پہلے آپریشن عدم استحکام کی خبر چلا کر عوامی نبض کو جانچا جاتا ہے:مراد سعید

battery low

Minister (2k+ posts)
میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا جب سوات میں امن و امان کی صورتحال کی خرابی کے باعث فوج کی آمد ہوئی، جب تک حالات میں اتنی گنجائش بنتی کہ عید یا چھٹیوں پر گاؤں چلا جاتا تو موضوع ایک ہی ہوتا تھا “علاقے کے حالات” ایسے میں اگر کسی سے پوچھ بیٹھتا کہ کون حق پر ہے تو سب کا ایک ہی جواب ہوتا؛ ”ایک جانب فرشتے ہیں، دوسری طرف اولیاء کرام ان کے درمیان گناہگار تو بس ہم انسان ہیں۔۔ حشر تو سارا ہمارے لیے ہی رچا ہے“ارشد شریف کا جنازہ ہو یا ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور مقبول ترین لیڈر کو دھمکیاں دینا آئی ایس پی آر گھنٹوں صحافیوں اور قومی چینلز کو یرغمال بنا کر پریس کانفرنس کرسکتی ہے لیکن اپنے اصل کام؛

ملک کی سیکیوریٹی صورتحال پر بریفنگ دینے کا وقت نہیں ہے۔ پہلے آپریشن عدم استحکام کی خبر چلا کر عوامی نبض کو جانچا جاتا ہے، ردعمل دیکھ کر وزیراعظم آفس سے وضاحت دی جاتی ہے، اور پھر ذرائع سے خبریں چلوا کر مزید کنفیوژن پھیلائی جاتی ہے۔ ان بیانات، تشریحات اور وضاحتوں کے درمیان مالاکنڈ ڈیویژن میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ دیر میں یکدم کاروائیاں شروع ہوگئی ہیں، اور باجوڑ میں سینیٹر ہدایت اللہ حملے میں شہید کردیے گئے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جون ۲۰۲۲ سے گزشتہ برس اپریل ۲۰۲۳ تک ہم نے امن تحریک چلائی جس کے نتیجے میں مالاکنڈ ڈیویژن سے دہشتگردوں کی واپسی ہوئی۔ آپ نے خود بریکنگ نیوز چلوا کر اس بات کا کریڈیٹ لیا اگرچہ آپ کا دعوی تھا کہ وہاں ایسے کوئی عناصر موجود ہی نہیں تھے مگر ان کی واپسی کا کریڈیٹ آپ نے لیا!پھر جب مالاکنڈ میں شکست کے بعد جنوبی اضلاع میں یہ بساط بچھائی گئی تو آپ کو آگاہ کیا، خبردار کیا کہ اس آگ کو پھیلنے سے روکیں اس میں ہم سب کے گھر جلیں گے۔ آپ کے کانوں پر جوں کیا رینگتی آپ کی موجودگی میں آپ کی آنکھوں کے سامنے سالم انسان،

بمع اسلحہ قافلوں کے قافلے آ بسے۔ قرائن کچھ ایسا بیان کرتے ہیں کہ جن پہ تکیہ تھا انہوں نے شعلوں کو ہوا ہی دی۔ اب اگر یہ غلط بیانی ہے تو کیا یہ جاننا قوم کا حق نہیں بنتا؟ اور یہ بھی کہ جب دہشت گرد آرہے تھے تب تو آپ بولنے والوں کو فسادی اور نشاندہی کو پراپگینڈہ گردان رہے تھے۔ تو اب تاک میں کن کی بیٹھے ہیں؟ اور اب بھی جو جاگے ہیں تو یہ جاگے ہیں یا خود ساختہ فرشتوں اور خود ساختہ اولیاء کے مابین فیصلہ ہوا ہے ایک مرتبہ پھر ہم انسانوں کے ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کا وقت ہوا چاہتا ہے؟سوات سرکٹ
ہاؤس اور اسی طرح کے آپ دیگر سیف ہاؤسز پر ہونے والی وہ خوشگوار ملاقاتیں، جن کا انجام ہم عوام کے لیے عموماً ناخوشگوار رہا ہے یوں نظروں سے چھپی ہوئی بھی نہیں ہیں، دیکھنے والوں کو آپ کی ان ملاقاتوں سے کافی تشویش لاحق ہے،

فکرمندی میں گویا ہی نہ ہوجائیں۔میں صوبائی حکومت سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ امن او امان کے نام پر میٹنگز انتظامیہ کے دفاتر میں منعقد کرائیں نا کہ کیمپ آفسز میں۔ آپ کے ماتحت پولیس کے ادارے میں افسران کی ان حاضریوں کے باعث اہلکاروں میں چہ مگویاں بڑھ رہی ہیں۔ ہوش کے ناخن لیں۔ جو قوم ۲۰۰۷ میں جانتی تھی کہ ان کے ساتھ کھیلے جانے والے کھیل میں کھلاڑی کون ہیں اور تماش بین کون وہ ۲۰۲۴ میں تماشائی نہیں بنی بیٹھی رہے گی؟ ان کا ایک ہی پیغام ہے؛ بہت اٹھا لیے جنازے، اپنے ناکردہ گناہوں اور ان زعما کی غفلتوں کا بوجھ بھی!
https://twitter.com/x/status/1808734977959301496
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
یہ مشرقی پاکستان کے آپریشن بنگالی کش کے بعد آپریشن بلوچستان اور اب آپریشن پختون کش کئ تیاری ہے