پرو اسٹیٹ لابیز اور معلُوماتی ذرائے۔

jani1

Chief Minister (5k+ posts)

21106833_1498213646902232_8645912324549878094_n.jpg


پرو - سٹیٹ لابیز اور معلُوماتی ذرائع۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایک فورسٹار ہوٹل میں نائٹ مینیجر کی پوسٹ پر کام کرتا تھا۔ وہ شہر کے عین وسط میں ہونے کے بجائے ایک طرف کو واقع تھا۔جس کی وجہ سے اُس ہوٹل میں آنے والے اکثر گیسٹس واک ان کے بجائے اونلائن بُکنگ کے ذریعے آتے تھے۔اُن بُکنگ و پیمنٹس کو فرنٹ ڈیسک اور اکاونٹس سٹاف ہینڈل کرتے تھے۔

آن لائن بُکنگ اور پیمنٹ وغیرہ کی وجہ سےکام کا بوجھ تقریبا نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ خاص طور پر ہم مینیجرز کے لیئے اور مینیجرز میں نائٹ مینیجرز تو سمجھیں سیٹ گرم کرنے کو ہی ہوتے تھے۔ اگر ہوٹل ایسی جگہ ہو جہاں چہل قدمی کرنے والوں یا ٹائم پاسرز کی کہانی نہ ہو نے کے برابر ہو تو سونے پہ سُہاگہ۔

وہ رات ہونے سے پہلے خُوبصُورت اور سلوٹوں سے پاک تری پیس سُوٹ پہن کر بس دس بندرہ منٹ کی ڈرائیو پر آرام سے ہوٹل آنا۔ دربان و فرنٹ ڈیسک کے ساتھ دُعا و سلام کا تبادلہ کرنے کے بعد سیدھے اپنے آفس میں جانا۔ اپنا بیگ وغیرہ رکھ کر اپنے ڈیسک کی بجائے نرم و گداز صُوفے پر ڈھیر ہوتے ہی اپنے ٹی سرور کو چائے کا آرڈر دینا۔ اور تھوڑی دیر ریلیکس کرنے کے بعد۔ باہر فرنٹ ڈیسک کا سرسری سا چکر اور اُن کےکام وغیرہ کا جائزہ لینا۔

پھر اپنے آفس آکر کھبی نیوز تو کھبی سوشل میڈیا پر ٹائم کو کل کرنا۔ رات بارہ یا ایک سے صُبح کی آذان تک گھوڑے و گدھے بیچ کر ہوٹل کے کسی خالی کمرے کے نرم بستر پر سونا اور پھر نماز و ناشتے وغیرہ سے فراغت کی تھوڑی ہی دیر بعد گھر کی راہ لینا۔ اتنا آرام دہ کام ہو اور اُس کا مُناسب دام ہو تو کون کم بخت اسےچھوڑنا یا اپنا تبادلہ کسی ایسی جگہ کرانا چاہتا ہوگا جو نا صرف گھر سے دُور ہو بلکہ شہر کے وسط میں گُنجان آبادی کے بیچ میں بھی ہو۔۔کوئی نہیں۔ ۔مگر۔۔میرے ساتھ ایسا ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ ۔۔۔۔کیسے۔۔؟۔

مُجھے جہاں ٹریننگ وغیرہ کے لیئے ایک ہفتے کو بھیجا گیا تھا وہ برانچ شہر کے وسط میں ہونے کے علاوہ وہاں آنے جانے کے لیئےکم از کم دو سے تین گھنٹہ ڈرائیو کی ضرُورت تھی۔بھلا میں کیسے وہاں کام کرسکتا تھا۔ تو پھر میں نے کیا کیا۔۔؟

ایک دن مُجھے میرے ائریا مینیجر کی کال موصُول ہوئی ۔اُس نے مُجھے کہا کہ مُجھے دو تین دن کے لیئے اُس سٹی سینٹر والی برانچ جانا ہوگا۔ میں سمجھا کہ بس دو تین دن کی بات ہے تو میں نے جانے کی ہامی بھر لی۔ مگر اُسی دن مُجھے میرے ہیڈ آفس میں موجود ذرائع سے کال موصُول ہوئی کہ اگر سٹی سینٹر والی برانچ میں کام کرسکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ یہ بتادوں کہ ان کا پلان ہے کہ آپ کو مُستقل یہاں ٹرانسفر کیا جائے اور اپنے ایک چہیتے کو آپ کی جگہ بھیج دیا جائے۔ میں نے اپنےذرائع کا شُکریہ ادا کرتے ہوئے سوچھتا ہوں کا کہہ کر فون بند کیا۔

۔ تھوڑی دیر سوچھنے کے بعد ائریا مینجر کو وٹس ایپ پر اتنا لکھا کہ ۔۔یہ دو تین دن ٹھیک ہیں پر اور نہیں تینکس۔۔ میں ایک دم سےگرم پانی میں نہیں کوُدنا چاہتا تھا۔ بس ذرہ اُن کو ٹٹولنے کی غرض سے یہ میسج کیا۔ جس کا جواب اگلے دس منٹ میں ملا کہ ۔۔ کیوں نہیں ۔ وہاں کا سٹاف آپکو پسند کرتا ہے۔۔ اُن کے اس جواب پر اپنے ذرائع کی اطلاع میں صداقت محسُوس ہوئی۔ جس کے جواب میں میں نے بس اتنا کہا کہ۔۔ وہ ٹھیک ہے ۔اُن سب کا شُکریہ ۔مگر میں وہاں کام نہیں کرسکونگا۔۔ اُس پر مینیجر کا اوکے کے بعد کُچھ نہیں آیا۔

کیوں کہ اللہ پر ایمان پُختہ تھا اور ہے۔میں نے پُختہ ارادہ کرلیا تھا کہ اگر انہوں نے مُجھے مجبُور کیا تو میں استعفیٰ دے دونگا۔ اللہ رزق دینےوالا ہے اور کہیں سہی۔ مگر پھر اُنہوں نے زیادہ تنگ نہیں کیا۔
وجہ یہی تھی کہ ایک تو میری کوالیفیکیشن اس پوسٹ کے لیئے موضوں تھی۔اور جب سے میں نے یہ ہوٹل جوائن کیا تھا کھبی غیر ضرُوری چھٹی نہیں کی۔ کھبی دیر سے نہ آیا نہ وقت سے پہلے گیا۔ کھبی فنانس میں گڑبڑ نہیں کی۔ سٹاف مُجھ سے خُوش تھا اور میں سٹاف سے۔ گیسٹس کے مسائل کو غور سے سُنتا اور اُنہیں پہلی ترجیح میں حل کرتا۔ یہ مانا کہ کام کے نیچر کی وجہ سے کُچھ آرام طلب ہوگیا تھا مگر اُنہیں میری کوئی شکایت کھبی موصُول نہیں ہوئی تھی۔ تو پھر وہ کیسے مُجھے کھونے کا رسک لے سکتے تھے۔ اس سے ایک بات یہ بھی پتہ چلتی ہے کہ یہ پرائیویٹ بزنس تھا تو اُنہیں میرٹ کی قدر کی تھی بجائے اپنے چہیتوں کی فرمائیشیں پُوری کرنے کے۔ ہاں اگر یہ اپنے وطن کا کوئی سرکاری ادارہ ہوتا تو قابل سے قابل شخص کو پھینک دیا جاتا اپنوں کو خُوش کرنے کے لیئے۔

اس کہانی سے میرا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ اگر آرام دہ اور اپنی پسند کا کام نہ ملے تو باقی کام بھی مت کرنا۔ بلکہ یہ کہانی بیان کرنے کا مقصد تھا کہ جب مُجھ جیسا معمُولی ورکر اپنے ذرائع بنا کر اُن سے اپنے مطلب کی معلُومات وصُول کرسکتا ہے تو ایک ایٹمی طاقت کیوں نہیں۔اور اگر آپ سچ پر ہیں تو اپنے حق کے لیئےکیسے کھڑا ہوا جاتا ہے۔ بشرطیکہ آپ مضبُوط مورال والے ہوں۔ یہ نہ کہ پیسے کی چوری و حرامخوری کی وجہ سے مضبُوط اہل و ایال والے۔

ٹرمپ کی بکواس اور اُس پر اپنے مُلک کی بے بسی سے وہ وقت یاد آیا۔ کہ اپنے ذرائع اور اپنے حق میں بنائی جانے والی لابی کیسے مُشکل وقت میں کام آیا کرتی ہے۔ اگر ہمارے ریاستی ادارے بجائے ۔۔ میرا قصُور کیا ہے اور مُجھے کیوں نکالا ۔۔جیسے مضحکہ خیز اور پٹے ہوئے ڈائیلاگز والوں جیسے ناثوروں پر اپنا اور قوم کا وقت برباد کرنے کے بجائے ساری توجہ مُلک کے مفاد پر لگاتے ۔ اُس کے لیئے ہر اہم جگہ اپنے حق میں لابیز اور معلُوماتی ذرائع بناتے اور ان حرامخوروں کی چمڑیاں اُدھیڑ کر یا پگلا کر مُلک کی دولت نکلاتے تو ایسے بے بس سے نہ دکھتے۔

اب بھی وقت ہے۔ نہ صرف اس نااہل ناثوُر کو ٹبر سمیت نشان عبرت بنانے کا۔ ان کی ساری دولت ضبط کرکے۔۔ بلکہ ان سے چھوٹے ناثُوروں سے بھی مُلک کا صفایا کرنے کا۔ اسی میں اس مُلک کی بھلائی ۔ مفاد اور مُستقبل ہے۔اللہ پاکستان کو سلامت رکھے اور ہم سب کو ایمان کی قوت عطا فرمائے ۔ آمین۔

http://facebook.com/JANI1JANI1/

 
Last edited:

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
اُمید ہے موڈ حضرات اس بے ضرر سی تحریر کو تھوڑی دیر اٹکا کر رکھیں گے۔۔(bigsmile)۔
املا کی غلطیوں کے لیئے معظرت خواہ ہونگا۔۔
 
Last edited:

mubarik Shah

Chief Minister (5k+ posts)
Aik na ehl sabka CM ki investment agar US aur Endia meh hoon tau woh kia bolay ga un hee kay khilaaf???

isi liey tau koi foreign minister hee nahee haey..
 

Foreigner

Senator (1k+ posts)
.میرے خیال میں ٹرمپ کا اتنا قصور نہیں ہے

پاکستان میں جب لوگ کوئی انتہائی معمولی تنخواہ پر کوئی ملازمہ بھی رکھتے ہیں تو اکثر اوقات اپنے آپ کو ان کا خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں، ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ کیونکہ وہ انہیں پیسے دیتے ہیں، اس لئے وہ ان کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کر سکتے ہیں. اگر ملازم تھوڑی ہمّت کر کے کچھ کرنے سے انکار کر دے تو اس کے ساتھ انتہائی نا قابل برداشت رویہ اختیار کر لیتے ہیں.

ابھی تھوڑے دن پہلے ہی ایک ٹی وی اینکر گریدہ فاروقی کا ایسا ہی رویہ دیکھنے کو ملا.. جو ہر ماہ لاکھوں کے حساب سے پیسے کماتی ہو گی لیکن صرف چند ہزار روپے کی خاطر ایک کم سن ملازمہ پر ظلم کر رہی تھی.

لہٰذا اگر آپ کسی کی نوکری کرتے ہیں تو پھر خود کو بغیر چوں چراں کئے، جائز یا ناجائز کام کرنے کے لئے تیار کریں. اور اگر کسی دن آپ کی غیرت جاگ جائے تو آپ اس نوکری کو لات مار دیں لیکن صرف اسی صورت میں اگر آپ یہ کرنا افورڈ کر سکتے ہوں.
 

tariisb

Chief Minister (5k+ posts)

ہمارے ذرائع ان کی طرف ، نجی نوعیت کے ہیں ، اور ان کے تعلقات ہمارے ہاں ؟ نجی ، نیم سرکاری ، سرکاری اور سادہ و خاکی سب جگہ ہیں

ایک صاحب ، بہت نفیس اور ذہین ، یہاں این جی او چلاتے ہیں ، "اسائنمنٹس" ملتی رہتی ہیں ، لیکن ساتھ اضافی بھی کام بھی کرتے ہیں ، اسی لیے پسند کیا جاتا ہے ، بار بار بلایا جاتا ہے ، دوستی ، تعلق ، کاروبار میں "ریاست" متعلق بہت سی چیزوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے

پرو-سٹیٹ لابیز سے کام لیا جاسکتا ہے ، لیا جانا چاہیے ، لیکن کون ، کیوں ، کیسے ؟ ہمارے ہاں معاملات سنجیدہ نہیں ، البتہ خفیہ اور ترجیحات سے الگ تھلگ ہیں ، ہمیں معلوم ہی نہیں ، نا ہمارے پاس کوئی زائچہ ، نا کوئی اعلانیہ پالیسی ، سب کھیل تماشہ
 
Last edited:

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
Aik na ehl sabka CM ki investment agar US aur Endia meh hoon tau woh kia bolay ga un hee kay khilaaf???

isi liey tau koi foreign minister hee nahee haey..


جی ۔۔۔وزیر خارجہ اگر بناتا تو یہ اپنی مزضی کیسے چلاتا۔۔

دوسری بات۔۔اس کے کُچھ کہنے نہ کہنے کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی۔۔

کیون کہ اس کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہی۔۔۔




 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
.میرے خیال میں ٹرمپ کا اتنا قصور نہیں ہے

پاکستان میں جب لوگ کوئی انتہائی معمولی تنخواہ پر کوئی ملازمہ بھی رکھتے ہیں تو اکثر اوقات اپنے آپ کو ان کا خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں، ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ کیونکہ وہ انہیں پیسے دیتے ہیں، اس لئے وہ ان کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کر سکتے ہیں. اگر ملازم تھوڑی ہمّت کر کے کچھ کرنے سے انکار کر دے تو اس کے ساتھ انتہائی نا قابل برداشت رویہ اختیار کر لیتے ہیں.

ابھی تھوڑے دن پہلے ہی ایک ٹی وی اینکر گریدہ فاروقی کا ایسا ہی رویہ دیکھنے کو ملا.. جو ہر ماہ لاکھوں کے حساب سے پیسے کماتی ہو گی لیکن صرف چند ہزار روپے کی خاطر ایک کم سن ملازمہ پر ظلم کر رہی تھی.

لہٰذا اگر آپ کسی کی نوکری کرتے ہیں تو پھر خود کو بغیر چوں چراں کئے، جائز یا ناجائز کام کرنے کے لئے تیار کریں. اور اگر کسی دن آپ کی غیرت جاگ جائے تو آپ اس نوکری کو لات مار دیں لیکن صرف اسی صورت میں اگر آپ یہ کرنا افورڈ کر سکتے ہوں.

بالکُل درست جناب۔۔۔

لیبر کا بہت بُرا حال ہے اپنے وطن میں۔۔

اللہ ہی کوئی بندوبست فرمائے۔۔۔


 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)

ہمارے ذرائع ان کی طرف ، نجی نوعیت کے ہیں ، اور ان کے تعلقات ہمارے ہاں ؟ نجی ، نیم سرکاری ، سرکاری اور سادہ و خاکی سب جگہ ہیں

ایک صاحب ، بہت نفیس اور ذہین ، یہاں این جی او چلاتے ہیں ، "اسائنمنٹس" ملتی رہتی ہیں ، لیکن ساتھ اضافی بھی کام بھی کرتے ہیں ، اسی لیے پسند کیا جاتا ہے ، بار بار بلایا جاتا ہے ، دوستی ، تعلق ، کاروبار میں "ریاست" متعلق بہت سی چیزوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے

پرو-سٹیٹ لابیز سے کام لیا جاسکتا ہے ، لیا جانا چاہیے ، لیکن کون ، کیوں ، کیسے ؟ ہمارے ہاں معاملات سنجیدہ نہیں ، البتہ خفیہ اور ترجیحات سے الگ تھلگ ہیں ، ہمیں معلوم ہی نہیں ، نا ہمارے پاس کوئی زائچہ ، نا کوئی اعلانیہ پالیسی ، سب کھیل تماشہ

شُکریہ تاری بھائی ۔۔کہانی کو سمجھنے کا۔۔
اصل معاملہ ہی یہی ہے کہ۔۔

مُلک سے پہلے اپنا مفاد رکھتے ہیں یہ حرامخور۔۔

اور اُسی حساب سے پالیسیاں اور لابیز بناتے ہیں۔۔۔

اب کے بار ۔۔ پہلی بار اُمید جگی ہے۔۔۔

اللہ اس مُلک کا حامی و ناصر ہو۔۔


 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
اُمید ہے موڈ حضرات اس بے ضرر سی تحریر کو تھوڑی دیر اٹکا کر رکھیں گے۔۔(bigsmile)۔
املا کی غلطیوں کے لیئے معظرت خواہ۔۔کوشش کرکے ٹھیک کرتا ہوں۔۔


ہمارے ذرائع ان کی طرف ، نجی نوعیت کے ہیں ، اور ان کے تعلقات ہمارے ہاں ؟ نجی ، نیم سرکاری ، سرکاری اور سادہ و خاکی سب جگہ ہیں

ایک صاحب ، بہت نفیس اور ذہین ، یہاں این جی او چلاتے ہیں ، "اسائنمنٹس" ملتی رہتی ہیں ، لیکن ساتھ اضافی بھی کام بھی کرتے ہیں ، اسی لیے پسند کیا جاتا ہے ، بار بار بلایا جاتا ہے ، دوستی ، تعلق ، کاروبار میں "ریاست" متعلق بہت سی چیزوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے

پرو-سٹیٹ لابیز سے کام لیا جاسکتا ہے ، لیا جانا چاہیے ، لیکن کون ، کیوں ، کیسے ؟ ہمارے ہاں معاملات سنجیدہ نہیں ، البتہ خفیہ اور ترجیحات سے الگ تھلگ ہیں ، ہمیں معلوم ہی نہیں ، نا ہمارے پاس کوئی زائچہ ، نا کوئی اعلانیہ پالیسی ، سب کھیل تماشہ




ایک بات میں اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ جس دن پاکستانی پالیسی سازوں اور حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں تمام تر اہمیت تھرڈ کلاس جذباتیت اور چیپ لفاظی سے زیادہ ملکوں کے لونگ ٹرم انٹریسٹ ہوتے ہیں اس دن سے بہتری شروع ہو جائے گی
شہد سے میٹھی سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے اونچی

These type of cheap phrases/rhetoric in the domain of foreign relations are simply rubbish. Even the banana states do not behave like this.

من حیث القوم ہمارے رویوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے
٧٠سال بعد بھی اس ملک کے پالیسی ساز اور اسکے حکمران انگریز کی غلامانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل پاۓ
یہی تمام برائیوں کی جڑ ہے
جانی کی تحریر اور گرو جی کے کمنٹس میرے نقطہ نظر کو شاید صیح ثابت کر رہے ہیں
 
Last edited:

mubarik Shah

Chief Minister (5k+ posts)

جی ۔۔۔وزیر خارجہ اگر بناتا تو یہ اپنی مزضی کیسے چلاتا۔۔

دوسری بات۔۔اس کے کُچھ کہنے نہ کہنے کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی۔۔

کیون کہ اس کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہی۔۔۔


jee bilkul chirriyaan un kay sur par say ghait chug chukeen hain.......
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)

ایک بات میں اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ جس دن پاکستانی پالیسی سازوں اور حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں تمام تر اہمیت تھرڈ کلاس جذباتیت اور چیپ لفاظی سے زیادہ ملکوں کے لونگ ٹرم انٹریسٹ ہوتے ہیں اس دن سے بہتری شروع ہو جائے گی
شہد سے میٹھی سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے اونچی

These type of cheap phrases/rhetoric in the domain of foreign relations are simply rubbish. Even the banana states do not behave like this.

من حیث القوم ہمارے رویوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے
٧٠سال بعد بھی اس ملک کے پالیسی ساز اور اسکے حکمران انگریز کی غلامانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل پاۓ
یہی تمام برائیوں کی جڑ ہے
جانی کی تحریر اور گرو جی کے کمنٹس میرے نقطہ نظر کو شاید صیح ثابت کر رہے ہیں


ٹوٹلی ایگری سر جی۔۔

اس جیسے چیپ ڈائیلاگز والے اب کیوں نکالا کرتے پھر رہے ہیں۔۔

یہ کمینے تو زرداری سے بھی گئے گُزرے نکلے۔۔

اُس کا تو پھر بھی کوئی وزیر خارجہ ہوتا تھا۔۔

اس نے تو وزارت خارجہ کا بیڑا ہی غرق کردیا۔۔

اللہ اسے اس کے انجام تک پہنچائے آمین۔۔




 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
.میرے خیال میں ٹرمپ کا اتنا قصور نہیں ہے

پاکستان میں جب لوگ کوئی انتہائی معمولی تنخواہ پر کوئی ملازمہ بھی رکھتے ہیں تو اکثر اوقات اپنے آپ کو ان کا خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں، ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ کیونکہ وہ انہیں پیسے دیتے ہیں، اس لئے وہ ان کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کر سکتے ہیں. اگر ملازم تھوڑی ہمّت کر کے کچھ کرنے سے انکار کر دے تو اس کے ساتھ انتہائی نا قابل برداشت رویہ اختیار کر لیتے ہیں.

ابھی تھوڑے دن پہلے ہی ایک ٹی وی اینکر گریدہ فاروقی کا ایسا ہی رویہ دیکھنے کو ملا.. جو ہر ماہ لاکھوں کے حساب سے پیسے کماتی ہو گی لیکن صرف چند ہزار روپے کی خاطر ایک کم سن ملازمہ پر ظلم کر رہی تھی.

لہٰذا اگر آپ کسی کی نوکری کرتے ہیں تو پھر خود کو بغیر چوں چراں کئے، جائز یا ناجائز کام کرنے کے لئے تیار کریں. اور اگر کسی دن آپ کی غیرت جاگ جائے تو آپ اس نوکری کو لات مار دیں لیکن صرف اسی صورت میں اگر آپ یہ کرنا افورڈ کر سکتے ہوں.


ہمارے ذرائع ان کی طرف ، نجی نوعیت کے ہیں ، اور ان کے تعلقات ہمارے ہاں ؟ نجی ، نیم سرکاری ، سرکاری اور سادہ و خاکی سب جگہ ہیں

ایک صاحب ، بہت نفیس اور ذہین ، یہاں این جی او چلاتے ہیں ، "اسائنمنٹس" ملتی رہتی ہیں ، لیکن ساتھ اضافی بھی کام بھی کرتے ہیں ، اسی لیے پسند کیا جاتا ہے ، بار بار بلایا جاتا ہے ، دوستی ، تعلق ، کاروبار میں "ریاست" متعلق بہت سی چیزوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے

پرو-سٹیٹ لابیز سے کام لیا جاسکتا ہے ، لیا جانا چاہیے ، لیکن کون ، کیوں ، کیسے ؟ ہمارے ہاں معاملات سنجیدہ نہیں ، البتہ خفیہ اور ترجیحات سے الگ تھلگ ہیں ، ہمیں معلوم ہی نہیں ، نا ہمارے پاس کوئی زائچہ ، نا کوئی اعلانیہ پالیسی ، سب کھیل تماشہ


ایک بات میں اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ جس دن پاکستانی پالیسی سازوں اور حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں تمام تر اہمیت تھرڈ کلاس جذباتیت اور چیپ لفاظی سے زیادہ ملکوں کے لونگ ٹرم انٹریسٹ ہوتے ہیں اس دن سے بہتری شروع ہو جائے گی
شہد سے میٹھی سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے اونچی

These type of cheap phrases/rhetoric in the domain of foreign relations are simply rubbish. Even the banana states do not behave like this.

من حیث القوم ہمارے رویوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے
٧٠سال بعد بھی اس ملک کے پالیسی ساز اور اسکے حکمران انگریز کی غلامانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل پاۓ
یہی تمام برائیوں کی جڑ ہے
جانی کی تحریر اور گرو جی کے کمنٹس میرے نقطہ نظر کو شاید صیح ثابت کر رہے ہیں

jee bilkul chirriyaan un kay sur par say ghait chug chukeen hain.......


forgot to tell ..it's not fiction nor a made up story..
shared my personal experience here with u friends.
Thanks.

 
Last edited:

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔ بھئی آپ کی ’’پرو۔سٹیٹ‘‘ کو ہم ’’پروسٹیٹ‘‘ سمجھے۔ سوچ میں پڑھ گئے کہ جانی صاحب ڈاکٹر جانی کب سے بن گئے۔
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔ بھئی آپ کی ’’پرو۔سٹیٹ‘‘ کو ہم ’’پروسٹیٹ‘‘ سمجھے۔ سوچ میں پڑھ گئے کہ جانی صاحب ڈاکٹر جانی کب سے بن گئے۔

:lol::lol::lol:...
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔ بھئی آپ کی ’’پرو۔سٹیٹ‘‘ کو ہم ’’پروسٹیٹ‘‘ سمجھے۔ سوچ میں پڑھ گئے کہ جانی صاحب ڈاکٹر جانی کب سے بن گئے۔


اپنی کم علمی کے لیئے معظرت۔۔

پرو۔ سٹیٹ سے بہتر پرو پاک لابیز رہتا۔
۔
 
Last edited: