پنجاب حکومت کے ہتک عزت کے قانون پر مختلف صحافیوں کے تبصرے

mehai1h1i11h.jpg


مطیع اللہ جان نے مسودہ شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت متعلق پنجاب حکومت کے نئے مجوزہ قانون میں ٹریبونل کی تمام کاروائی پر فریقین سمیت کوئی شخص بات یا رائے زنی نہیں کر سکے گا اور اِس شق کے سادہ ترجمے کیمطابق تو عدالتی رپورٹر بھی کاروائی کو رپورٹ نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شق واضح طور پر آئین کی آرٹیکل ۱۹ اور ۱۹-اے کے منافی ہے جس میں آزادیِ صحافت اور آزادئی اظہار رائے پر محض اسلام کی عظمت، قومی سلامتی، دوسر ممالک سے تعلقات اور افواجِ پاکستان سے جڑی تنقید پر بندش ہے اور وہ بھی مناسب قانون سازی کے ذریعے۔
https://twitter.com/x/status/1792809710686535988
مطیع اللہ جان نے کہا کہ ایک طرف نواز شریف اپنا پرانا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف انکی دخترِ رائیونڈ آزادئیِ رائے کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔

صحافی ثاقب بشیر نے ردعمل دیا کہ حکمران جماعت کو انقلاب ہمشیہ اس اپوزیشن میں یاد آتا ہے تب اپنے بنائے ہوئے قوانین پیکا کو بھی برا بھلا کہتے ہیں اب قانون بنانے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت تک بھی نہیں کر رہے
https://twitter.com/x/status/1792811872321962490
مہربخاری کا کہنا تھا کہ میڈیا لائبریریوں میں ایسی بے شمار تقاریر موجود ہیں جو اپوزیشن بنچز پر بیٹھنے والوں نے میڈیا کے حق میں کیں، مگر بنچ بدلے تو ارادے بھی 180 ڈگری سے بدل گئے

مہر بُخاری کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں سوشل میڈیا اور صحافیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے لاے گئے بل کے خلاف کالا قانون،کالے کرتوت نامنظور کے نعرے لگاۓ گئے اوراپوزیشن نے بل مسترد کر دیا جبکہ صحافیوں نے احتجاجا” اسمبلی سیشن کا بائیکاٹ کیا صحافیوں نے اس قانون کو صحافیوں کے حقوق پر شب خون قرار دیا جبکہ اسی قسم کا ایک قانون وفاق میں بھی لاۓ جانے کی تیاری کر لی گئی ہی
https://twitter.com/x/status/1792815955489276101
مصطفیٰ نوازکھوکھر نے ردعمل دیا کہ پنجاب میں ہتک عزت کے قانون کے بعد ٹک ٹکرز ، سوشل میڈیا حتی کہ واٹس ایپ میسجز پر بھی لوگوں کے خلاف شکایت اور جرمانہ کیا جا سکے گا۔ صحافی اور یو ٹیوبرز بھی اس کی زَد میں آئیں گے۔ ٹریبیونل کا کنٹرول بھی حکومت کے پاس ہو گا۔ یہ ایک کالا قانون ہے۔ تنقید سے خائف حکومت اب شہریوں اور صحافیوں کو آڑے ہاتھ لے گی۔ مسلم لیگ ن کی تو یہ حالت ہے کہ “ہور کوئی خدمت ساڈے لائق؟”
https://twitter.com/x/status/1792808358522605814
اس پر حسنات ملک نے کہا کہ پنجاب حکومت اس معاملے پر قانون سازی کرنے کی کتنی اہل ہے؟ ایک دن پی ایم ایل این اس ایکٹ پر توبہ کرے گی جیسا کہ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران پی ای سی اے قانون پر کیا تھا۔
https://twitter.com/x/status/1792813111881429468
صحافی نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا جیسے میں صحافی نہیں رہا، میں نے ساری عمر صحافت کو دی ہے اور میرا تمام تجربہ جو کچھ میں نے سیکھا، اس بل کے مطابق سے غلط ہے۔
 

khan_11

Chief Minister (5k+ posts)
پرانے زمانے کے بادشاہوں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ اپنی پسندیدہ کنیزوں کی خواہشوں پر بہت کچھ نچھاور کرتے تھے لیکن اکیسویں صدی میں پنجاب کی اسمبلی نے جو بل پاس کیا ہے وہ ایکایک وزیر کی بہن کے بارے میں سچ بتانے کیوجہ سے بنایا گیا ہے جس پر بھرپور احتجاج ہونا چاہیئے اگر قانون بنانا ہی تھا تو جھوٹی خبریں پھیلانے والوں پر اور افسران کی ویڈیوز بنا کر پریس کانفرنسز میں بلیک میل کرنے والوں کو سزا ہونی چاہیئے
 

Husaink

Prime Minister (20k+ posts)
mehai1h1i11h.jpg


مطیع اللہ جان نے مسودہ شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت متعلق پنجاب حکومت کے نئے مجوزہ قانون میں ٹریبونل کی تمام کاروائی پر فریقین سمیت کوئی شخص بات یا رائے زنی نہیں کر سکے گا اور اِس شق کے سادہ ترجمے کیمطابق تو عدالتی رپورٹر بھی کاروائی کو رپورٹ نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شق واضح طور پر آئین کی آرٹیکل ۱۹ اور ۱۹-اے کے منافی ہے جس میں آزادیِ صحافت اور آزادئی اظہار رائے پر محض اسلام کی عظمت، قومی سلامتی، دوسر ممالک سے تعلقات اور افواجِ پاکستان سے جڑی تنقید پر بندش ہے اور وہ بھی مناسب قانون سازی کے ذریعے۔
https://twitter.com/x/status/1792809710686535988
مطیع اللہ جان نے کہا کہ ایک طرف نواز شریف اپنا پرانا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف انکی دخترِ رائیونڈ آزادئیِ رائے کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔

صحافی ثاقب بشیر نے ردعمل دیا کہ حکمران جماعت کو انقلاب ہمشیہ اس اپوزیشن میں یاد آتا ہے تب اپنے بنائے ہوئے قوانین پیکا کو بھی برا بھلا کہتے ہیں اب قانون بنانے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت تک بھی نہیں کر رہے
https://twitter.com/x/status/1792811872321962490
مہربخاری کا کہنا تھا کہ میڈیا لائبریریوں میں ایسی بے شمار تقاریر موجود ہیں جو اپوزیشن بنچز پر بیٹھنے والوں نے میڈیا کے حق میں کیں، مگر بنچ بدلے تو ارادے بھی 180 ڈگری سے بدل گئے

مہر بُخاری کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں سوشل میڈیا اور صحافیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے لاے گئے بل کے خلاف کالا قانون،کالے کرتوت نامنظور کے نعرے لگاۓ گئے اوراپوزیشن نے بل مسترد کر دیا جبکہ صحافیوں نے احتجاجا” اسمبلی سیشن کا بائیکاٹ کیا صحافیوں نے اس قانون کو صحافیوں کے حقوق پر شب خون قرار دیا جبکہ اسی قسم کا ایک قانون وفاق میں بھی لاۓ جانے کی تیاری کر لی گئی ہی
https://twitter.com/x/status/1792815955489276101
مصطفیٰ نوازکھوکھر نے ردعمل دیا کہ پنجاب میں ہتک عزت کے قانون کے بعد ٹک ٹکرز ، سوشل میڈیا حتی کہ واٹس ایپ میسجز پر بھی لوگوں کے خلاف شکایت اور جرمانہ کیا جا سکے گا۔ صحافی اور یو ٹیوبرز بھی اس کی زَد میں آئیں گے۔ ٹریبیونل کا کنٹرول بھی حکومت کے پاس ہو گا۔ یہ ایک کالا قانون ہے۔ تنقید سے خائف حکومت اب شہریوں اور صحافیوں کو آڑے ہاتھ لے گی۔ مسلم لیگ ن کی تو یہ حالت ہے کہ “ہور کوئی خدمت ساڈے لائق؟”
https://twitter.com/x/status/1792808358522605814
اس پر حسنات ملک نے کہا کہ پنجاب حکومت اس معاملے پر قانون سازی کرنے کی کتنی اہل ہے؟ ایک دن پی ایم ایل این اس ایکٹ پر توبہ کرے گی جیسا کہ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران پی ای سی اے قانون پر کیا تھا۔
https://twitter.com/x/status/1792813111881429468
صحافی نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا جیسے میں صحافی نہیں رہا، میں نے ساری عمر صحافت کو دی ہے اور میرا تمام تجربہ جو کچھ میں نے سیکھا، اس بل کے مطابق سے غلط ہے۔
بھڑوے اس چیز کا قانون بنا رہے ہیں جو انکے پاس ہے ہی نہیں
 

Young_Blood

Minister (2k+ posts)
Sahafat mein jab PRO Gov, Pro PML N, Pro PPP, Pro Establishment, Pro property tycoon , Pro Industrials Owners sahafi majood ho gay to aisa he ho ga kiu k wo sahafat kam aur dalaali ziada karte hein. aur dalaal to aakhir dalaal he hota hai chahey wo apni behan ke he kiu na dalaali kare, uss mein sharam, haya, zameer naam ke koi cheaz nahi hoti, usse sirf apna zaati mufaad dikhai deta hai. so baqi jitney Pro Pti sahafi hein ya Neutral Sahafi hein unhein chahiay k filfor unity ka muzahira karte howe LAHORE HIGH COURT mein iss law k against petition daal dein. warna trust me iss law k baad bohat se sahafi berozgar ho jaein gay.