پاکستان میں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے کتنے کروڑ لڑکیوں کی شادی نہیں ہوپائی؟


jaziah1i2hh2.jpg


مہنگائی کے اس دور میں لڑکیوں کے لئے جہیز بنانا والدین کے لئے مشکل ترین کام ہوگیاہے, جہیز کی وجہ سے بڑی لڑکیوں کی بڑی تعداد شادی سے محروم ہیں, پنجاب اسمبلی میں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے 1 کروڑ 35 لاکھ لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے

مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی احسن رضا خان نے جہیز کو معاشرے کا ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جہیز لینے اور دینے کو جرم قرار دینے کا قانون پاس کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ون ڈش کی پابندی لگائی، جس سے غریب بچیوں کی شادیاں ہوئیں۔

احسن رضا خان نے مزید کہا کہ جہیز میں گاڑیاں دینے کے چکر میں غریب خودکشی پر مجبور ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ جہیز اور نمائش پر پابندی لگنی چاہیئے۔رکن پنجاب اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ وراثت کا قانون موجود ہے، بیٹی کا حصہ وراثت میں ملتا ہے، 80 فیصد طبقہ مزدور ہے، 32 ہزار روپے مزدوری لیتا ہے، یہ 32 ہزار روپے والا بچی کو اسکول میں داخل کرائے یا جہیز اکٹھا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کی پیدائش پر بات ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کرلیتا ہے، 1 کروڑ 35 لاکھ لڑکیاں شادی نہ ہونے پر گھر وں میں بیٹھی ہیں۔
وزیر بیت المال و سوشل ویلفیئر پنجاب سہیل شوکت بٹ نے بھی جہیز کو معاشرے کی لعنت قرار دیا اور کہا کہ ہم قانون بناکر جہیز جیسے ناسور سے معاشرے کو پاک بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہیز ناسور ہے اس کے خلاف انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، جہیز اس معاشرے کی برائی ہے، قوم کی بیٹیوں کو مختلف مسائل ہیں اور والدین بلیک میل ہوتے ہیں، محکمہ ایسا قانون لائے گا کہ بیٹیوں کو جہیز جیسے مسائل کا سامنا نہیں رہے گا۔

والدین جہیز کے مسائل کے سبب پریشان ہیں جبکہ بیشتر والدین شادی کے موقع پر ہونے والے اخراجات کے سبب مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ، قوت خرید نہ ہونے کے باعث والدین نے اپنے بچیوں کی شادی کے موقع پر رسومات کو انتہائی محدود یا ختم کر دیا ہے۔
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
پاکستان میں لڑکی کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد شادی کرکے بچے پیدا کرنا قرار دیا گیا ہے، اسی لئے لڑکی کا مول تول ہوتا ہے۔۔ لڑکیوں کو خود ہمت کرنی ہوگی، تعلیم حاصل کریں، اپنا روزگار خود کمائیں، معاشی طور پر خودکفیل ہوں اور پھر جو من چاہے کریں۔ جب تک عورتیں معاشی طور پر خودکفیل نہیں ہوتیں تب تک اس کی زندگی کے سارے فیصلے مرد ہی لیتا رہے گا اور اس کو اپنی پراپرٹی کے طور پر ٹریٹ کرتا رہے گا۔
 

RealPeople

Minister (2k+ posts)
....being a female/woman as a child, teenager, young adult/ mature adult is VERY difficult and challenging in our backwards society where only 20% men maybe expected to behave properly ....the rest 80% have no moral or ethical values... in order to give fair chance to the sinf-e-nazak....!
 

Melanthus

Chief Minister (5k+ posts)
پاکستان میں لڑکی کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد شادی کرکے بچے پیدا کرنا قرار دیا گیا ہے، اسی لئے لڑکی کا مول تول ہوتا ہے۔۔ لڑکیوں کو خود ہمت کرنی ہوگی، تعلیم حاصل کریں، اپنا روزگار خود کمائیں، معاشی طور پر خودکفیل ہوں اور پھر جو من چاہے کریں۔ جب تک عورتیں معاشی طور پر خودکفیل نہیں ہوتیں تب تک اس کی زندگی کے سارے فیصلے مرد ہی لیتا رہے گا اور اس کو اپنی پراپرٹی کے طور پر ٹریٹ کرتا رہے گا۔
Education is a business in Pakistan.Poor families can’t afford the fees to educate girls.The government schools don’t provide quality education.Goon League,PPP and the generals ruled Pakistan for 65 years but education was not a priority for them.They were busy looting the country and buying properties and businesses abroad.They don’t have proper labs or good teacher.Regarding jahaiz/dowry.This custom is from Hinduism.In Islam their is no dowry.In Arab countries the boy pays money to girl.
 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
There is no concept of dowry in Islam. This is one of the traditions that Muslims, particularly in the subcontinent adopted, and now it is considered a requirement for parents to give it to their daughters.
 

tahirmajid

Chief Minister (5k+ posts)
Society ne khud ko khud hi theek karna hota hay, aaj ager koi jahaiz mangey ga to kal ko us ko dena bhi hoga. Jub tuk young log muamlaat ko apney hath mein nahi lay laitey tub tuk aisey hi chaley ga, kuch mulko ko chhor kar saari dunya mein boy and girl khud hi apni shadi kay muamlaat fix karti hay. Jidher jidher arrange marriage ka system hay udher hi ye sub kharafaat hay
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
پاکستان میں لڑکی کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد شادی کرکے بچے پیدا کرنا قرار دیا گیا ہے، اسی لئے لڑکی کا مول تول ہوتا ہے۔۔ لڑکیوں کو خود ہمت کرنی ہوگی، تعلیم حاصل کریں، اپنا روزگار خود کمائیں، معاشی طور پر خودکفیل ہوں اور پھر جو من چاہے کریں۔ جب تک عورتیں معاشی طور پر خودکفیل نہیں ہوتیں تب تک اس کی زندگی کے سارے فیصلے مرد ہی لیتا رہے گا اور اس کو اپنی پراپرٹی کے طور پر ٹریٹ کرتا رہے گا۔


امریکا میں خودمختار خواتین کی بہتات ہونے کے باوجود شادی کی شرح گر رہی ہے. خودمختاری مسئلے کا حل نہیں بذات خود ایک مسئلہ بن چکا ہے
kraken-medium.png
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
امریکا میں خودمختار خواتین کی بہتات ہونے کے باوجود شادی کی شرح گر رہی ہے. خودمختاری مسئلے کا حل نہیں بذات خود ایک مسئلہ بن چکا ہے
kraken-medium.png

مولوی صاحب! میرا کمنٹ ایک بار پھر پڑھیں۔۔۔