پاکستانی سیاست کے ’بنارسی ٹھگ‘

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک صرف چار سو خاندان اس ملک کی سیاست پر راج کرتے آئے ہیں۔ ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزار بنتی ہے۔
آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر سسکتے، بلکتے غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اور صاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے۔
پاکستان میں بدترین فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر قاف لیگ کی، اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی ایک ہزار خاندانوں کے جاگیردار، زمیندار، صنعت کار اور قبائلی سردار پہنچتے ہیں۔
اس وقت بیشتر سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں۔ ان نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں کے تمام تر فیصلے صرف چند لیڈر آمرانہ انداز میں کر رہے ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف عشروں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈر ہیں اور دوسری طرف ان کی پیروی کرنے والے نسلی غلام۔
پچاس کی دہائی سے لے کر آج تک تقریباﹰ ان ایک ہزار خاندانوں کا مرکزی مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے رشتہ داروں، اپنے خاندان یا پھر زیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے یا برادری کے مفادات کا تحفظ رہا ہے۔ ایک پلڑے میں پاکستان کے نوے فیصد قانون سازوں، ایم پی ایز اور ایم این ایز کی ذاتی لینڈ کروزرز، محل نما بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو رکھیے اور دوسرے پلڑے میں پاکستان کے دو سو ملین سے زائد عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیے، آپ کو فرق سے پتا چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر ’’جانفشانی‘‘ سے کام کیا ہے۔
اپنی ذاتی مفادات کے لیے یہ خاندانی سیاستدان کسی بھی جماعت کو چھوڑ سکتے ہیں اور کسی بھی نئے اتحاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان خاندانی سیاستدانوں کو نہ تو نظریات اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں سے کوئی دلچسپی ہے۔ جمہوریت کے ان ٹھیکیداروں کی تمام تر ہمدردیاں متوقع مالی فوائد، ممکنہ وزارتوں، عہدوں، اقتدار اور طاقت کے ساتھ نتھی ہیں۔ یہ لوازمات جو بھی فراہم کرے گا، چاہے وہ ڈکٹیٹر ہو، اسٹیبلشمنٹ ہو یا کسی بڑی سیاسی پارٹی کا رہنما، ان کی وفاداریاں انہی کے ساتھ ہوں گی۔ یہ نعرہ ہر مرتبہ جمہور اور جمہوریت کا لگاتے ہیں لیکن عملی طور پر جمہوریت اور جمہوری اقدار ان کے جوتے کی نوک پر ہیں۔
ایک طرف ایک غریب ووٹر کی بیٹی ہے، جسے زچگی کے وقت مناسب سہولیات نہیں ملتیں اور وہ جان کی بازی ہار جاتی ہے، دوسری طرف ایک سیاستدان کی بیٹی ہے، جس کے ناک کے بیوٹی آپریشن کا خرچ بھی حکومت اٹھاتی ہے۔ ایک طرف ایک ووٹر کی ٹیچر بیٹی ہے، جو کچے پکے راستوں کی دھول پھانکتے ہوئے عمر گزار دیتی ہے۔ دوسری طرف ان قانون سازوں کی وہ بیگمات، بیٹیاں، بھانجیاں اور بھتیجیاں ہیں، جن کی شاپنگ کے لیے پٹرول تک کسی بیوہ استانی کی تنخواہ کے ٹیکس سے آتا ہے۔
ایک طرف سخت گرمی اور پسینے کی بدبو میں کام کرنے والے مزدوروں کے وہ بچے ہیں، جن کے مقدر میں جعلی ادویات لکھ دی گئی ہیں تو دوسری طرف ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی وہ کرپٹ اشرافیہ ہے، جس کے لیے سر درد کی دوا بھی بیرون ملک سے آتی ہے اور ان کے گھوڑوں کے علاج کے لیے بھی اسپیشلسٹ موجود ہیں۔
ایک طرف غریب کے پسینے سے چلنے والی موٹے ٹائروں والی سرکاری گاڑیاں ہیں، جو سیاستدانوں کے بچوں کو ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے نکال کر ایئر کنڈیشنڈ اسکولوں تک چھوڑتی ہیں، دوسری طرف وہ بچے ہیں جو پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں بسوں اور ویگنوں سے لٹک کر سرکاری اسکولوں تک پہنچتے ہیں۔
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ جاگیردار، یہ وڈیرے، یہ صنعت کار تحریک انصاف میں جا کر یا کسی دوسری جماعت کا جھنڈا لے کر راتوں رات اپنے عشروں کے مفاد پرستانہ کردار کو بدل ڈالیں گے تو یہ صرف خام خیالی ہے، دیوانے کا خواب ہے۔ یہ الیکٹ ایبلز، یہ ایک ہزار خاندانوں کے چشم و چراغ، یہ وڈیرے، یہ جاگیردار عمران خان کی جھولی میں بیٹھ کر بھی خیال اپنے مفادات کا ہی رکھیں گے۔
چوروں اور ڈاکوؤں کی کم از کم یہ خوبی تو ہوتی ہے کہ وہ منافق نہیں ہوتے۔ آدمی دیکھتے ہی یہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ لوٹنے آئے ہیں۔ ٹھگوں یا نوسر بازوں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ پہلے بندے کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اس کے دل میں یقین پیدا کر دیتے ہیں کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں۔ لیکن لٹ جانے کے بعد انسان کو پتا چلتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہو چکا ہے۔
آئندہ انتخابات سے پہلے ایک مرتبہ پھر یہ بازی گر میدان میں اترے ہیں، ایک مرتبہ پھر ہسپتالوں میں لاعلاج مرنے والوں کا دکھ ان کو ستائے جا رہا ہے، ایک مرتبہ پھر غریب کی بیٹی کا جہیز نہ ہونے کا غم ان کی ’راتوں کی نیندیں اڑا چکا‘ ہے۔
یہ شعبدہ باز ماضی کی طرح پھر وہی پرانے سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ میرے علاقے کا جاگیر دار ایم این اے پھر کہہ رہا ہے کہ نوکریاں دلواؤں گا، نئی سڑکوں کا جال بچھا دوں گا، ہر دیہات میں گیس پہنچے گی، تمہارے بچے اسکول جائیں گے۔ عوام کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان نوسر بازوں نے تو گزشتہ برس بھی سڑک بنوائی تھی لیکن وہ ٹوٹی کیوں؟ ان ٹھگوں نے ٹھیکدار سے کتنا حصہ وصول کیا؟ عوام کے ٹیکس سے ہی سڑکیں اور پل بنا کر کیا احسان کیا ہے انہوں نے؟ سڑکوں اور تمام سرکاری کاموں کا ٹھیکہ ان کے دوستوں کو ہی کیوں ملتا ہے؟
جاگیر دار اناج اگانے والے بھوکے پیاسے کسانوں کی اولاد کو ایک مرتبہ پھر بریانی کی پلیٹوں کا جھانسہ دے رہے ہیں۔ دوائیاں سستی اور نئے ہسپتال بنانے کے خواب ایک مرتبہ پھر دکھائے جا رہے ہیں۔ وڈیروں کے ہاتھ غریب کے ’’ناپاک‘‘ ہاتھوں کو پھر چُھو رہے ہیں۔ مزدور کے پسینے کی بُو پھر چند لمحات کے لیے صاحب کے گلے پر لگے پرفیوم سے مدھم پڑ رہی ہے۔ پھر غریب اپنے بچے کو افسر بنتا دیکھ رہا ہے اور ایک مرتبہ پھر کسانوں کی آنکھوں میں کھادیں سستی اور گندم کے ریٹ مناسب ملنے کی اُمیدیں جاگنے لگی ہیں۔
لیکن پاکستان کے نسل در نسل دھوکا کھانے والے عوام کو اس وقت ہوش آتا ہے، جب نسل در نسل لٹیروں کی امپورٹڈ گاڑیاں ان کے درختوں کے حصے کا پانی تک پی چکی ہوتی ہیں۔ یہ سیاستدان ہرگز نہیں ہیں، یہ نوسر باز ہیں، یہ ٹھگ ہیں بلکہ یہ بنارسی ٹھگ ہیں۔
برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ سے ورثے میں ملنے والی پاکستان کی بیوروکریسی بھی ان ٹھگوں سے اتحاد کر چکی ہے، جو خود کو عوام کی خدمتگار کی بجائے ان کا مالک تصور کرتی ہے۔ تھانوں سے لے کر شہری انتظامیہ کے تمام دفاتر تک ان نوسر بازوں کا سکہ چلتا ہے۔
سچ پوچھیے تو ’دو ٹکے کے پاکستانی عوام‘ فوج، سیاستدانوں اور عدلیہ کے درمیان وہ فٹ بال بن چکے ہیں، جسے ہر کوئی ٹھوکریں مار رہا ہے۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ بھی اُنہی سیاستدانوں کے خلاف متحرک ہوتی ہے، جو بوٹوں والوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اور دوسری طرف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بھی اسی وقت بلند ہوتا ہے، جب لاہور والوں کا اپنا تخت و تاج لٹ جاتا ہے۔ ورنہ عوام کون اور یہ ووٹ اور ووٹر کون؟
فوج کو شاید کرپٹ سیاستدان ہی راس ہیں کیوں کہ وہ سر اٹھانے کی جرات نہیں کرتے اور سیاستدانوں کو فوج اس لیے پسند ہے کہ یہ ان کے حصے کا کام بھی وہ کر دیتی ہے اور انہیں اس کرسی تک پہنچا دیتی ہے، جہاں وہ عام حالات میں کبھی پہنچ ہی نہ سکیں۔
رہی بات عدلیہ کی تو وہ غسل خانے میں لگی وہ لائٹ ہے، جسے ہر آنے جانے والا آن آف کرتا رہتا ہے۔ جب لائٹ آتی ہے تو اسے غسل خانے میں داغ نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور جونہی سوئچ آف ہوتا ہے تو سب اچھا ہے۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اگر اپنے مفادات کو ٹھیس نہ پہنچے تو پاکستان میں فوج، عدلیہ اور سیاستدان اشرافیہ کو آپس میں کسی سے کوئی خطرہ نہیں، کوئی تکلیف نہیں۔ انصاف، جمہوریت، قانون اور اصولوں کی جنگ بس اسی وقت ہے، جب ان کے اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
پاکستان میں تبدیلی کے لیے پاکستان کے بنیادی انتخابی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس ملک میں انتخابات صرف امراء کے لیے ہیں۔ صرف وہی کروڑوں خرچ کر سکتے ہیں اور وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ وہ ایک کروڑ سے دس کروڑ بنائیں گے۔
اپنے مفادات کا خیال رکھنے والے ان جاگیرداروں، وڈیروں اور صنعت کاروں سے تبدیلی کی توقع ایک دیوانے کا خواب ہے۔ پاکستان میں جب تک تعلیم عام نہیں ہوتی، پاکستان کو جب تک کرپشن سے پاک، باشعور اور پڑھے لکھے سیاستدان میسر نہیں ہوتے، جب تک ملک کو ان ایک ہزار خاندانوں کی سیاست سے نجات نہیں ملتی تب تک تبدیلی مشکل ہے، عملی طور پر تب تک نہ تو فوج کی سیاست میں مداخلت کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایک آزاد عدلیہ کا قیام ممکن ہے۔


بقول راحت اندوری
بن کے ایک حادثہ بازار میں آجائے گا
جو نہیں ہو گا وہ اخبار میں آجائے گا
چور اچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں
کون کب کونسی سرکار میں آجائے گا

Source
 

imranigra

Politcal Worker (100+ posts)
Someone is angry. Rightfully so. Well written analysis. Koozay mein Darya band kiya hai.
 

Pakistan2017

Chief Minister (5k+ posts)
چوروں اور ڈاکوؤں کی کم از کم یہ خوبی تو ہوتی ہے کہ وہ منافق نہیں ہوتے

کے پی کے میں تحریک انصاف سے مل کر حکومت کے مزے لوٹنا
مرکز میں جن کو کرپٹ مافیا کہتے تھے تحریک انصاف کی مخالفت میں ان کو سپورٹ کرنے کو
آپ کیا کہیںگے ؟
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
کے پی کے میں تحریک انصاف سے مل کر حکومت کے مزے لوٹنا
مرکز میں جن کو کرپٹ مافیا کہتے تھے تحریک انصاف کی مخالفت میں ان کو سپورٹ کرنے کو
آپ کیا کہیںگے ؟
میرے حساب سے انھے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لینا چاہے
 

patriot

Minister (2k+ posts)
ساتھ میں حل بھی بتا دیں ۔
تعلیم اور شعور کون دے گا؟
 

Uns Sheikh

Politcal Worker (100+ posts)
الطاف بھائی ہیں جو مڈل کلاس کے نمائندے ہیں لیکن اسی لئے ان کو بری طرح بدنام
کیا جارہا ہے ۔ یہاں کئی تھریڈز میں بات چل رہی ہے کہ الطاف بھائی نے نازیہ حسن کا
ریپ کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نازیہ حسن الطاف حسین کی غیر اعلانیہ بیوی تھی اور
بیوی سے جنسی لذت حا صل کی جاتی ہے جو کہ الطاف بھائ نے بھی کیا۔​
 

با شعور

Senator (1k+ posts)
As received
ایک عورت کو کسی نے خوش
فہمی میں ڈال دیا کہ وہ بہت خوبصورت ہے، چنانچہ اس نے اپنی شادی کیلئے تین شرطیں رکھ دیں کہ

جب تک اس کی مرضی نہیں ہوگی، شوہر اسے ہاتھ تک نہیں لگائے گا،
جب تک وہ نہیں چاہے گی، شوہر بچہ پیدا کرنے کی فرمائش نہیں کرے گا،
جب تک اس کا دل نہیں کرے گا، شوہر اسے کھانا پکانے پر مجبور نہیں کرے گا

شرائط مشکل تھیں، کوئی بھی پوری کرنے کو تیار نہ تھا۔ کئی سال گزر گئے، اپنے آئیڈیل کی تلاش میں اس عورت کے بالوں میں چاندی آگئی ۔ ۔ ۔ پھر مجبوراً وہ محلے کے ایک رنڈوے کمہار سے شادی پر تیار ہوگئی۔

اب ہر روز وہ کمہار اپنے سارے دن کی تھکان اتارنے کیلئے اس سے مالش کرواتا ہے، پھر ظالم دنیا کے لگائے گئے کچوکوں کا اس سے بدلہ لیتا ہے ۔ ۔ ۔ جس کے نتیجے میں ہر سال وہ عورت پیٹ سے ہوتی ہے اور ایک کے بعد ایک بچہ پیدا کررہی ہے ۔ ۔ ۔ دن کو نہ صرف کمہار اور اس کے گھر والوں کیلئے کھانا پکاتی ہے، بلکہ شام کو کمہار کے کھوتے کیلئے بھی چارہ وغیرہ تیار کرتی ہے ۔ ۔ ۔

آج شہباز شریف نے بھی تین شرائط کا مطالبہ کیا ہے اور نہ ماننے کی صورت میں الیکشن کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے ۔ ۔ ۔

پہلی شرط یہ کہ فوج الیکشن کے پورے پراسیس سے علیحدہ ہوجائے،اور کسی پولنگ سٹیشن پر تعینات نہ ہو۔

دوسری شرط یہ کہ نگران وزیراعلی پنجاب کو تبدیل کیا جائے جو ان کے مرضی کے افسروں کو تعینات نہیں کرتا،

تیسری شرط یہ کہ عدالتوں سے نااہل افراد کو الیکشن کیلئے اہل قرار دیا جائے ۔ ۔

مجھے لگ رہا ہے کہ جو حال اس خاتون نے اپنا کیا، وہی حال ن لیگ کا بھی ہونے جارہا ہے ۔ ۔ ۔ اگر ن لیگ بائیکاٹ کرتی ہے تو اس کے 80 فیصد سے زائد رہنما اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے کیونکہ اگر وہ حلقے میں سیاست نہ کرسکے تو ان کے مخالفین جیت کر ان کا مستقل بنیادوں پر وہاں سے صفایا کردیں گے،

اس عورت کی تو بچت ہوگئی کہ اسے صرف کمہار کو ہی برداشت کرنا پڑا تھا، ن لیگ کو کمہار کے ساتھ ساتھ اس کا کھوتا بھے خوش کرنا پڑے
 

Hira Maroof

Politcal Worker (100+ posts)
الطاف بھائی ہیں جو مڈل کلاس کے نمائندے ہیں لیکن اسی لئے ان کو بری طرح بدنام
کیا جارہا ہے ۔ یہاں کئی تھریڈز میں بات چل رہی ہے کہ الطاف بھائی نے نازیہ حسن کا
ریپ کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نازیہ حسن الطاف حسین کی غیر اعلانیہ بیوی تھی اور
بیوی سے جنسی لذت حا صل کی جاتی ہے جو کہ الطاف بھائ نے بھی کیا۔​

واہ بھئی، کسی کو موت کے بعد اگر بیوی بنا یا جا سکتا ہے تو ضرور نازیہ حسن
الطاف حسین کی بیوی بن سکتی ہے ورنہ تو ایسی کوئی بات میڈیا میں نہیں آئی۔
میڈیا تو خفیہ سے خفیہ بات بھی کھو ج نکالتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ دو اس قدر
مشہور و معروف لوگوں کی خفیہ شادی منظر عام پہ نہ لائی گئی۔
دوسرے یہ کہ الطاف حسین نے نازیہ حسن کو ریپ کیا اور جنسی طور پہ ایک ملازمہ
کی طرح بار بار استعمال کیا یہ بات تو کئی اخبار بتاتے ہیں ستا ئیس سال پرانے لیکن
نازیہ نے چھپ کے الطاف سے شادی کی تھی یہ کوئی نہیں بتاتا۔
اس شادی میں خالی آپ شریک ہوئے تھے کیا؟؟؟
یا آپ ہی نکا ح خوان تھے الطاف کمینے کی طرف سے ؟؟؟​
 

با شعور

Senator (1k+ posts)
الطاف بھائی ہیں جو مڈل کلاس کے نمائندے ہیں لیکن اسی لئے ان کو بری طرح بدنام
کیا جارہا ہے ۔ یہاں کئی تھریڈز میں بات چل رہی ہے کہ الطاف بھائی نے نازیہ حسن کا
ریپ کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نازیہ حسن الطاف حسین کی غیر اعلانیہ بیوی تھی اور
بیوی سے جنسی لذت حا صل کی جاتی ہے جو کہ الطاف بھائ نے بھی کیا۔​
O bhai Khuda ka khof kro, us Pakistan dushman ko kahan se le aae beech main. He is killer of countless innocent lives... Anyhow aap ko bhi rae ka haq hasil hai
 

با شعور

Senator (1k+ posts)
"If you tell a big enough lie and tell it frequently enough it will be believed".
Adolf Hitler

See what's happening here in Pakistan, the most corrupts in Pakistan are most spoken about and admired, here are few examples

1. Lahore ko paris bana denge
2. Qarz utaro mulk sanwaro
3. Roti kapra aur makan
4. Bhutto zinda hai
5. Jailain kati hain
6. Hamare khandan ne qurbanian di hain
7. Khalai makhlooq
8. Establishment ki sazish
9. Awam rad krenge
10. Dillon ke wazeere azam

And many more...
To cut it short on ground kaam ho ya na ho, actually koi policies hon ya na ho... Bus media pe dhandora peeto... Aur awam ko jhoot se behlae rakho barian badlo aur apna pait bbarte jao.
Wake up Pakistan
 

با شعور

Senator (1k+ posts)
"An ordinary man has an extra Ordinary eye to see for what is genuine and what is fake..."
Sir W Churchill

I read this wonderful quote which left me ablaze that what has happened to our ordinary people, why they can't distinguish between fakes and genuine???

Comments please
 

AntiGossip

Senator (1k+ posts)
We wish Pk was 0.001% close to mind-set of Germany than Pk would have territory from Egypt to Mynmar Burma under its ctrl ... ha ha ha !
 

HimSar

Minister (2k+ posts)
It is simple understanding:
Khalai makhlooq (air-borne/foreign beings)= sharif family, zardari family
Ungli= sharif family's trademark
Looti hui daulat =money stolen by sharif and zardari regimes
Bairooni hath= foreign intervention in Pak policy making, as and when requested by sharif/zardari family
..
 

Uns Sheikh

Politcal Worker (100+ posts)
واہ بھئی، کسی کو موت کے بعد اگر بیوی بنا یا جا سکتا ہے تو ضرور نازیہ حسن
الطاف حسین کی بیوی بن سکتی ہے ورنہ تو ایسی کوئی بات میڈیا میں نہیں آئی۔
میڈیا تو خفیہ سے خفیہ بات بھی کھو ج نکالتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ دو اس قدر
مشہور و معروف لوگوں کی خفیہ شادی منظر عام پہ نہ لائی گئی۔
دوسرے یہ کہ الطاف حسین نے نازیہ حسن کو ریپ کیا اور جنسی طور پہ ایک ملازمہ
کی طرح بار بار استعمال کیا یہ بات تو کئی اخبار بتاتے ہیں ستا ئیس سال پرانے لیکن
نازیہ نے چھپ کے الطاف سے شادی کی تھی یہ کوئی نہیں بتاتا۔
اس شادی میں خالی آپ شریک ہوئے تھے کیا؟؟؟
یا آپ ہی نکا ح خوان تھے الطاف کمینے کی طرف سے ؟؟؟​
حرا پیاری بچی
آپ بہت ہی سیدھی ہیں۔یہاں نازیہ حسن جیسی لڑکی کی بات ہورہی ہے وہ نکاح کی پروا ہ کہاں کرتی تھی؟
اس نے چودھری نثار کو بھی بغیر نکاح کے اپنی سروسز فراہم کیں ۔ جہانگیر خان کو بھی۔
اس کے بعد الطا ف بھائی کو بھی سکون پہنچانے لگی۔
وہ الطاف کے بستر میں اپنی خوشی سے جاتی تھی یہ میوچل انڈر اسٹینڈنگ والا جنسی تعلق تھا۔
وہ الطاف کی غیر اعلانیہ اور ناجائز بیوی تھی جس کے لئے اردو اور انگریزی میں کافی غلیظ الفاظ
ہیں جو میں استعمال نہیں کرنا چاہتا۔
نازیہ حسن نے پورے دوسا ل الطاف کی بیوی کے فرائض انجام دئیے۔ الطاف بھائی کو جنسی طورپر
آسودہ رکھنا اس کی ڈیوٹی تھی جس سے وہ خود بھی لطف اٹھا یا کرتی تھی۔
لہذا یہ سیکس تھا ریپ نہیں تھا۔ جنسی تعلق رضامندی سے نہ کہ ریپ۔​
 

Hira Maroof

Politcal Worker (100+ posts)
حرا پیاری بچی
آپ بہت ہی سیدھی ہیں۔یہاں نازیہ حسن جیسی لڑکی کی بات ہورہی ہے وہ نکاح کی پروا ہ کہاں کرتی تھی؟
اس نے چودھری نثار کو بھی بغیر نکاح کے اپنی سروسز فراہم کیں ۔ جہانگیر خان کو بھی۔
اس کے بعد الطا ف بھائی کو بھی سکون پہنچانے لگی۔
وہ الطاف کے بستر میں اپنی خوشی سے جاتی تھی یہ میوچل انڈر اسٹینڈنگ والا جنسی تعلق تھا۔
وہ الطاف کی غیر اعلانیہ اور ناجائز بیوی تھی جس کے لئے اردو اور انگریزی میں کافی غلیظ الفاظ
ہیں جو میں استعمال نہیں کرنا چاہتا۔
نازیہ حسن نے پورے دوسا ل الطاف کی بیوی کے فرائض انجام دئیے۔ الطاف بھائی کو جنسی طورپر
آسودہ رکھنا اس کی ڈیوٹی تھی جس سے وہ خود بھی لطف اٹھا یا کرتی تھی۔
لہذا یہ سیکس تھا ریپ نہیں تھا۔ جنسی تعلق رضامندی سے نہ کہ ریپ۔​
واہ بھئی لفظ استعمال نہیں کرنا چاہ رہے تو جگہ جگہ نازیہ پہ گند کیوں اچھال رہے ہو؟؟؟
الطاف جیسے غلیظ کمینے شخص کو ڈیفینڈ کرنے کے لئے نازیہ کی میت کو غلاظت میں
لتھیڑ دیا ۔۔۔تم سے گندی سوچ والا بھی کم کم ہی ملے گا ۔
ایک مرحوم لڑکی کو تو بخش دو ۔
الطاف حسین جیسا غنڈہ ایم کیوایم کے کراچی کے نائن زیرو پہ خاتون کارکنوں کے انٹرویو
لیتا اور ان کو ایم کیو ایم میں بھرتی کرتا، ہفت وار تکبیر کا کہنا ہے کہ خواتین سے ان کی
مسکراہٹ، ان کے وزن ، ان کے چیسٹ سائز تک پوچھے جاتے تھے فارم میں۔
ایم کیوایم تھی یا فوج جس کو چوڑے سینے والا افسر چاہیئے تھا؟؟÷
یہ الطاف کی ٹھر ک تھی۔
نازیہ بھی اسی ٹھرک کا نشانہ بنی اور الطاف نے اسے دو سال تک اپنی کیپ بنا کے رکھا۔
اس کو جنسی طور پر روز پامال کیا کرتا تھ
ا۔​
 
Sponsored Link