ٹھیک ہو جاؤ ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

BuTurabi

Chief Minister (5k+ posts)

oppositionleadersmeetshowstrengthagainst0lfzrzj3foml1.jpg



 
Last edited:

BuTurabi

Chief Minister (5k+ posts)

یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب پاکستانی سنیما آباد تھے اور فِلم سٹوڈیوز بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فِلموں کا زوال اپنے عروج پر تھا۔ وہی فِلمیں دھڑا دھڑ بن رہی تھیں جو اِسکی تباہی کا سبب تھیں لیکن انڈسٹری کے کرتا دھرتا اِس مصرعے پر کامل ایمان لا چُکے تھے جو فراز نے کِسی نامعلوم ’’حالت‘‘ میں لِکھا ہوگا


نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں مِلیں

ایک دوست کِسی پروڈیوسر سے واقفیت کا یقین دلانےکیلئے
لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ایک سٹوڈیو میں شوٹنگ دکھانے لے گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مُختلف سیٹوں پر دس پندرہ فِلموں کی شوٹنگ جاری تھی لیکن لگتا تھا ہر جگہ ایک ہی فِلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے کیونکہ وہی نیلے پیلے چولے پہنے، مونچھوں والے مریل قِسم کے بدمعاش پٹاخے بجاتے، لاتیں چلاتے اور دھول اُڑاتے اِدھر اُدھر پھر رہے تھے۔ بیہودہ قِسم کی دھنوں پر بجتے پیار بھرے گانے بھی ماحول پر طاری جہالت میں اپنا حصہ پورا ڈالتے نظر آئے۔ ’’مدھر‘‘ گیتوں کا فِلمایا جانا بھی لاجواب تھا کہ ہیرو خمیرے آٹے کیطرح چہرہ پھُلائے خواہ مخواہ ادھر اُدھر بیزار پھرتا رہتا اور ہیروئین ڈھیر سارا گوشت (اپنا) اُٹھائے اُسکے گِرد و پیش چار چھلانگیں لگا کر جب تھک جاتی تو کِسی کونے سے خالص پنجابی لہجے میں ’’کٹ‘‘ کی چنگھاڑ سُنائی دیتی جِس میں سارا زور ’’ٹ‘‘ پر ہوتا۔


بالآخر حیرت پر غالب آتی بوریت دیکھ کر مذکورہ دوست کِسی سے پوچھ پچھا کر ایک ایسے سیٹ پر لے گیا جِس پر فِلمایا جانے والا سین دیکھ کر اُسکا خیال تھا کہ اقبال کے شاہین کی پلٹنے جھٹنے کی جبلت کو ذرا تسکین مِلے گی۔


اِس سیٹ پر ایک دراز قامت ہیروئین جِسکے ’’ڈولے‘‘ دیکھ کر
’’پیار‘‘ سے زیادہ خوف آتا تھا لوہے کی کُرسی (جی ہاں لوہے کی) میں پھنسی بیٹھی ’’پکا سگریٹ‘‘ پی رہی تھی۔ کُرسی کے چھیدوں میں سے گوشت وافر مقدار میں باہر لٹک رہا تھا۔ جِسم نازنیں لِباس میں یوں گھُسا تھا جیسے پندرہ کِلو والے تھیلے میں کِسی نے پینتیس کِلو آٹا ڈال کر گلا ادھ کھُلا چھوڑ دیا ہو۔ اگلا سین زیرِ تیاری تھا جِس میں مذکور بالا حُلیوں والے بدمعاشوں نے اِس ہیروئن کی عِزت لوٹنا تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طویل اِنتظار کے بعد دونوں ’’پاڑٹیاں‘‘ اپنے اپنے مورچوں پر جم چُکیں تو شوٹ شروع ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شِکاری ’’سو منات‘‘ کے مندر پر بڑھ بڑھ کر چڑھ رہے تھے کہ کِسی بدمعاش نے منظر میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِسی اثنا میں ایک زناٹے دار تھپڑ کی آوز ہیروین کی گونجدار موٹی بہن کی گالی کے نیچے دبتی سُنائی دی، ’’یہ شوٹنگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سچ مُچ عزت نہیں لوٹنی‘‘۔

بجٹ پر نورا لیگ کے احتجاج اور زرداری کی وارننگ سُن کر وہی
منظر اپنے زوردار تھپڑ سمیت نظروں کے سامنے لپک گیا، ’’یہ شوٹنگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سچ مُچ عزت نہیں لوٹنی‘‘۔

 
Last edited:

_Hope786

Senator (1k+ posts)
(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap)(clap) Bull's Eye
 

najOOmi

Politcal Worker (100+ posts)
ہاہا بوترابی ن لیگ تو بیچاری سین میں حقیقت کا رنگ بھریے کی according to the script کوشش کر رھی یے
 

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں مِلیں

Ahmad Faraz ney yeh baat tajerbay say kahi mughe pura yaqeen hai.
 

KK YASIR

Minister (2k+ posts)

یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب پاکستانی سنیما آباد تھے اور فِلم سٹوڈیوز بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فِلموں کا زوال اپنے عروج پر تھا۔ وہی فِلمیں دھڑا دھڑ بن رہی تھیں جو اِسکی تباہی کا سبب تھیں لیکن انڈسٹری کے کرتا دھرتا اِس مصرعے پر کامل ایمان لا چُکے تھے جو فراز نے کِسی نامعلوم ’’حالت‘‘ میں لِکھا ہوگا


نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں مِلیں

ایک دوست کِسی پروڈیوسر سے واقفیت کا یقین دلانےکیلئے
لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ایک سٹوڈیو میں شوٹنگ دکھانے لے گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مُختلف سیٹوں پر دس پندرہ فِلموں کی شوٹنگ جاری تھی لیکن لگتا تھا ہر جگہ ایک ہی فِلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے کیونکہ وہی نیلے پیلے چولے پہنے، مونچھوں والے مریل قِسم کے بدمعاش پٹاخے بجاتے، لاتیں چلاتے اور دھول اُڑاتے اِدھر اُدھر پھر رہے تھے۔ بیہودہ قِسم کی دھنوں پر بجتے پیار بھرے گانے بھی ماحول پر طاری جہالت میں اپنا حصہ پورا ڈالتے نظر آئے۔ ’’مدھر‘‘ گیتوں کا فِلمایا جانا بھی لاجواب تھا کہ ہیرو خمیرے آٹے کیطرح چہرہ پھُلائے خواہ مخواہ ادھر اُدھر بیزار پھرتا رہتا اور ہیروئین ڈھیر سارا گوشت (اپنا) اُٹھائے اُسکے گِرد و پیش چار چھلانگیں لگا کر جب تھک جاتی تو کِسی کونے سے خالص پنجابی لہجے میں ’’کٹ‘‘ کی چنگھاڑ سُنائی دیتی جِس میں سارا زور ’’ٹ‘‘ پر ہوتا۔


بالآخر حیرت پر غالب آتی بوریت دیکھ کر مذکورہ دوست کِسی سے پوچھ پچھا کر ایک ایسے سیٹ پر لے گیا جِس پر فِلمایا جانے والا سین دیکھ کر اُسکا خیال تھا کہ اقبال کے شاہین کی پلٹنے جھٹنے کی جبلت کو ذرا تسکین مِلے گی۔


اِس سیٹ پر ایک دراز قامت ہیروئین جِسکے ’’ڈولے‘‘ دیکھ کر
’’پیار‘‘ سے زیادہ خوف آتا تھا لوہے کی کُرسی (جی ہاں لوہے کی) میں پھنسی بیٹھی ’’پکا سگریٹ‘‘ پی رہی تھی۔ کُرسی کے چھیدوں میں سے گوشت وافر مقدار میں باہر لٹک رہا تھا۔ جِسم نازنیں لِباس میں یوں گھُسا تھا جیسے پندرہ کِلو والے تھیلے میں کِسی نے پینتیس کِلو آٹا ڈال کر گلا ادھ کھُلا چھوڑ دیا ہو۔ اگلا سین زیرِ تیاری تھا جِس میں اُوپر مذکور بالا حُلیوں والے بدمعاشوں نے اِس ہیروئن کی عِزت لوٹنا تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طویل اِنتظار کے بعد دونوں ’’پاڑٹیاں‘‘ اپنے اپنے مورچوں پر جم چُکیں تو شوٹ شروع ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شِکاری ’’سو منات‘‘ کے مندر پر بڑھ بڑھ کر چڑھ رہے تھے کہ کِسی بدمعاش نے منظر میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِسی اثنا میں ایک زناٹے دار تھپڑ کی آوز ہیروین کی گونجدار موٹی بہن کی گالی کے نیچے دبتی سُنائی دی، ’’یہ شوٹنگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سچ مُچ عزت نہیں لوٹنی‘‘۔

بجٹ پر نورا لیگ کے احتجاج اور زرداری کی وارننگ سُن کر وہی
منظر اپنے زوردار تھپڑ سمیت نظروں کے سامنے لپک گیا، ’’یہ شوٹنگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سچ مُچ عزت نہیں لوٹنی‘‘۔


hahaahahaahaha yaar kia script likha hai turabi bhaii.... app ku new book kab a rahii hai market me .. Turabi Parey ;)
 
Sponsored Link