پی او ایس سسٹم میں فراڈ،چوتھی فروخت کا ڈیٹا ایف بی آر کو ملتاہے،اہم انکشاف

fauah1h11.jpg


پوائنٹ آف سیلز سے منسلک ری ٹیلرز کی سیلز رئیل ٹائم ایف بی آر تک نہ پہنچنے کا انکشاف, سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر نے بتایا کہ پی او ایس میں فراڈ کے باعث 3 سیل کے بعد چوتھی سیل کا ڈیٹا ایف بی آر کو ملتا ہے، پی او ایس کا پرانا سسٹم ختم کرنے کے بعد نیا سسٹم متعارف کرایاجارہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے لائسنس شدہ کمپنیوں کا پوائنٹ آف سیلز سسٹم نصب ہوگا اور ایف بی آرمیں ڈیجیٹلائزیشن کا نظام بنانے میں ڈھائی سال لگیں گے۔ امجد زبیر نے کہا کہ نئے بجٹ میں پی او ایس کے نظام میں شفافیت لائی جارہی ہے، پی او ایس سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیوں کوایف بی آر لائسنس دے گا۔

گزشتہ پی او ایس میں کمپنیوں کیبنائے گئے سافٹ ویئرمیں ردوبدل آسان تھا، جس پر چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کیا گزشتہ پی او ایس میں جو فراڈ ہوا اس میں ایف بی آرکے لوگ ملوث تھے؟ تو چیئرمین نے بتایا کہ فراڈ کا بعدمیں پتہ چلا، کچھ سیلز کا ریکارڈ پی او ایس سے ہٹا دیا جاتا تھا۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ نےکمیٹی کو بتایا کہ نان فائلر کی موبائل سم، بجلی اور گیس کنکشن بھی منقطع کیے جائیں گے۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ نان فائلرپر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بھی زیادہ ہے، نان فائلر کی موبائل سم اور بزنس کو بھی بندکیا جاسکتا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کے مطابق 5 لاکھ نان فائلرز کی فہرست میں سالانہ 20 لاکھ سے زیادہ آمدن والےلوگ بھی ہیں۔ ماضی یہ لوگ ٹیکس ریٹرن میں اپنی آمدن ظاہر کر چکے ہیں, صرف گاڑی، پلاٹ یا گھر خریدنےکے لیے وقتی فائلر بننے والوں کو بھی اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔