ٹی وی چینلز زیادہ اشتہارات دینے والوں کے ناجائز کاروبار کو تحفظ دیتے ہیں

13khhjjasstv.png

کیا میڈیا ہائوسز ان لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے جو انہیں بڑے بڑے اشتہارات دیتے ہیں؟: رہنما مسلم لیگ ن

سابق وفاقی وزیر ورہنما مسلم لیگ ن خواجہ محمد آصف نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی بھی اس ملک کے شہری ہیں ان پر بھی ملک کا قانون ویسے ہی لاگو ہو گا جیسے دوسرے شہریوں پر ہوتا ہے، کوئی صحافی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

خواجہ آصف نے ایک صحافی کے سوال پر کہا "آج بھی ایک صحافی کو 3 دنوں کیلئے جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے اس پر کیا کہیں گے؟" کیا آپ نے میری قید پر آواز اٹھائی تھی؟

انہوں نے کہا کہ جیسے ہر ملک میں کسی بھی صحافی کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے ایسے ہی یہاں ہے، صحافیوں کو قانونی کارروائی سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک کا کوئی بھی طبقہ قانون سے بالاتر نہیں ہے، صحافی نے سوال کیا کہ کہیں تنقید کرنے والی آوازوں کو دبایا تو نہیں جائیگا جس پر ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والی آوازوں کا احترام ہونا چاہیے لیکن اس کی تعریف بھی طے ہونی چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو اپنے اعمال بھی دیکھنے چاہئیں، جب آپ میڈیا والے ملک ریاض کا نام نہیں لیا جاتا ہے تو اس پر آپ لوگ تنقید کیوں نہیں کرتے؟ سارے میڈیا ہائوسز اشتہارات کے لیے مرے جا رہے ہوتے ہیں، کیا میڈیا ہائوسز ان لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے جو انہیں بڑے بڑے اشتہارات دیتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ میڈیا ہائوسز اب پراپرٹی ٹائیکونز کی زیرملکیت کام کر رہے ہیں، پراپرٹی ٹائیکون کو یا تو میڈیاہائوسز نے یرغمال بنا رکھا ہے یا پراپرٹی ٹائیکونز نے میڈیا ہائوسز کھول رکھے ہیں۔ ظفر شیرازی نے خواجہ آصف کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: خواجہ صاحب نے تو صحافیوں اور میڈیا چینلز کی شلوار بیچ چوراہے اتار کر رکھ دی۔۔۔۔

https://twitter.com/x/status/1764558274379083997
خواجہ محمد آصف نے میڈیا چینلز پر تنقید کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا: ٹی چینل کو چلانا ایک کاروبار ہے صحافت نہیں ہے، بعض ٹی وی چینلز تو زیادہ اشتہارات دینے والوں کے جائز یا ناجائز کاروبار کو تحفظ بھی دیتے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1764686969374675147
انہوں نے کہا کہ کا تو سائیڈ بزنس ہی پراپرٹی، ان چینلز میں کام کرنے والے ملازمین اصل صحافی ہیں جو صبح سے شام تک جان مار کر اپنے سیٹھوں کے کاروبار میں اضافہ کرتے ہیں لیکن ان کو تنخواہ بھی وقت پر ادا نہیں کی جاتی۔ ملک کے تمام طبقات پر قانون کا اطلاق برابری کے ساتھ ہونا چاہیے۔
 

Pakcola

Senator (1k+ posts)
حرامی مینڈیٹ چور ایک بوڑھیا سے عبرت ناک شکست کتے کی سیاسی موت
 

Captain Safdar

Chief Minister (5k+ posts)
Pehlay bajway da choopa la kay jityaa..
Hun hafiz da choopa laya...
May be dirty Harry nu apni bahooda ugly bachi ve paish keeti hovay...
A bohat bayghairat tay pimp type bhuddha a