ٹویوٹا کا پاکستان میں تیار کی گئی گاڑیاں یورپی ممالک کو برآمد کرنیکا اعلان

toyaa1h1121.jpg


پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیاں تیار کرنے والی انڈس موٹرزکمپنی نے گاڑیوں کے مختلف ماڈلز کو یورپی ممالک میں برآمد کرنے کا اعلان کردیا۔

ٹویوٹا پاکستان کے سی ای او علی اصغر جمالی نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران اس بارے میں تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی اپنے مشہور ماڈلز کے 50 یونٹس برآمد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کو ٹویوٹا فارچیونر،ریوو اور کرولا کراس کاریں برآمد کی جائیں گی، جس سے 15 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

علی اصغر جمالی نے مزید بتایا کہ گاڑیوں کی برآمدات کے علاوہ کمپنی 150 ورکرز کو جاپان بھیجے گی جس سے 25 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے اگلے 10 ماہ میں مزید 100 ورکرز کو بیرون ملک بھجوانے کا ہدف رکھا ہے جس سے آمدن میں دگنا اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کاریں تیار کرنے والی جاپانی اور چینی کمپنیوں کے متوقع کاروباری نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صنعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر برآمدات کے لیے موزوں خصوصاً افریقی ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدوں کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جائے۔
 

Choudhry ji

Senator (1k+ posts)
Pakistani vehicles can never match their specs ..... I imported a Toyota 8 seater in UK from Japan even that was not as per UK's specs . I have to change many bits & Pakistani cars ALLAH HI HAFIZ HEY
 

zahid.sadiq

Senator (1k+ posts)
LoL What a joke! Pakistan to gadhay export nahi ker sakta yeh to phir vehicles hain woh bhi totally substandard extreme thakkar teen dabba.
 

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
The announcement from Toyota is a welcome step. They can use the cheap labor of Pakistan with their own imported auto parts from Japan to assemble the vehicles in Pakistan and export to Europeans and other countries. Some of the auto companies doing that in India, others in Mexico. Its a win win situation for both parties. The Government of Pakistan (The losers) should allow the auto companies to build their auto plants and give them release and exemption in import duties so they can hire locals in their assembly plants.