پنجاب حکومت کے ہتک عزت بل کیخلاف صحافی تنظیموں کا عدالت جانے کا اعلان

sahafiti1h1h12.jpg


ذرائع کے مطابق آل پاکستان نیوزپیرز سوسائتی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹر (سی پی این ای) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹر اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے نمائندوں نے پنجاب ہتک عزت بل 2024ء کیخلاف ورچوئل اجلاس میں شرکت کی۔ ذرائع ابلاغ کی نمائندہ تنظیموں مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے اجلاس میں عدالت جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے نمائندوں نے ورچوئل اجلاس میں پنجاب ہتک عزت بل کو سیاہ قانون قرار دےتے ہوئے مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیر رات کی تاریکی میں اس قانون کو تیار کیا گیا، حکومت پنجاب کی طرف سے پیش کیے گئے اس بل کو ہم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہتک عزت بل 2024ء کے خلاف شروع ہونے والی اس جدوجہد کو ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر آگے بڑھایا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ہتک عزت بل کے خلاف کوریج کے بائیکاٹ، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں سمیت تمام ممکنہ آپشنز زیرغور لائے جائیں گے۔
https://twitter.com/x/status/1792574384634200415
پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز ہی ہتک عزت بل منظور کیا گیا تھا جس پر پی ٹی آئی (سنی اتحاد کونسل) اور پارلیمانی کارروائی کور کرنے والے صحافیوں کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن کی طرف سے تجویز کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئی جس کے بعد ہتک عزت بل کے خلاف سول سوسائٹی کی 80 سے زیادہ تنظیموں نے بھی احتجاج کیا تھا۔

ہتک عزت بل پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کیا جسے حکومت کی طرف سے صحافیوں کی بل پر ووٹنگ موخر کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایوان میں ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا اور اراکین سنی اتحاد کونسل نے احتجاجاً بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اراکین پریس گیلری نے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آئوٹ کرنے کے ساتھ اسے میڈیا پر پابندی کے مترادف قرار دیا۔

صحافیوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ بل آزادی اظہار وصحافت کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس لیے اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ہتک عزت بل اختلاف رائے اور تنقید دبانے، خاص طور پر صحافیوں اور عوام کے ایک بڑے طبقے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ہتک عزت بل آمرانہ چال ہے جسے صاحب اقتدار افراد کو احتساب سے بچانے کیلئے تیار کیا گیا، بل کی دفعات ثبوت کے بغیر ہتک عزت کی کارروائی شروع کرنے کے ساتھ جرمانہ عائد کرنے کی اجازت دیتی ہیں جو قانونی دھمکیوں جیسے ہتھکنڈوں سے کم نہیں۔ بل میں صحافیوں اور اخبارات کی تعریف میں سوشل میڈیا صارفین کو شامل کر کے آن لائن اظہار رائے کی آزادی چھیننے کی خطرناک مثال قائم کر دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا اکائونٹس کی بندش ومجوزہ سزائیں جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں، حکومت پنجاب سٹیک ہولڈرز وسوسائٹی کی آوازوں پر کان دھتے ہوئے پیکا جیسی ایک اور قانون سازی کی کوشش نہ کرے۔ ہتک عزت بل مکمل طور پر ختم کرنے سمیت گورنر پنجاب سے اس بل پر دستخط نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز صحافتی تنظیموں واپوزیشن کے تحفظات واحتجاج کے باوجود ہتک عزت بل منظور کر لیا گیا تھا جس پر اپوزیشن نے شدید نعرے لگائے جبکہ صحافیوں نے پریس گیلری کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسمبلی احاطے میں احتجاج اور ملک گیر احتجاج کی کال دی۔ اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ یہ قانون آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔
 

Young_Blood

Minister (2k+ posts)
Pakistan mein agar koi aik idara hai jo Munafqat aur Munafiqo se bhara para hai aur jo munafqat, mufaad parast, aur chatukarni mein Number 1 per hai to ye sahafio ke tanzeemein hein. in haramkhor blackmailers k saath kabhi b koi b yakjehti na kare, Khan ke Govt se le ker ab tak darjano sahafio ne anchors ne sirf aur sirf jhoot bola, criminals ko defend keeya, jhooti reporting ke, Jhooti news de, politicians k chatukar bane, but iss tanzeem ne kisi aik sahafi k khilaaf karwai nahi ke, darjano sahafi anchors aise they jinho ne Govts se tohfay tahaief liay, but in sahafi tanzeemo ne apne kaan aankhein zuban bund kiay rakhey.