پبلک اکاونٹس کمیٹی کوانتظامی امور میں مداخلت کا اختیار نہیں:پشاور ہائیکورٹ

noorlaam11.jpg

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی کیسز اور بینک آف خیبر کے خلاف انکوائری دوبارہ شروع اور ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے پر حکم پشاور ہوئیکورٹ نے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی کیسز اور بینک آف خیبر کیسز پر پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے اور کیسز کو دوبارہ کھولنے کے فیصلے کے خلاف سماعت ہوئی، جس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلے کو معطل کر دیا گیا ہے۔

وکیل درخواست گزار قاضی جواد نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی امور میں مداخلت کا اختیار پبلک اکائونٹس کمیٹی کے پاس نہیں ہے۔ پی اے سی کا مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی کیسز اور بینک آف خیبر کے خلاف انکوائری دوبارہ شروع کروانے کا حکم غیرقانونی ہے جس پر عدالت نے پی اے سی فیصلہ پر حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ چیئرمین نور عالم خان کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں نیب کو مالم جبہ، خیبر بینک، بی آر ٹی، بلین ٹری اور بینک آف خیبر کی انکوائریز دوبارہ کھولنے اور ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے چیئرمین نیب اور نیب افسران کو اثاثوں کی تفصیلات 15 روز کے اندر فراہم کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔

واضح رہے پی اے سی کے فیصلے کے خلاف سابق ڈائریکٹرز نے درخواست دائر کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 7 جولائی کے اجلاس میں مالم جبہ،بینک آف خیبر،بلین ٹری سونامی،بی آرٹی کی انکوائری دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا

اس سلسلے میں نیب کو ہدایت جاری کی تھی اور پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کیخلاف خاتون کو مبینہ ہراسگی کے معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور اجلاس میں پیش نہ ہونے پر دوبارہ طلب کیا تھا۔