ٹوکیو اولمپکس: انڈین ہاکی کی اونچی اڑان جبکہ پاکستانی ہاکی اندھیروں میں گم

London Bridge

Senator (1k+ posts)

343087_19267_updates.jpeg

ٹوکیو اولمپکس میں انڈیا کی مرد اور خواتین کی ہاکی ٹیموں کی شاندار کارکردگی نے جہاں انڈیا میں جوش اور خوشی کا ماحول پیدا کردیا ہے وہیں اس سوال نے بھی جنم لیا ہے کہ آخر انڈیا نے ایسا کون سا جادو کیا کہ اس کی ہاکی ایک بار پھر بلندیوں کو چھونے لگی ہے؟
اور اگر انڈیا ایسا کر رہا ہے تو پھر اس کا پڑوسی ملک پاکستان ابھی تک ہاکی کے زوال سے کیوں نکل نہیں پا رہا اور وہ بین الاقوامی دھارے سے باہر ہوچکا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کی ہاکی کے تقابلی جائزے سے قبل اولمپکس مقابلوں میں انڈین ٹیم کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
اگرچہ منگل کو ٹوکیو اولمپکس کے سیمی فائنل میں انڈیا کی مردوں کی ہاکی ٹیم کو عالمی چیمپیئن بیلجیئم کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تاہم انڈین ٹیم کا اولمپکس کے سیمی فائنل تک پہنچنا ہی ایک بڑا کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس میں انڈین ٹیم نے کوارٹر فائنل میں برطانیہ کو شکست دی تھی۔ گروپ مقابلوں میں اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کے بعد آسٹریلیا سے سات ایک کی بھاری شکست کھائی تھی لیکن اس شکست کے بعد اس نے جاپان، ارجنٹائن اور سپین کو ہرایا تھا۔
دوسری جانب انڈیا کی خواتین کی ہاکی ٹیم نے فیورٹ آسٹریلیا کو ہرا کر پہلی مرتبہ اولمپکس کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

اولمپک میڈل کا طویل انتظار

انڈیا کی مردوں کی ہاکی ٹیم کے لیے سیمی فائنل تک رسائی اس اعتبار سے غیرمعمولی بات ہے کہ وہ آخری بار 1972 کے میونخ اولمپکس کے سیمی فائنل میں پہنچی تھی اور وہاں شکست کے بعد تیسری پوزیشن کے میچ میں اس نے ہالینڈ کو ہرا کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
انڈیا نے اگرچہ 1980 کے ماسکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا لیکن ان مقابلوں میں پاکستان سمیت بین الاقوامی ہاکی کی نو بڑی ٹیمیں سوویت یونین کے خلاف ہونے والے بائیکاٹ کے سبب موجود نہیں تھیں اور صرف چھ ٹیموں کے ایونٹ میں انڈیا سپین کو ہرا کر گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوا تھا۔
ماسکو اولمپکس کے بعد سے انڈین ہاکی ٹیم کی کارکردگی نیچے چلی گئی تھی اور ایک وقت وہ بھی آیا جب وہ 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں بھی وہ کوالیفائی نہ کرسکی۔ 2012 کے لندن اولمپکس میں اس کی پوزیشن سب سے آخری یعنی بارہویں رہی تھی جبکہ 2016 کے ریو اولمپکس میں اس کی پوزیشن آٹھویں تھی۔

کارکردگی میں بہتری کیسے آئی ؟

ہربیندر سنگھ 1964 میں ٹوکیو میں ہی میں منعقدہ اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی انڈین ہاکی ٹیم کے کھلاڑی تھے اور اب جو ٹیم ٹوکیو گئی ہے اسے سلیکٹ کرنے والوں میں ہربیندر سنگھ بھی شامل ہیں۔
ہربیندر سنگھ بی بی سی ہندی کےآدیش کمار گپتا سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹبھارتی ٹیم کو کووڈ کے سبب اس سال زیادہ کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اس سے قبل اس نے پرو ہاکی لیگ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور بڑی ٹیموں کے خلاف میچز بھی جیتے تھے۔ جب یہ ٹیمیں آپ کے سامنے دوبارہ آتی ہیں تو قدرتی طور پر آپ کا اعتماد بڑھا ہوا ہوتا ہے مورال بلند ہوتا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس میں ٹیم کی اچھی کارکردگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ٹیم کا کامبینیشن اچھا بنا ہوا ہے اور اس کی فٹنس بھی بہت اچھی ہے اور کووڈ کی
وجہ سے اس نے زیادہ تر وقت بنگلور کے ٹریننگ کیمپ میں گزارا ہے جس کا کھلاڑیوں کو کافی فائدہ ہوا ہے۔‘
_119718475_gettyimages-1332043799.jpg

انڈیا کے سابق اولمپئن اور 1975 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اجیت پال سنگھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ʹجب انڈین ٹیم لندن اولمپکس میں آخری نمبر پر آئی تو میڈیا میں اسے انڈین ہاکی کی موت قرار دے کر تعزیت لکھی گئی لیکن اس کے بعد انڈیا نے کارکردگی کو اوپر لانے کے لیے بہت محنت کی۔ʹ
اجیت پال سنگھ نے کہا ʹانڈیا میں اس بات پر کبھی بھی برا نہیں منایا گیا کہ غیرملکی کوچز کیوں لائے گئے کیونکہ ہم سب انڈین ہاکی کو ٹاپ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ʹ
اجیت پال سنگھ کہتے ہیںʹانڈین ٹیم کا ٹوکیو اولمپکس کے سیمی فائنل میں پہنچنا بڑی بات ہے کیونکہ اس کا مقابلہ اس وقت کی بڑی ٹیموں سے ہوا ہے جبکہ 1980 میں اس نے جب اولمپک گولڈ میڈل جیتا تھا تو اس کے سامنے صرف سپین کی ٹیم تھی۔‘
اجیت پال سنگھ کہتے ہیںʹ انٹرنیشنل ہاکی کے لیے پاکستان کا دوبارہ اوپر آنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہاکی میں پاکستان نے جو کچھ کیا ہے وہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ پاکستان کو اپنی ہاکی کا معیار پھر سے بلند کرنا ہوگا۔ محنت کرنی ہوگی۔ دنیا پاک انڈیا کی روایتی ہاکی کو دوبارہ دیکھنا چاہتی ہے۔ʹ
انڈیا میں صحافی کلدیپ لعل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹانڈین ہاکی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری راتوں رات نہیں آئی ہے بلکہ اس نے مرحلہ وار یہ سفر طے کیا ہے جس میں حکومت، سپانسرز اور فیڈریشن سب کا کردار اہم رہا ہے۔ʹ
کلدیپ لعل کہتے ہیں ʹجب انڈین ٹیم بیجنگ اولمپکس سے باہر ہوئی اور لندن اولمپکس میں آخری نمبر پر آئی تو اڑیسہ کی حکومت نے ہاکی کے معاملات میں گہری دلچسپی لی جس کے بعد دوسرے علاقوں میں بھی ہاکی پر بھرپور توجہ دی گئی۔ʹ
کلدیپ لعل کا کہنا ہے ʹانڈین ہاکی لیگ سے بھی انڈین ہاکی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ غیرملکی کوچز کے آنے سے بھی کارکردگی میں نمایاں فرق آیا۔ʹ
یاد رہے کہ انڈین ہاکی ٹیم کے موجودہ کوچ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے گراہم ریڈ ہیں۔ ان سے قبل انڈین ہاکی آسٹریلیا کے رک چارلس ورتھ، ٹیری والش، ہالینڈ کے رولینٹ آلٹمینز اور شوئرڈ میرین کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ شوئرڈ میرین مردوں کی ٹیم کے بعد اب خواتین ٹیم کے کوچ ہیں۔
کلدیپ لعل کہتے ہیں ʹانڈیا میں ہاکی کے کھلاڑیوں کو حکومت اور فیڈریشن کی مکمل مدد حاصل ہے۔ سپانسرشپ موجود ہے۔ ریل ویز، پنجاب پولیس، ہریانہ پولیس اور دیگر اداروں کی ہاکی ٹیمیں ہیں اور ہاکی بجٹ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا گیا ہے۔ انڈین ٹیم تواتر کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جاتی رہی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے انڈین ہاکی نے ایک بار پھر اپنے قدم جمائے ہیں جس کی ایک جھلک ٹوکیو اولمپکس میں نظر آئی ہے۔ʹ


PkI7l1NR3T3skkh7

کلدیپ لعل جنہوں نے پانچ اولمپکس مقابلوں میں رپورٹنگ کی ہے اس بات پر سخت افسردہ ہیں کہ پاکستان بین الاقوامی ہاکی کے منظر نامے سے غائب ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا ہے ʹپاکستان کے بغیر انٹرنیشنل ہاکی نامکمل ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان روایتی مقابلے دیکھنے سے محروم ہوچکے ہیں۔ʹ

پاکستانی ہاکی سیاست کی نذر

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپئن سمیع اللہ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹانڈیا نے نچلی سطح یعنی گراس روٹ لیول پر ہاکی کو منظم کرکے ایک بار پھر انٹرنیشنل لیول پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے اس کے برعکس پاکستان کی ہاکی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی اور آج وہ ورلڈ رینکنگ میں 18 ویں نمبر پر ہے۔ʹ
سمیع اللہ اپنے دو ساتھی کھلاڑیوں قاسم ضیا اور اختر رسول کے نام لے کر کہتے ہیں ʹیہ دونوں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے لیکن دونوں نے ہاکی کی ترقی کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی کہ قومی ہاکی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں؟ حکومت نے فیڈڑیشن کو پیسے ضرور دیے لیکن ساتھ میں اپنے لوگ بھی وہاں لگائے۔ʹ
سمیع اللہ کا کہنا ہے ʹہمارے زمانے میں کھلاڑیوں کو پی آئی اے، کسٹمز اور بینکوں میں مستقل ملازمتیں ملتی تھیں اب ان اداروں کی ٹیمیں بھی نہیں رہی ہیں۔ واپڈا میں کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک کھلاڑی اپنے کریئر کے خاتمے کے بعد مستقل ملازمت نہ ہونے کی صورت میں کیا کرے گا؟ʹ
539981e12c4ab.png


سمیع اللہ کہتے ہیں ʹجب کھلاڑیوں کو ہاکی کی بنیاد پر ملازمتیں ملنا بند ہوگئیں تو انہوں نے غیرملکی ہاکی لیگس کھیلنے کا راستہ نکالا تاکہ اپنی مالی ضروریات پوری کرسکیں۔ʹ
سمیع اللہ کا کہنا ہے ʹکسی زمانے میں ملک بھر میں لوکل ٹورنامنٹس بڑی تعداد میں ہوا کرتے تھے۔ کلب سکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوا کرتا تھا جہاں سے ٹیلنٹ سامنے آتا تھا یہ سلسلہ بھی اب نہیں رہا۔ʹ
سمیع اللہ اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں کہ آسٹروٹرف کے آنے کے بعد ہماری ہاکی زوال پذیر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آسٹروٹرف کے آنے کے باوجود گھاس پر کھیلنے والے کھلاڑی 1984 تک غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے رہے تھے۔
سمیع اللہ کا کہنا ہے ʹآج کی انٹرنیشنل ہاکی میں فٹنس کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور ہمارے کھلاڑی اس سے دور ہیں۔ پاکستان ہاکی کو آج بریگیڈئر عاطف، بریگیڈئر حمیدی، کرنل ظفری، ذکا الدین جیسے بے لوث لوگوں کی ضرورت ہے جنہوں نے ہاکی کو بلند مقام پر رکھنے کے لیے دن رات ایک کردی تھی لیکن جب ایک ایسی لہر آئی جس میں بوگس کلبس اور کاغذ پر اکاڈمیاں اور واٹس ایپ پر ہاکی ہونی شروع ہوئی تو نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ʹ

SOURCE
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
کسی بھی شعبے میں کامیابی کے دو راز ہیں اور انہی دو وجوہات کی بنا پر آج انڈیا کی کرکٹ اور ہاکی بلکہ دیگر کھیلیں بھی پاکستان سے بہت بہتر ہوچکی ہیں
بہتر کارکردگی کیلئے بہت بڑی آبادی بھی ضروری نہیں ہے نیوزی لینڈ کی مثال سامنے ہے جو کرکٹ میں اس وقت سرفہرست ٹیم ہے اور رگبی جیسے کھیل کی بھی عالمی چیمپین رہ چکی ہے
وہ دو باتیں یا اصول یہ ہیں اگر ہم ان کو اپنایئیں تو رزلٹس ملنا شروع ہوجائین گے
نمبر ایک میریٹ
اور نمبر دوکوچنگ
انڈر چودہ کو ورلڈ لیول کی کوچنگ دو اور اٹھارہ کی عمر میں بہترین کھلاڑی لے لو
 

چھومنتر

Minister (2k+ posts)
کسی بھی شعبے میں کامیابی کے دو راز ہیں اور انہی دو وجوہات کی بنا پر آج انڈیا کی کرکٹ اور ہاکی بلکہ دیگر کھیلیں بھی پاکستان سے بہت بہتر ہوچکی ہیں
بہتر کارکردگی کیلئے بہت بڑی آبادی بھی ضروری نہیں ہے نیوزی لینڈ کی مثال سامنے ہے جو کرکٹ میں اس وقت سرفہرست ٹیم ہے اور رگبی جیسے کھیل کی بھی عالمی چیمپین رہ چکی ہے
وہ دو باتیں یا اصول یہ ہیں اگر ہم ان کو اپنایئیں تو رزلٹس ملنا شروع ہوجائین گے
نمبر ایک میریٹ
اور نمبر دوکوچنگ
انڈر چودہ کو ورلڈ لیول کی کوچنگ دو اور اٹھارہ کی عمر میں بہترین کھلاڑی لے لو

میریٹ
آرمی
کوچنگ
آرمی

اور
رزلٹ میاں بھگوڑے نواز شریف

?
 

Gujjar1

Minister (2k+ posts)
banda us khanzeer hmaza kukri ko pakrhey jo fazool qisam k guiness k record benwata raha hai, Gand sey badam torhna, thobrhe se tarbooz phorhna waghaira.
 

FahadBhatti

Chief Minister (5k+ posts)
Kisi bhi khel ki baqa ke liye infrastraucture aur aggressive competition hona zaroori aur awaam ki dischaspi bhi. Unfortunately ek bhi cheez baqi nahin hai.
 

Jawad66

MPA (400+ posts)
کسی بھی شعبے میں کامیابی کے دو راز ہیں اور انہی دو وجوہات کی بنا پر آج انڈیا کی کرکٹ اور ہاکی بلکہ دیگر کھیلیں بھی پاکستان سے بہت بہتر ہوچکی ہیں
بہتر کارکردگی کیلئے بہت بڑی آبادی بھی ضروری نہیں ہے نیوزی لینڈ کی مثال سامنے ہے جو کرکٹ میں اس وقت سرفہرست ٹیم ہے اور رگبی جیسے کھیل کی بھی عالمی چیمپین رہ چکی ہے
وہ دو باتیں یا اصول یہ ہیں اگر ہم ان کو اپنایئیں تو رزلٹس ملنا شروع ہوجائین گے
نمبر ایک میریٹ
اور نمبر دوکوچنگ
انڈر چودہ کو ورلڈ لیول کی کوچنگ دو اور اٹھارہ کی عمر میں بہترین کھلاڑی لے لو
It is not as that simple.You gave the example of Newzealand.it has fucntional democracy that will get most out of the system.On the other hand Pakistan is rotten democracy that is destroying institutions,how u can expect some thing good out of it.If you see wealthy countries r winning more medals,how hungrey and begging Pakistan can compete.
 

Choudhry ji

Senator (1k+ posts)
کسی بھی شعبے میں کامیابی کے دو راز ہیں اور انہی دو وجوہات کی بنا پر آج انڈیا کی کرکٹ اور ہاکی بلکہ دیگر کھیلیں بھی پاکستان سے بہت بہتر ہوچکی ہیں
بہتر کارکردگی کیلئے بہت بڑی آبادی بھی ضروری نہیں ہے نیوزی لینڈ کی مثال سامنے ہے جو کرکٹ میں اس وقت سرفہرست ٹیم ہے اور رگبی جیسے کھیل کی بھی عالمی چیمپین رہ چکی ہے
وہ دو باتیں یا اصول یہ ہیں اگر ہم ان کو اپنایئیں تو رزلٹس ملنا شروع ہوجائین گے
نمبر ایک میریٹ
اور نمبر دوکوچنگ
انڈر چودہ کو ورلڈ لیول کی کوچنگ دو اور اٹھارہ کی عمر میں بہترین کھلاڑی لے لو
Its first time you did not blame Khan for disaster of hockey in Pakistan .I do agree with your both points for any game .
 

MMushtaq

Minister (2k+ posts)
کسی بھی شعبے میں کامیابی کے دو راز ہیں اور انہی دو وجوہات کی بنا پر آج انڈیا کی کرکٹ اور ہاکی بلکہ دیگر کھیلیں بھی پاکستان سے بہت بہتر ہوچکی ہیں
بہتر کارکردگی کیلئے بہت بڑی آبادی بھی ضروری نہیں ہے نیوزی لینڈ کی مثال سامنے ہے جو کرکٹ میں اس وقت سرفہرست ٹیم ہے اور رگبی جیسے کھیل کی بھی عالمی چیمپین رہ چکی ہے
وہ دو باتیں یا اصول یہ ہیں اگر ہم ان کو اپنایئیں تو رزلٹس ملنا شروع ہوجائین گے
نمبر ایک میریٹ
اور نمبر دوکوچنگ
انڈر چودہ کو ورلڈ لیول کی کوچنگ دو اور اٹھارہ کی عمر میں بہترین کھلاڑی لے لو

Yar Shairoo, tum ahista ahista sidhi rahe pa aa rahe hu. By the way, India bhi aaj out hu giya lakin esska matlib bilkul yeh nahein k mae Pakistan ko koi credit da raha hoan. Hum saleh kuch bhi sidhee tarah nahien kar sakteh. Hamare choateh se choateh act mae bhi corruption hotah hay. Baroan ke tu mae baath he nahien karoon ga. Pakistanion k rag rag mae khoon k bahai corruption dortah hay.
 

newday

Councller (250+ posts)
The real problem is that there is no sports activity in schools
Specially in cities, most of the private schools are set-up in residences , there are very few who has there own play ground or sport program. Hockey or other sports must be established at school level with expanded interschool or regional tournament.
Also how these officials justify there big ranks and salaries, do they have any national pride or any shame left in them?
Grand shabash and cheers to those who made it to Olympics..
 
Sponsored Link