھ کر امریکہ جا سکیں گے۔
داؤد نے بتایا کہ امید پر دنیا قائم ہے لیکن اب امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔
بلکہ اب تو انھیں لگتا ہے کہ وہ واپس پاکستان ہی آئیں گے کیونکہ ’باہر ملک جانا اب بھی شاید خواب بن کر رہ جائے گا۔‘

’افغان پناہ گزین پاکستان میں اپنے اپنے کاروبار پر توجہ دیں‘

پشاور میں افغان پناہ گزینوں کی تنظیم کے سربراہ حاجی عصمت اللہ طوخی اس بارے میں پریشان ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک افواہ ایسی اُڑی ہے کہ اتنی تعداد میں ایسے لوگ جا رہے ہیں جن کے یہاں چلتے کاروبار ہیں اور وہ کاروبار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
عصمت اللہ نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنے چلتے ہوئے کاروبار چھوڑ کر باہر ملک جائیں بلکہ یہاں اپنے کاربار کو چمکانے کی کوششیں کریں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دو روز پہلے پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر اتنا ہجوم تھا کہ بیان سے باہر ہے۔
’یہاں افغان پناہ گزینوں کو یہ خبر جانے کہاں سے ملی ہے اور خبر یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک بیس بیس ہزار افغان پناہ گزینوں کو پناہ دیں گے۔ اب یہاں مقیم افغان پناہ گزینوں نے کوئی معلومات حاصل نہیں کیں اور کابل ایئر پورٹ کی جانب چل پڑے۔‘
حاجی عصمت اللہ نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق دو روز پہلے طورخم کے مقام پر سرحد پر کوئی تین ہزار افغان پناہ گزین پہنچے تھے جبکہ کابل ایئر پورٹ پر تو لوگ دیواریں پھلانگنیں کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ خاندان شاید اس بنیاد پر گئے ہیں جن کے رشتہ دار باہر ممالک میں رہتے ہیں اور انھوں نے وہاں سے حکومت کے ذریعے ای میل بھیجے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کا خطرہ لاحق ہے۔ اس کی بنیاد پر کابل ائیر پورٹ پر ان کے کاغذات کی تصدیق کے بعد ان کے باہر جانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
’ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہر کوئی جا رہا ہے بلکہ جن کے کاغذات نہیں ہیں انھیں قطر اور دیگر ممالک سے بھی واپس بھیج دیا جاتا ہے۔‘
_120222456_1adcaaf2-a522-4960-8918-77e602dd1956.jpg

افغانستان سے واپسی بھی مشکل

اس وقت ضلع خیبر میں طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد سے صرف پاکستان سے افغان شہریوں کو افغانستان جانے کی اجازت ہے جبکہ افغانستان سے صرف پاکستانی شہریوں کو آنے کی اجازت ہے۔
سرحد پر تعینات اہلکاروں نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے چند روز بعد سے واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ جانے والوں کا مقصد کیا ہے لیکن بظاہر لوگوں کی باتوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید وہ کابل ایئر پورٹ کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ لوگوں کو بغیر دستاویز کے باہر ملک جانے دیا جا رہا ہے۔
یہاں افغان پناہ گزینوں میں اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ اگر جانے میں ناکامی ہوتی ہے تو واپسی کیسے ہو سکے گی۔
اس وقت طور خم سرحد پر سختی ہے اور افغان شہریوں کو پاکستان نہیں آنے دیا جار ہا اور جو لوگ ابھی چلے گئے ہیں ان کی واپسی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
پشاور میں داؤد کے ساتھی بھی پریشان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیلیفون پر آخری مرتبہ جب بات ہوئی تو داؤد واپس آنے کا عندیہ دے رہے تھے لیکن اب ان کے لیے واپس پشاور آنا مشکل ہوگا۔
ان کے ایک ساتھی کا کہنا تھا کہ داؤد تو ’اپنی کشتیاں جلا کر گئے ہیں۔‘
سورس
Please, let them go to Kabul if they want to and dont let them come back to Pakistan.
 

Oppostion Is Mafia

Minister (2k+ posts)
I don't understand if the tattibans are so awesome then why are 1000s of Afghanis risking life and limb to leave it?
Who said Taliban are Awesome? No one

Without Taliban was USA puppet president, corrupt, drunk, Indian control, Indian friendship, fighting.

When Taliban in control no more fighting, No Indian or American bases they run away that is the only difference so just little better
 

Waqar_H

Senator (1k+ posts)
about 95% punjabi hain ... go and confirm it.Punjabis from India side SIkhs and Punjabis from Pakistan they both living illegal in Europe.But in Germany Pakistanis are not involved in criminal activities like afghans are so thats a good sign atleast...
True k 99% are from punjab. At Frankfurt HBF humaray yehi pakistani bhai har tarrah k ultay kaamo meh involved hain. In Barcelona they have their own Pakistani drug trafficking gangs and were recently in news for gang fights with eachother using knives and blades. In Netherlands they are known again to be in drugs dealing.

Har jaggah in ki harkato ki wajah se Pakistan ka naam badnaam. Saaray mulk ki beizzati aur aisay hi beghairat different forums pe ja k logo ko bhashan de rahay hotay hain.
 

kayawish

Chief Minister (5k+ posts)
True k 99% are from punjab. At Frankfurt HBF humaray yehi pakistani bhai har tarrah k ultay kaamo meh involved hain. In Barcelona they have their own Pakistani drug trafficking gangs and were recently in news for gang fights with eachother using knives and blades. In Netherlands they are known again to be in drugs dealing.

Har jaggah in ki harkato ki wajah se Pakistan ka naam badnaam. Saaray mulk ki beizzati aur aisay hi beghairat different forums pe ja k logo ko bhashan de rahay hotay hain.
yes i agree , but pakistani kam se kam europe main rape aur murder tu nahin kar rahe hai like afghanis and syrians doing ? Morocans are the king of drug tafficking in whole Europe and europeans love to go to Morocco on Holidays ?
 

Citizen X

President (40k+ posts)
Who said Taliban are Awesome? No one

Without Taliban was USA puppet president, corrupt, drunk, Indian control, Indian friendship, fighting.

When Taliban in control no more fighting, No Indian or American bases they run away that is the only difference so just little better
And what makes you think the taliban are our friends?
 

Citizen X

President (40k+ posts)
True k 99% are from punjab. At Frankfurt HBF humaray yehi pakistani bhai har tarrah k ultay kaamo meh involved hain. In Barcelona they have their own Pakistani drug trafficking gangs and were recently in news for gang fights with eachother using knives and blades. In Netherlands they are known again to be in drugs dealing.

Har jaggah in ki harkato ki wajah se Pakistan ka naam badnaam. Saaray mulk ki beizzati aur aisay hi beghairat different forums pe ja k logo ko bhashan de rahay hotay hain.
10592738_10204059627227376_3782033456785914682_n.jpg


? ? ? ? ? ? ?