پاکستان کی وراثتی اور خاندانی سیاست

Ammad Hafeez

Minister (2k+ posts)
090424111843_nationa_assembly_pm_466.jpg


پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بھائی سید احمد مجتبیْ گیلانی جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے رکنِ پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں جبکہ اس سے پہلے وزیرِاعظم کے صاحبزادے سید عبدالقادرگیلانی بھی پنجاب اسمبلی کے رکن چنے جا چکے ہیں۔
پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں وراثتی یا خاندانی سیاست کی ایک مضبوط روایت موجود ہے اور نہ صرف نسل در نسل یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ بیک وقت ایک ہی خاندان کے افراد کے اسمبلی میں ہونے کے رواج کو تقویت مل رہی ہے۔
وزیرِاعظم کے بھائی اور بیٹے کا بیک وقت اسمبلی کا رکن ہونا پاکستانی سیاست میں کوئی اچنبھے کی بات اس لیے نہیں کہ پاکستان میں بڑے سیاسی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک ہی وقت میں اسمبلی کا رکن بننے کی ریت نئی نہیں ہے۔
اگر سیاست دان باپ اور ان کی بچوں کی بات کی جائے تو وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کےعلاوہ وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز جبکہ وزیراعلیْ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ سابق وزیراعلیْ پنجاب چودھری پرویز الہٰی خود تو قومی اسمبلی کے رکن ہیں مگر ان کے بیٹے مونس الہیْ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔
وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کےعلاوہ وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز جبکہ وزیراعلیْ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ سابق وزیراعلیْ پنجاب چودھری پرویز الہٰی خود تو قومی اسمبلی کے رکن ہیں مگر ان کے بیٹے مونس الہیْ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔



مسلم لیگ قاف کے سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی چودھری انور چیمہ کے بیٹے چودھری عامر سلطان چیمہ رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی میں انور چیمہ اور ان کی بہو تنزیلہ چیمہ رکن قومی اسمبلی تھے جبکہ ان کے بیٹا عامر سلطان چیمہ پنجاب کابینہ کے رکن تھے۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم وفاقی کابینہ کے وزیر ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے مخدوم جمیل الزمان سندھ کابینہ کا حصہ ہیں۔
مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور ان کی بیٹی میمونہ ہاشمی دونوں اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ دو ہزار دو میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین اپنی بیٹی راحیلہ قاضی کے ساتھ بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔
جہاں باپ بیٹے یا بیٹی بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں وہاں ایک ایسی ماں بیٹی بھی ہیں جو موجودہ اسمبلیوں کی رکن ہیں ہیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنما جعفر اقبال کی اہلیہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ ان کی بیٹی زیب جعفر کے پاس پنجاب اسمبلی کی رکنیت ہے۔
بائیس سال پہلے سنہ انیس سو اٹھاسی میں سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو بھی ایک ہی وقت میں نہ صرف رکن قومی اسمبلی بنی تھیں بلکہ نصرت بھٹو بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر بھی رہیں۔
قومی اسمبلی میں ایسے دو بہن بھائی بھی ہیں جن میں ایک حکومت اور دوسرا حزب ِمخالف میں ہے۔ رکن قومی اسمبلی یاسمین رحمان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ ان کے بھائی مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر لاہور کے اس حلقہ سے کامیاب ہوئے جہاں سے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے انتخاب لڑنا تھا۔



وفاقی کابینہ کے رکن ڈاکٹر ارباب عالم حان اور ان کی اہلیہ عاصمہ ارباب بھی ان ارکان اسمبلی میں سے ایک ہیں جو میاں بیوی ہوتے ہوئے بیک وقت اسمبلی کے رکن ہیں۔ ان کےعلاوہ قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے شوہر ذوالفقار علی مرزا سندھ اسمبلی کے رکن ہیں۔
ان سے پہلے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر اور موجودہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ایک ساتھ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور ان اہلیہ سیدہ عابدہ حسین کو بھی بیک وقت رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل ہے۔
ناہیدخان اور ان کے شوہر صفدر علی عباسی بھی ان سیاسی جوڑوں میں سے ہیں جو بیک وقت پارلیمان کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ رکن اسمبلی جوڑوں میں مسلم لیگ نون کے خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی اور ان کی اہلیہ پنجاب اسمبلی کی رکن ہیں۔
موجودہ قومی اسمبلی میں دو بھائی بھی رکن ہیں۔ راجہ صفدر اور راجہ اسد سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں جہلم کے دو حلقوں سے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کے ہی خواجہ سلمان قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے پاس پنجاب اسمبلی کی رکنیت ہے۔ مسلم لیگ قاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور ان کے بھائی چودھری وجاہت حسین بھی بیک وقت پارلیمان کے رکن ہیں۔
مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور ان کی بیٹی میمونہ ہاشمی دونوں اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ دو ہزار دو میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین اپنی بیٹی راحیلہ قاضی کے ساتھ بیک وقت قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔



قومی اسمبلی میں ایسے دو بہن بھائی بھی ہیں جن میں ایک حکومت اور دوسرا حزب ِمخالف میں ہے۔ رکن قومی اسمبلی یاسمین رحمان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ ان کے بھائی مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر لاہور کے اس حلقہ سے کامیاب ہوئے جہاں سے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے انتخاب لڑنا تھا۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور بھی رکنِ قومی اسمبلی ہیں جبکہ نواز شریف کے داماد کپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی اسمبلی میں موجود ہیں جبکہ ان کے بھائی کو ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نون نے امیدوار نامزد کیا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔
پاکستان کی اسمبلیوں میں جہاں سیاست دانوں کے قریبی رشتہ دار بیک وقت رکن اسمبلی بنے وہیں سنہ دو ہزار دو میں قومی اسمبلی میں دو ایسے ارکان اسمبلی بھی تھے جو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوکر جیون ساتھی بنے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب وفاقی وزیر سردار یار محمد رند نے رکن اسمبلی عائلہ ملک سے شادی کی تاہم ان کی بعدازاں علیحدگی ہوگئی۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/06/100607_political_families.shtml
 

discover

Voter (50+ posts)
Then Join MQM. MQM is the only party whose representative are not relatives to any members. Credit goes to Altaf Bhai.
 

Saladin A

Minister (2k+ posts)
Pakistani politicians are the worst in kind in the world. They are controlled by a bigger mafia called feudal lords, bakers, financiers, embezzlers, cheats, liars and robbers.

There is nothing wrong in electing two members or three of a family as long as they are elected into the parliament on merits and not on hereditary qualification. The problem with the Pakistani electorate is that 90% of them are illiterate and serf of their masters and vote on their masters orders.

Bhuttos’, Shariffs’, Chaudareys’, Zardaris, Gillanis and other previlged few are the misfortune born into Pakistan’s history and cause of our many problems.

They are the symbols of favourtism, nepotism, despotism and are the ugly faces of capitalism, feudalism and materialism, and sooner we throw them out, the better for our country.
 

Ammad Hafeez

Minister (2k+ posts)
Yes, We want new body to take responsibility and run the whole system of Pakistan with sincerely. We should get-rid from the "Khandani Siasat".
 

rajakhanmd

Senator (1k+ posts)
I wish I had that much grip over history to share what role did the Grand Parents of our representatives play between 1800-1947? I assure you, that would really be an eye opener for all of us and will also shed some light on the crisis of leadership that we had or still have.
 
Last edited: