پاکستانی طلبا میں خودکشی کا رجحان بڑھنے ل&#171

syed01

MPA (400+ posts)
rsz_student_depression.jpg
پاکستان میں طالب علموں میں خود کشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے ۔صرف ایک ہفتے میں تین طالب علموں نے موت کو گلے لگا لیا جبکہ ایک اسپتال میں زیر علاج ہے ۔ ملک میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ بچوں کی اموات کے ذمہ داران اساتذہ ہیں یا والدین ؟ حیرت انگیز طو ر پر طلبہ کی جانب سے کئے جانے والے خودکشی کے تازہ ترین واقعات میں سبھی طلبا اساتذہ اور والدین کی جانب سے مایوس ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں نے خودکشی جیسا مذمو عمل مجبورا اختیار کیا۔ ایک طالب علم کی جانب سے اپنی جان لینے کا تازہ واقعہ منگل کوکراچی کے علاقے پاپوش میں پیش آیا جہاں چھٹی جماعت کے تیرہ سالہ طالب علم رضا ولد ندیم نے گلے میں پھندا لگا کر خود کشی کر لی ۔ خود کشی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ رضا اسکول ٹیسٹ میں فیل ہو گیا تھا اور اس کی والدہ نے ٹیسٹ رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے قبل منگل کو ہی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں نویں جماعت کے تیرہ سالہ مدثر نے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی ۔ مدثرگورنمنٹ اسکول میں زیر تعلیم تھا اوراس کے انتہائی اقدام کی وجہ بھی پڑھائی کا دباؤ تھا ۔ نشتر اسپتال میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ طالب علم کے جسم کا پچاس فی صد حصہ جل چکا ہے اور اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ۔ ایک روز قبل خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں عبدالمبین نامی طالب علم نے گلے میں پھندا لگا کر اپنے ہی ہاتھوں سے زندگی ختم کر دی ۔ اس واقعے کی خاص بات یہ تھی کہ بچے نے موت سے قبل اپنی تمام کہانی ایک ڈائری میں قلمبند کر دی تھی۔16 اپریل کی ڈائری میں مبین لکھتا ہے کہ اس نے انگلش کی کلاس میں ٹیچر سے اردو میں پوچھا کیا سوال وجواب بھی لکھنے ہیں تو استاد نے مجھے کلاس روم سے باہر بلالیا کیونکہ اس نے کہا تھا کہ اردو بولنے پر پانچ روپے جرمانہ ہوگا۔ مبین کی ڈائری میں لکھا ہے کہ استاد نے میری شرٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر میری ماں کی تصویر نکال لی ، میں رونے لگا ، جس پر اس نے تصویر واپس کر دی ۔اس نے مجھے اتنا مارا کہ میرے ابو نے بھی اتنا کبھی نہیں مارا تھا ۔ڈائری میں اس نے اپنی والدہ سے یہ بھی کہا کہ وہ میرے بھائی اور بہن کو ہاسٹل نہ بھیجیں ۔ اس نے آخرمیں اپنی والدہ سے التجا کی کہ میری قبر پر رونا ضرور لیکن زیادہ نہیں ۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں چھٹی جماعت کے طالب علم بارہ سالہ عمر نے استاد کی ڈانٹ ڈپٹ اور والد کے رویے پر خود کو آگ لگا لی تھی اور اسپتال میں چل بسا ۔ عمروالدین کا اکلوتا بیٹا تھا اوردو دن کی چھٹیاں کرنے کے بعد جب وہ اسکول گیا تو استاد نے کہا کہ اپنے والد کو ساتھ لے کر آؤ لیکن والد نے اسکول جانے سے انکار کر دیا ۔ عمر نے استاد اور والد کے رویے پر تنگ آکر اپنی ہی جان لے لی ۔ درج بالا سب ہی واقعات سے اس بات کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طلبا کی جانب سے خودکشی کا انتہائی عمل صرف اسی وقت اختیار کیا گیا جب انہیں اساتذہ اور والدین دونون کی جانب سے کسی آس اور سہارے کی امید نہیں رہی۔عام طور سے دنیا بھر میں طلبا کی جانب سے اس موڑ پر پہنچ کر کسی بھی انتہائی قدم کو اختیار کی جاتا ہے جس میں اپنے ہی جان گنوانے کے علاوہ اس پر دباو ڈالنے والے فریقین میں سے کیس کی موت بھی شامل ہوسکتی ہے۔ ڈیکان کرونیکل کے مطابق ماہرین نفسیات کا کہنا ہےکہ ایسے واقعات زیادہ تر ایسے طلبا کے ساتھ رونما ہوتے ہیں جہاں والدین بچوں کو اپنا بوجھ سمجھتے ہوئے ہاسٹل میں اساتذہ کے حوالے کردیتے ہیں جبکہ دوسری جانب اساتذہ کی جانب سے بھی ان طلبا کے ساتھ مایوس کن رویہ اختیار کیاجاتا ہے۔ اس موقع پر طلبا کی جانب سے دونوں سروں تک ایک بار پھر رسائی کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے لیکن ناکامی کی صورت میں ہو کوئی بھی انتہائی قدم اٹھالیتے ہیں۔ انجینئرنگ اور آئی ٹی کے میدان میں ستائیسوین نمبر پر آنے والی کورین یونیورسٹی کوریا ایڈوانس انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی گزشتہ برس اس حوالے سے خاصی بدتر صورتحال پائی جاتی تھی۔مذکورہ یورنیورسٹی میں پڑھائی کے سخت قوا نین کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی کا سلوگن ہی نوبل انعام یافتہ طلبا کی ترسیل قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہاں طلبا میں بڑھتے ہوئے خودکشی کےرجحان سے تنگ آکر جب ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی گئیں تو یونیورسٹی انتطامیہ کے سامنے درج ذیل سامنے آئے۔ یونیورسٹی کو اپنا سلوگن تبدیل کرنا ہوگا۔ پڑھائی کے سخت قوانین کو تبدیل کرتے ہوئے طلبامین یہ سوچ پیدا کرنا ہوگی کہ مقابلہ کا رجحان پوری عمر باقی رہنا چاہئے اور وقتی ناکامی ہی انسان کو مزید بلندی اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔طلبا کی زندگیوں میں خوشی، غم،کامیابی ، ناکامی کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختراعی خیالات کو بدلتے ہوئے انہین اس بات کا یقین دلانا ہوگا کہ ہر غم کے بعد خوشی اور ناکامی کے بعد کامیابی آپ کی منتظر ہے۔ پاکستان میں میں بھی کئی طالب علموں کے انتہائی اقدام نے ملک ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی پہلے ہی تشویشناک ہے ۔ اس پر ایسے افسوس ناک واقعات سے تعلیم کے فروغ پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ ماہرین نفسیات کے مطابق حالیہ واقعات نے معاشرے کے جس پہلو کو بے نقاب کیا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے ۔ مذکورہ واقعات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں والدین اور اساتذہ دونوں ہی ذمہ دارانظر آتے ہیں کیونکہ حالیہ چند واقعات میں والدین نے بچوں کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈال دی تھی جبکہ اساتذہ نے اپنا وہ کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کیا جس کی ان سے توقع کی جاسکتی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر بچوں پر توجہ دی جائے تو ان کی حرکات و سکنات سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ان کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے والدہ سے زیادہ کوئی بھی آگاہی حاصل نہیں کر سکتا ۔ لہذا اب بچوں سے متعلق تمام فریقین کو اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی بصورت دیگر پاکستان بھی مذکورہ بالا کورین یونیورسٹی جیسے حالات کا سامنا کرسکتا ہے۔
 

PkRevolution

Chief Minister (5k+ posts)
Re: پاکستانی طلبا میں خودکشی کا رجحان بڑھنے ل&

I do request parents to take time for your children. Make regular discussions with them and support them in issues they are facing.
 

Young_Blood

Minister (2k+ posts)
Re: پاکستانی طلبا میں خودکشی کا رجحان بڑھنے ل&

I do request parents to take time for your children. Make regular discussions with them and support them in issues they are facing.

i agree with u,,,, but,,,, Media per jo news aati hein,, aur bachey bhaith ker dekhtey hein suntay hein, kya un per galat asar nahi parta in news ka,,, media un tamam logo ko kya rasta nahi dikha raha khud kashi kerne ka,,, where is PEMRA,,,, pemra ko action lena chahiay fil for,,, ta k aisi news dikhana bund ke jaein media per,,,,
hamarey muashrey ka sattya naas ker k rekh dia hai iss media ne,,,, koi tameeri kaam to ye kertey nahi ulta sattya naas kerne per tulay hein,,,,
GEO, ARY,, AAJ Tv billions of rupees kama rahay hein,,, kabhi aap ne dekha k in channels ne koi aik b aisa taleemi muqablay ka inniqaad keya ho,,, koi sports ka,, education k lihaaz se, jis main bacho ke maali imdaad b ke ja sakay,,, in channels se to laakh darjay APLUS ka channel hai jo rozana kisi gareeb yateem larki ke shaadi kerwatay hein...
 

tz00007

Minister (2k+ posts)
Re: پاکستانی طلبا میں خودکشی کا رجحان بڑھنے ل&

the fault is in 3 stages..

Parents
Teachers
Education system

teachers and educations system will take ages to improve.. we know wat goes on in pakistan..

but atleast parents should worry about their kids.

-dont let their kids watch news or current affair shows (these shows are designed to depress, n its affect on immature mind is immense)

-dont let kids watch indian dramas (they sensationalize things n turns an immature mind into sensitive and naive one)

-dont let kids play too much video games (they also affect the brain a lot, scientific studies have proven this)

-give much time to kids, play with them and encourage them to play and do sports.. let heir mind n body develop the natural way

-parents should avoid fighting, using bad words and other things infront of their kids.. do it when kids r not around...

- parents should not "scare" kids in terms of study n school.. dont say" fail hogaye tu jaan se mar doonga".. instead help them n encourage them..
 

PkRevolution

Chief Minister (5k+ posts)
Re: پاکستانی طلبا میں خودکشی کا رجحان بڑھنے ل&

the fault is in 3 stages..

Parents
Teachers
Education system

teachers and educations system will take ages to improve.. we know wat goes on in pakistan..

but atleast parents should worry about their kids.

-dont let their kids watch news or current affair shows (these shows are designed to depress, n its affect on immature mind is immense)

-dont let kids watch indian dramas (they sensationalize things n turns an immature mind into sensitive and naive one)

-dont let kids play too much video games (they also affect the brain a lot, scientific studies have proven this)

-give much time to kids, play with them and encourage them to play and do sports.. let heir mind n body develop the natural way

-parents should avoid fighting, using bad words and other things infront of their kids.. do it when kids r not around...

- parents should not "scare" kids in terms of study n school.. dont say" fail hogaye tu jaan se mar doonga".. instead help them n encourage them..

Yes i totally agree with you.
 
Re: پاکستانی طلبا میں خودکشی کا رجحان بڑھنے ل&

[h=2]Children around the Prophet[/h]
This 8 CD set introduces a new dimension to the Seerah or life of the Prophet Muhammad (SAW), which has rarely been looked at in past Seerah narratives: Focusing upon how the Prophet (SAW) taught, dealt, and interacted with children, many of whom grew up to become outstanding companions and model Muslims. In introducing parents and potential parents to the Prophetic example of dealing with children, Dr. Hesham Al-Awadi tackles the challenges and complexity of raising children, and the necessity to understand and cater for their needs. Throughout these lectures recorded at Birkbeck College, University of London, Dr. Al-Awadi, a renowned Seerah historian draws upon instances from the Prophet’s (SAW) life in order to address the emotional, spiritual, moral, sexual, and social dimensions of raising children in today’s society.