پیپلزپارٹی نے گیلانی سمیت 3سینیٹرزکو بطور اراکین اسمبلی حلف اٹھانےسےروک دیا

7biallwlppppaskjhd.png

PS-18 گھوٹکی سے کامیاب رکن اسمبلی کو بھی حلف اٹھانے سے روک دیا گیا : ذرائع

ایوان بالا میں اپنی عددی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے اپنے 3 سینیٹرز کو بطور قومی وصوبائی اسمبلی رکن کے طور پر حلف اٹھانے اٹھانے سے روک دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے سابق وزیراعظم و سینیٹر یوسف رضا گیلانی سمیت اپنی سیاسی جماعت کے 3 منتخب اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کو حلف اٹھانے دے روک دیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے فی الحال حلف اٹھانے سے روک دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے باوجود سینیٹر نثار احمد کھوڑو بھی فی الحال حلف نہیں اٹھائیں گے، ان کے علاوہ سینیٹر جام مہتاب جو PS-18 گھوٹکی سے کامیاب ہوئے تھے ان کو بھی حلف اٹھانے سے روک دیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے اپنے سینیٹرز کو حلف اٹھانے سے روکنے کی وجہ سینٹ انتخابات میں اپنی عددی اکثریت برقرار رکھنے کو قرار دیا جا رہا ہے۔


واضح رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کا فارمولہ طے پانے کے بعد چیئرمین سینٹ کیلئے یوسف رضا گیلانی کو موسٹ فیورٹ امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر منتخب ہوئے 3 سال گزر چکے اور ان کے عہدے کی اتنی ہی مدت باقی بچی ہے، یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینٹ بننے کی صورت میں قومی اسمبلی کی نشست سے دستبردار ہونا پڑے گا جہاں ان کے صاحبزادے ضمنی الیکشن لڑیں گے۔

علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ انتخابات کا مجوزہ شیڈول تیار کر لیا ہے جس کے مطابق پولنگ ماہ مارچ 2024ء کے وسط میں کی جائیگی۔ سینٹ کے انتخاب میں مجموعی طور پر 100 سیٹوں میں سے 53 نشستیں خالی ہوں گی جبکہ اسمبلیوں کی تشکیل کے بعد 49 نشستوں پر وسط مارچ میں انتخابات ہوں گے۔