ٹائی ٹینک کے قریب ملبے کے آثار ملے ہیں: امریکی کوسٹ گارڈ

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
2502053-oceangate-1687451036-858-640x480.jpg


امریکی کوسٹ گارڈ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ٹائی ٹینک کے قریب
ملبے کے آثار دریافت ہوئے ہیں جن کا ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ملبے کے آثار ریموٹ کنٹرول گاڑی کی مدد سے دریافت ہوئے اور ریسکیو آپریشن میں ملوث ماہرین نئی ملنے والی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب لاپتہ آبدوز کو تلاش کرنے کے کثیرالقومی مشن کے چیف کوآرڈینیٹر نے جمعرات کو کہا ہے کہ ٹائی ٹین میں آکسیجن ختم ہونے کے خدشات میں اضافے کے باوجود وہ پانچ رکنی عملے کو زندہ بچانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی کوسٹ گارڈ کے ریئر ایڈمرل جان ماؤگر نے این بی سی کے ’ٹوڈے‘ شو میں بتایا کہ ’ہم خاص طور پر ایسے پیچیدہ واقعات میں تلاش جاری رکھتے ہیں کیونکہ لوگوں کی زندہ رہنے کی خواہش کو نظر انزاز نہیں کیا جا سکتا۔‘

بدھ کے روز ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب ایک گمشدہ آبدوز کی تلاش کرنے والے امدادی کارکنوں نے اپنی کوششیں شمالی بحر اوقیانوس کے ایک دور دراز علاقے پر مرکوز کیں جہاں زیر آب شور کا پتہ چلا تھا لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ آوازیں آبدوز سے نہیں آ رہی ہوں۔

اندازوں کے مطابق ٹائی ٹن نامی آبدوز پر آکسیجن چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتی ہے جو برطانوی اور پاکستانی ارب پتی سیاحوں کو لے کر غرقاب ہوجانے والے بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کرانے گئی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو لاپتہ ہو جانے والی آبدوز کا پتہ لگانے کے لیے امدادی ٹیموں کا ایک بین الاقوامی اتحاد سمندر کے ایک وسیع و عریض حصے کو کھنگال رہا ہے۔

امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ دور دراز سے چلنے والی گاڑیاں یعنی ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز (آر او وی) پانی کی تہہ میں اتاری گئی ہیں جہاں کینیڈا کے طیاروں نے منگل اور بدھ کو سونار بوائے کا استعمال کرتے ہوئے آوازیں ریکارڈ کی تھیں لیکن ابھی تک ٹائی ٹن کا کوئی نشان نہیں مل سکا ہے۔

امریکی کوسٹ گارڈ کے کپتان جیمی فریڈرک نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ سمندر کی تہہ سے آنے والے شور کا تجزیہ ’غیر نتیجہ خیز‘ رہا۔

’جب آپ تلاش اور بچاؤ کے عمل میں ہوتے ہیں تو آپ کو ہمیشہ امید رہتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آپ سے کھل کر بات کروں گا خاص طور پر شور کے حوالے سے، ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے۔‘حکام نے ان آوازوں کی تفصیلی وضاحت نہیں کی۔

اگر آبدوز کا پتہ چل جاتا ہے تو انتہائی حالات کے پیش نظر، سطح سے ہزاروں میٹر گہرائی سے اسے دوبارہ حاصل کرنے میں بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے۔

امریکہ، کینیڈا اور فرانس کی ٹیموں نے ہوائی اور بحری جہازوں کا استعمال کرتے ہوئے 10 ہزار مربع میل سے زیادہ کھلے سمندر میں تلاش کی ہے، جو امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے زمینی حجم سے تقریباً دوگنا ہے۔

اگر ٹائی ٹن سمندر کی تہہ میں ہے تو دو میل سے زیادہ کی گہرائی میں شدید دباؤ اور مکمل اندھیرے کی وجہ سے بچاؤ کی کوشش اور بھی مشکل ہوگی۔

ٹائی ٹینک کے ماہر ٹِم مالٹن نے کہا کہ سمندری تہہ میں ’آبدوز سے آبدوز کو ریسکیو کرنا تقریباً ناممکن‘ ہوگا۔

توقع ہے کہ ایک فرانسیسی تحقیقی بحری جہاز آئے گا جس میں گہرے سمندر میں غوطہ خوری کرنے والی روبوٹ آبدوز ہے جو ٹائی ٹینک کے ملبے کی پاس گہرائی میں غوطہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ روبوٹ آبدوز ٹائی ٹن کو آزاد کرنے میں مدد کر سکتی ہے مگر 21 ہزار پاؤنڈ وزنی ٹائی ٹن کو خود نہیں اٹھا سکتی۔

آپریٹر نے کہا کہ روبوٹ آبدوز ٹائی ٹن کو سطح پر بحری جہاز سے منسلک کرنے میں مدد کرسکتی ہے جو اسے اٹھانے کے قابل ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹائی ٹن نامی آبدوز نے اتوار کو سمندر کی تہہ میں غوطہ لگایا تھا اور توقع تھی کہ وہ سات گھنٹوں میں سطح آب پر نمودار ہو جائے گی۔

ٹائٹن نامی آبدوز میں تین سیاح سوار تھے جن میں برطانوی ارب پتی اور پاکستانی بزنس ٹائیکون اور ان کے صاحبزادے بھی سوار تھے۔

اس سیاحتی مہم میں شرکت کا فی کس کرایہ ڈھائی لاکھ ڈالر تھا جس کا اہتمام اوشن گیٹ ایکسپڈیشنز نامی ادارے نے کیا تھا۔

امریکی ٹیلی ویژن رائٹر مائیک ریس نے گذشتہ برس اسی آبدوز پر ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کیا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تجربہ پریشان کن تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس گہرائی میں دباؤ 400 گنا زیادہ ہے اس دباؤ سے جو سطح سے ناپا جاتا ہے۔

ریس کا کہنا ہے کہ ’کمپاس نے فوری طور پر کام کرنا چھوڑ دیا، وہ صرف گھوم رہا تھا اور اس لیے ہمیں سمندر کی تہہ میں آنکھیں بند کر کے چکر لگانا پڑا، یہ سمجھ کر کہ ٹائی ٹینک وہیں کہیں موجود ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہر کوئی خطرات سے آگاہ ہے۔ ’آپ آگے بڑھنے سے پہلے ایک حلف نامے پر دستخط کرتے ہیں اور اس میں صفحہ اول پر تین مختلف بار موت کا ذکر ہے۔‘

ادھر برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آبدوز کو باہر سے بولٹس کی مدد سے بند کیا گیا ہے اور اگر وہ سطح پر آبھی جائے تو اس میں سوار افراد بغیر بیرونی مدد کے باہر نہیں نکل سکتے۔

Titan Tourists.jpg


یہ تصویری مجموعہ 21 جون 2023 کو بنایا گیا ہے جس میں لاپتہ آبدوز پر سوار سیاحوں کی تصاویر ہیں۔ اس تصویر میں ہمیش ہارڈنگ، سٹاکٹن رش، پال ہنری نارجیولیٹ، شہزادہ داؤد اور ان کے صاحبزادے سلیمان داؤد شامل ہیں (جوئل ساگیٹ / اے ایف پی)

ارب پتی مسافر

اوشن گیٹ نامی ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق ادارہ ہر موسم گرما میں ٹائی ٹینک کے لیے پانچ ہفتے طویل ’مشن‘ کا شیڈول بناتا ہے۔

ڈیوڈ پوگ، ایک CBS رپورٹر، پچھلے سال ٹائٹن پر سوار ہوئے۔ دسمبر کی ایک خبر میں، انہوں نے بلند آواز سے اس حلف نامے کو پڑھا جس پر انہیں دستخط کرنے تھے، جس میں بتایا گیا کہ آبدوز ’کسی نگراں ادارے کی طرف سے منظور یا تصدیق شدہ نہیں تھی‘ اور اس کے نتیجے میں موت واقع ہو سکتی ہے۔

منگل کو ایک انٹرویو میں، پوگ نے کہا کہ اوشن گیٹ نے تقریباً دو درجن بار کامیابی کے ساتھ ملبے تک پہنچنے کی مہم جوئی کی ہے اور کمپنی ہر غوطہ خوری سے پہلے ایک پیچیدہ حفاظتی جانچ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ اس چیز کو خلائی سفر کی طرح سمجھتے ہیں۔‘

ہارڈنگ، متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک کاروباری مہم جو شخصیت ہیں اور ایکشن ایوی ایشن کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے ہفتے کو فیس بک پر ایک پیغام پوسٹ کیا، جس میں کہا گیا: ’یہ مشن ممکنہ طور پر 2023 میں ٹائی ٹینک کا پہلا اور واحد انسانوں والا مشن ہوگا۔‘

لاپتہ آبدوز میں سوار سیاحوں میں شہزادہ داؤد اور ان کے صاحبزادے سلیمان داؤد بھی شامل ہیں۔ شہزادہ داؤد اینگرو کے وائس چیئرمین ہیں جو پاکستان کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔

ٹائی ٹینک کا ڈوبنا، جس نے 1,500 سے زائد افراد کو ہلاک کیا، کتابوں اور فلموں میں امر کیا گیا ہے، بشمول 1997 کی بلاک بسٹر فلم ’ٹائی ٹینک‘جس نے ملبے میں لوگوں کی دلچسپی کو تازہ کر دیا۔

کیا ہوا ہو گا؟

سائنٹیفک امیریکن نامی ویب سائٹ کے مطابق بہترین صورت حال یہ ہوسکتی ہے کہ ٹائٹن نامی آبدوز کی پاور ختم ہو گئی ہو اور اس کے اندر حفاظتی نظام ہوگا جو اسے سطح پر واپس آنے میں مدد کرے گا۔

مثال کے طور پر، یہ اضافی وزنوں سے لیس ہو سکتا ہے جسے فوری طور پر سطح پر واپس لانے کے لیے گرایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ آبدوز کی پاور ختم ہو گئی ہو اور وہ سمندر کی تہہ میں چلی گئی ہو۔ یہ زیادہ مشکل نتیجہ ہوگا۔

بدترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اپنے دباؤ میں تباہ کن اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اگرچہ ٹائٹن کا کمپوزٹ ہل گہرے سمندر کے شدید دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کی شکل یا تعمیر میں کوئی خرابی اس کی سالمیت پر سمجھوتہ کر سکتی ہے، ایسی صورت میں اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے۔

ایک اور امکان یہ ہے کہ ابدوز میں آگ لگی ہو، جیسے کہ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے۔ اس برقی نظام متاثر ہپو سکتا ہے جو آبدوز کے نیویگیشن اور کنٹرول کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پانی کے اندر بند ماحول میں آگ لگنے کا ایک تباہ کن واقعہ ہے، اور ممکنہ طور پر عملے اور مسافروں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔

دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ آبدوز کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا لہذا انہوں نے فوری طور پر اپنی ٹینکیاں چھوڑ دیں اور سطح سمندر پر آگئے۔ اس منظر نامے میں وہ فی الحال پانی کے اوپر تیر رہے ہوں گے۔

کچھ نکات

اس کا امکان نہیں ہے کہ انہیں اب دیکھ لیا جائے گا کیونکہ اگر وہ سطح سمندر پر ہوتے تو ان کے آلات کے ذریعے وہ سگنل بھیجنے کے قابل ہونے چاہیے۔

اگر ایسا ہے، تو یہ اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس صرف 1-2 گھنٹے کی آکسیجن باقی ہے اور وہ اندر سے ہیچ کو نہیں کھول سکتے یعنی اگر وہ 1-2 گھنٹوں کے اندر نہیں ملے تو ان کا پانی کے اوپر ہونے کے باوجود دم گھٹنے لگے گا (اگر تمام مسافر زندہ ہیں کیونکہ کسی کے مر جانے سے آکسیجن مزید کچھ عرصے تک رہ سکتی ہے)۔

کمپنی اوشن گیٹ کے سی ای او، جو پائلٹ بھی ہیں، ایک خطرہ مول لینے والے شخص ہیں جنہوں نے زیادہ امکان ہے کہ زیادہ پیسے کمانے کے لیے اخراجات میں کمی کی ہے۔ سابق ملازمین، خود سی ای او کی جانب سے ماضی کے انٹرویوز میں متعدد رپورٹس اور تیسرے فریق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تحفظ کی بات آتی ہے تو کمپنی کفایت شعاری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ تحفظ کو سی ای او نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آبدوز ممکنہ طور پر کم معیار کی تھی، جسے ہم فرض کرسکتے ہیں کہ اس کی وجہ سے مکینیکل خرابی پیدا ہوئی۔

آخری ممکنہ منظر نامہ، جو ہمارے پاس موجود حقائق کی بنیاد پر ناممکن ہے، یہ ہے کہ وہ فی الحال ٹائی ٹینک کے ملبے پر یا اس کے قریب سمندر کی گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو انہیں تلاش کرنے میں گھنٹوں لگیں گے اور انہیں باہر نکالنے میں مزید گھنٹے درکار ہوں گے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے زندہ رہنے کا امکان تقریبا صفر ہے۔

اگرچہ اس کا امکان نہیں ہے لیکن یہ سب سے زیادہ پریشان کن منظر نامہ ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ٹھنڈے درجہ حرارت میں دن گزارے ہیں اور ممکنہ طور پر منجمد یا دم گھٹنے سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ یاد رکھیں، متاثرین میں ایک باپ اور ایک بیٹا شامل ہیں، لہذا پوری امید ہے کہ ایسا نہیں ہے اور شکر ہے کہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کا امکان بہت کم ہے۔

نتیجہ: اگر کوالٹی کنٹرول کی کمی اور ان کی ویب سائٹ پر واضح جھوٹ کی رپورٹس درست ہیں تو کمپنی پر مقدمہ کیا جانا چاہیے۔

امید کی جانی چاہیے کہ ماہرین ہر چیز کے بارے میں غلط ہوں اور وہ ٹھیک ہیں اور زندہ ہیں۔

Source
 
Last edited by a moderator:

mughals

Chief Minister (5k+ posts)
sano ki,
some rich people with millions went for a joy trip, and got hurt. how many poor people are dying, and doing suicide with their kids? Does somebody care?
Why, our qom don't want to see the faces of the poor
 

Wake up Pak

Prime Minister (20k+ posts)
Bhar may gaya titan aur titanic. kiya dunya nay 280+ kashti may doob kar mar janay waloon kay liyay bhi itni ishtahari key thee?
 

mughals

Chief Minister (5k+ posts)
Agar ziada paisa ho tu ghareebon ki help karain.
I know many overseas Pakistanis, who do monthly ration for 30-40 families etc in Karachi
 

Rizwan2009

Chief Minister (5k+ posts)
جب غریب عوام کی کھال کھینچ کھینچ کر دولت جمع کریں گے اور وہ دولت نمود و نمائش اور بے جا فخر و تکبر پر لٹائی جائے گی تو انجام ایسا ہی ہوگا