پولیس، حکمران اور آوے کا آوا

Arslan

Moderator
لاہور کے علاقے مغل پورہ میں پانچ سالہ کلی کو جس انداز میں مسلنے کی کوشش کی گئی دِل و دماغ کو اُس نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ میں ایک کالم لکھ دوں گا، اٹھارہ اُنیس کروڑ میں سے چند سو افراد سڑکوں پر کتبے لے کر کھڑے ہو جائیں گے، حکمران یا اُن کے چمچے کرچھے بچی کی عیادت کے لئے تشریف لے جائیں گے اور نااہل پولیس کو احکامات جاری کر دیں گے ملزموں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ پولیس ظاہر ہے اپنے طور پر تو کچھ کرنے کے اب قابل نہیں رہی، سو حکمرانوں کے حکم پر اصلی یا نقلی ملزموں کو وہ پکڑ لے گی اور ممکن ہے اُنہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی ایسا طریقہ بھی اختیار کرے فوری انصاف کے لئے جو اِن دنوں بہت مقبول ہو چکا ہے۔ بلکہ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کچھ عدالتی حکمران بھی اِسی طریق کار پر ایمان لے آئے ہیں کہ چلیں اِس سے اگر اُن کی کمائی میں کمی ہوتی ہے تو کچھ نہ کچھ اُن کے کام میں بھی ہوتی ہے .مگر یہ سب ہو بھی گیا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے ایسے سانحات آئندہ نہیں ہوں گے؟ جب پورا معاشرہ ذاتی مفادات کی لپیٹ میں آگیا ہو، بے حسی و بے بسی عام ہو جائے تو ایسے سانحات کے آگے پہاڑ تو کیا ریت کی دیوار بھی کھڑی نہیں کی جا سکتی۔ حکمرانوں کا سارا زور سڑکیں تعمیر کرنے پر ہے۔ کردار کی تعمیر کا کچھ سوچنے کے لئے اُن کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ کردار کی تعمیر ہوگئی تو اُنہیں ووٹ کون دے گا؟ کردار کی تعمیر سے تو ایسے سانحات بھی رونما ہونا بند ہو جائیں گے جن کے تحت پانچ پانچ دس دس سالہ کلیوں کو مسل یا کچل دیا جاتا ہے۔ اور ایسے سانحات رونما ہونا بند ہوگئے تو حکمرانوں کو سیاست کرنے کے مواقع کیسے ملیں گے؟ یہ ثابت کرنے کے مواقع کیسے ملیں گے کہ کسی کے ساتھ ہونے والے ظلم یا زیادتی کا بذریعہ میڈیا اُنہیں پتہ چل جائے تو وہ فوراًاُس کا ایکشن لیتے ہیں.یہ کام وہ اِس لئے نہیں کرتے کہ بطور حکمران یہ اُن کے فرائض میں شامل ہے بلکہ اِس لئے کرتے ہیں کہیں اِس ضمن میں اُن کی سستی سے اُن کی حکمرانی کوکوئی خطرہ ہی لاحق نہ ہو جائے۔ حالانکہ اُن کی حکمرانی کو خطرہ ایسے واقعات یا سانحات سے نہیں اُن عالمی قوتوں کو ناراض کرنے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے جن کے ساتھ ساز باز یا سودے بازی کرکے وہ اقتدار میں آتے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کا تو مالی طور پر بھی اُنہیں بہت فائدہ ہوتا ہے جبکہ کردار کی تعمیر سے اُلٹے نقصان کا اندیشہ ہو تو اِس پر توجہ کوئی بے وقوف حکمران ہی دے گا۔ اور کردار کی تعمیر شاید ہو بھی نہیں سکتی کہ جیسی قوم ہوگی ویسے ہی اُس کے حکمران بھی ہوں گے۔ پانچ پانچ دس دس سالہ کلیوں کو مسلنے یا کچلنے والوں کو سزا یقینا مل ہی جائے گی عدالتوں کے ذریعے نہ ملی تو پولیس مقابلوں کے ذریعے مل جائے گی پر اُن مجرموں کو سزا کون دے گا جو چھیاسٹھ برسوں سے اِس ملک پر راج کر رہے ہیں اور اِس دوران ایک کارنامہ بھی ایسا نہیں کر سکے جس سے معاشرے کی سوچ میں کوئی بہتری پیدا ہوتی اور اُس کے نتیجے میں ایسے سانحات رونما ہی نہ ہوتے جن سے دنیا ہمارے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے ہم واقعی انسان ہیں؟ تحریر کو جذباتی رنگ دینے کی حد تک تو یہ جملہ درست ہے کہ ایسی شرمناک حرکت کوئی درندہ ہی کر سکتا ہے .

مگر حقیقت یہی ہے ایسی شرمناک حرکتیں درندے نہیں انسان ہی کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے ایسے انسانوں کو درندہ کہنا درندوں کی بھی توہین ہے۔ اور صرف انسان نہیں خیر سے مسلمان بھی یہ کہلواتے ہیں۔ اور میں سوچتا ہوں پھر وہ کون ہیں جو انسانیت کا احترام ا ِن مسلمانوں سے بڑھ کر کرتے ہیں؟ ممتاز صوفی دانشور اشفاق احمد (مرحوم) سے کسی نے پوچھا کوئی ہندو یا عیسائی نیک کام کرے تو وہ کیسے جنت میں جائے گا؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے پیرا ڈائز یا سورگ میں جائے گا۔ ہمارا المیہ یہ ہے ہم سمجھتے ہیں جنت صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ یہاں تو سینکڑوں بے گناہ انسانوں کی جانیں لینے والے بھی یہی سمجھتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جنت بھی وہ ہو جس میں اور کچھ نہ ہو حوریں ضرور ہونی چاہئیں۔ یہ ایک مائینڈ سیٹ ہے جسے تبدیل کرنے کے لئے معاشرے کے قلم کار، دانشور، اساتذہ اور علماءہی کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ سب اپنے اپنے اُلو او راِس ٹائپ کا دیگر ساز و سامان سیدھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اِن حالات میں بہتری کی کیا توقع کی جائے؟ میں تو سوچتا ہوں اتنی بہتری بھی کہیں ہم سے چھن نہ جائے کہ پورے ملک میں ظلم و زیادتی کے خلاف پندرہ بیس مظاہرے روزانہ ہو جاتے ہیں، جن کی بنیاد پر ہم دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر لیتے ہیں ہم اتنے گئے گزرے بھی نہیں کہ اپنے خلاف ہونے والے ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بھی بلند نہ کر سکیں۔ یہ الگ بات ہے اپنی آواز بعض اوقات ہم خود بھی نہیں سن پاتے.کسی کو منہ دِکھانے کے قابل تو ہم پہلے ہی نہیں تھے اور اب منہ چھپانے کے قابل بھی نہیں رہے کہ جتنے نقاب ہمارے چہروں پر تھے سب آہستہ آہستہ اُترتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں اتنے بدنام ہم ہو چکے ہیں ایک دوست بتا رہا تھا اگلے روز وزٹ ویزے کے لئے میں سفارتخانے گیا تو انٹرویو لینے والا گورا مجھے ایسے گھور رہا تھا ایک لمحے کے لئے یوں محسوس ہوا جیسے وہ یہ سمجھ رہا ہے لاہور میں پانچ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی میں نے کیاہے۔ اللہ جانے کتنے واقعات یا سانحات ابھی اور ہماری بدنامی کا باعث بننے ہیں؟ ریمنڈ ڈیوس کیس میں ثابت ہوگیا دنیا کا سب سے آسان کام پاکستانیوں کو خریدنا ہے۔ اور اب شاہ زیب قتل کیس میں یہ بات پھر ثابت ہوگئی ہے .


غربت سے ستائے ہوئے کچھ لوگ تو ایسے ہی اپنے بچوں کو اُٹھا کر بیچنے کے لئے سڑکوں پر آجاتے ہیں، اِس کے بجائے دولت مندوں کی اولادوں کے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو وہ قتل کروالیا کریں تو دو چار، پانچ دس ہزار کے بجائے تیس پینتیس کروڑ تک وہ آسانی سے کما سکتے ہیں، جس سے اُن کی باقی ساری زندگی پاکستان یا پاکستان سے باہر بڑے آرام سے گزر سکتی ہے
!
رہی بات پولیس کی تو سچی بات ہے پولیس اپنی اب ویسے ہی رہ گئی ہے اور حکمرانوں کو یہ فکر نہیں کہ پولیس کی نااہلی کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں عوام کا جینا کیوں حرام ہوگیا ہے؟ اُنہیں فکر اِس بات کی ہے اتنی نااہل پولیس اُن کی ذاتی حفاظت کیسے کرے گی؟ اگلے روز پنجاب کی تاریخ کے سب سے زیادہ تابعدار مگر نااہل آئی جی صاحب فرما رہے تھے کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزموں کو جلد گرفتار کر لیں گے .وہ تو اتنا جانچنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے اُن کی ماتحت پولیس کسی کیس میں کسی ملزم کو گرفتار کرکے لاتی ہے تو وہ اصلی ملزم ہوتا ہے یا نقلی ؟ بچی زیادتی کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے آسانیوں سے زیادہ تو پولیس کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں کہ اِس کیس میں کسی نقلی مجرم کو گرفتارکرکے فوری انصاف فراہم کرنا اب خاصا مشکل ہوگیا ہے، ورنہ نقلی مجرموں کو گرفتار کرنا تو پولیس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ چند برس قبل ایک صاحب کی گاڑی چوری ہوگئی۔ اُنہوں نے ایف آئی آر درج کروا دی اور ساتھ ہی اپنے ایک جاننے والے آئی جی سے سفارش بھی کروا دی۔ کچھ دِنوں بعد وہ صاحب تھانے گئے اور ایس ایچ او کو بتایا اُن کی گاڑی مل گئی ہے۔ اصل میں اُن کا ایک دوست اُنہیں بغیر بتائے ہی کہیں لے گیا تھا. ایس ایچ او بولا سر اب کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ آئی جی صاحب کے حکم پر ہم نے نہ صرف ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے بلکہ گاڑی بھی برآمد کر لی ہے .افسوس پولیس کا کوئی خوف رہ گیا نہ وقار.نہ ہی کوئی شریف آدمی پولیس پر اب اعتماد کرتا ہے۔ اگلے روز میرے ایک عزیز نے فون پر بتایا ڈیفنس کی ایک مارکیٹ میں اپنی بیگم سے دو قدم وہ آگے جا رہا تھا، اچانک بیگم کی چیخ سنائی دی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ گری ہوئی تھی اور مارکیٹ کے بائیں جانب اشارہ کرکے بتا رہی تھی دو موٹر سائیکل سوار ابھی اُس سے بیگ چھین کر اِس جانب فرار ہوگئے ہیں. میں نے اپنے عزیز سے کہا میں ابھی کسی پولیس افسر سے بات کرتا ہوں۔ کہنے لگا آپ کو فون اِس لئے نہیں کیا کہ پولیس افسر سے آپ بات کریں، میں نے تو اِس لئے فون کیا ہے عامر بھائی (ملک کے ممتاز ترین آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹرعامر عزیز) سے بات کرکے کوئی وقت لے دیں کیونکہ گرنے کی وجہ سے بیگم کی ایڑی میں سخت درد ہے۔ جس پولیس کو لوگ اپنے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی اطلاع تک کرنا چھوڑ دیں وہ پولیس صرف ایک ہی فریضہ بہت اچھے طریقے سے ادا کر سکتی ہے ۔ حکمرانوں کی مالش

source