وی آئی پی جانور وی آئی پی انسان

Arslan

Moderator
ہر سال حج کے مہینے میں کراچی کے سپرہائی وے پر ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی لگتی ہے ۔اس منڈی میں ایک حصہ وی آئی پی جانوروں کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے اس مخصوص حصے میں ایک ایک پلاٹ لاکھوں روپے میں عارضی طور پر وی آئی پی جانور فروخت کرنے والوں کو فراہم کیا جاتا ہے ۔



اس وی آئی پی بلاک میں جو جانور کھڑے کیے جاتے ہیں ان کی قیمت 10 سے 50 لاکھ تک بتائی جاتی ہے اور انھیں خریدنے والے بھی وی آئی پی لوگ ہوتے ہیں جو کلفٹن اور ڈیفنس وغیرہ میں رہتے ہیں۔ ان وی آئی پی لوگوں کے لیے سال میں ایک بار 10 سے 50 لاکھ روپے کا ایک جانور خریدنا اس لیے کوئی مشکل کی بات نہیں ہوتی ۔




اس مویشی منڈی میں جو عوامی علاقہ ہوتا ہے اس میں وہ لاکھوں جانور اپنے خریداروں کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں جن کی قیمتیں بھی 50 ہزار سے 5 لاکھ تک ہوتی ہیں اس اکانومی ایریاز میں بھی ایسے خریدار آتے ہیں جو یا تو سال بھر مسلسل بچت کرکے ایک جانور خریدنے کی رقم اکٹھی کرلیتے ہیں یا وہ درمیانے طبقے کے راشی مسلمان یا منافع خور ہوتے ہیں۔ یہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اور عموماً مڈل اور لوئر مڈل کلاس کی بستیوں میں رہنے والے سادہ لوح مسلمان جب اس مویشی منڈی سے کوئی تگڑا جانور خرید کر لاتے ہیں تو اسے اپنے نسبتاً بڑے مکان کے آگے باندھ دیتے ہیں جس کا مقصد اپنے کم مایہ پڑوسیوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم تم سے بڑے ہیں۔ اس صورت حال پر نظر ڈالیں تو قربانی کا اصل مقصد تو کہیں نظر نہیں آتا ۔ کراچی کی آبادی اب ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس آبادی میں اگر پانچ چھ لاکھ جانور قربان کیے بھی جاتے ہیں تو یہاں کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ جس میں غریب اور ایماندار لوگ شامل ہیں قربانی کے اس فرض سے محروم رہتا ہے۔




ہماری آبادی کا 60 فیصد حصہ دیہات میں رہتا ہے اور زرعی معیشت سے جڑا ہوا ہے اور خوش قسمتی سے زرعی معیشت پر صدیوں سے وہ نسلاً غلام قابض ہیں جو بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد نسلاً سیاستدانوں نسلاً حکمرانوں میں بدل گئے ہیں ۔ 10 سے 50 لاکھ کے جانور خریدتے ہیں اور معاشرے میں اپنی ایک الگ شناخت بنائے بیٹھے ہیں۔ زرعی معیشت سے جڑی 60 فیصد آبادی قربانی نہیں کرتے کیونکہ اس دینی فرض کو بھی وی وی آئی پی کلاس نے ان سے چھین لیا ہے۔




یہ غریب لوگ محتاج لوگ معاشرے کے غنی طبقے خیرات اور زکوٰۃ پر گزر کرتے ہیں ہمارے مذہب نے قربانی کے گوشت میں سے ایک حصہ غریبوں محتاجوں کے لیے مختص کر رکھا ہے لیکن غنی لوگ یہ مذہبی حصہ بھی خود ہڑپ کرجاتے ہیں رہی وی آئی پی کلاس تو وہ ایسی بستیوں میں رہتی ہے جہاں غریب اور محتاج پائے ہی نہیں جاتے سو وہ غریبوں اور محتاجوں کا حصہ بھی مجبوراً اپنے پاس رکھ لیتے ہیں یا اس حصے کو اپنے مالیوں، اپنے خانساماؤں، اپنے ڈرائیوروں، اپنے بٹلروں، اپنی خادماؤں، اپنے چوکیداروں میں بانٹ کر اپنا دینی فرض ادا کردیتے ہیں۔




اس حوالے سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے قوانین کیوں نافذ نہیں کیے گئے جو ہر مسلمان کو حج اور قربانی کا دینی فرض ادا کرنے کے قابل بناسکیں ایسا معاشی نظام کیوں قائم نہیں کیا گیا جو غریب طبقات کو بھی دینی فرائض ادا کرنے کے قابل بنا سکے، ایسا معاشرتی نظام کیوں نافذ نہیں کیا گیا جو آبادیوں کو ڈیفنس، لانڈھی، لیاری ، کلفٹن اور لالو کھیت، مچھر کالونی اور گیدڑ کالونی میں محتاج و غنی میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز کی تصویر و تفسیر بنادے۔




ہمارے مذہبی قیادت اسلامی نظام کے نفاذ کا مبہم مطالبہ تو کرتی آرہی ہے لیکن اس نظام کی اقتصادی سماجی حیثیت کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کرتی وہ یہ مطالبہ کرتی نظر نہیں آتی کہ جانوروں کی قیمت اتنی رکھی جائے کہ ہر مسلمان قربانی کا یہ دینی فریضہ ادا کرسکے۔ پیغمبر اسلام کچے کمروں کے مکان میں رہتے تھے جو کی روٹی، اونٹنی کا دودھ استعمال کرتے تھے، چٹائی پر بیٹھتے تھے نہ ان کے پاس ہزاروں ایکڑ زمین تھی نہ اربوں کی دولت ، نہ وہ جاگیردار تھے نہ سرمایہ دار، پھر ہماری مذہبی قیادت جاگیرداری نظام، سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی تحریک کیوں نہیں چلاتی؟ وہ انسانی معاشروں، انسانی بستیوں میں پائی جانے والی تفریق و تقسیم کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتی وہ اس تفریق و تقسیم کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنے والوں پر کفر کے فتوے لگا کر عوام میں انھیں بدنام کرنے کی کوشش کیوں کرتی ہے وہ مسجدوں میں تو محمود وایاز کو ایک صف میں کھڑا دیکھتی ہے لیکن اقتصادی اور سماجی زندگی میں یہ مساوات قائم کرنے کا مطالبہ اور جدوجہد کیوں نہیں کرتی؟




اس قسم کی تقسیم اس قسم کی ناانصافیاں اس قسم کی محرومیاں ہر ملک میں خاص طور پر پسماندہ ملکوں میں قدم قدم پر نظر آتی ہیں ان ناانصافیوں کا ازالہ کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ 98 فیصد آبادی کی محرومیوں کا خیرا اور زکوٰۃ کے ذریعے ازالہ کیا جائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس معاشی ناانصافی پر مبنی اقتصادی نظام کو ختم کردیا جائے جو اس تقسیم کو جنم دے کر دو فیصد صاحب نصاب اور غنی پیدا کرتا ہے اور 98 فیصد انسانوں کو قربانی جیسے مذہبی فرض کی ادائیگی سے محروم کرکے انھیں دو وقت کی روٹی سے محروم کردیتا ہے۔ اس اقتصادی ناانصافی کے مسئلے کا سیاسی حل جمہوریت کی شکل میں پیش کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جمہوریت پسماندہ ملکوں میں اس فرق کو مزید بڑھانے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پاکستان اس حوالے سے محروم ملکوں میں سرفہرست اس لیے ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کی شرط اول یعنی جاگیردارانہ نظام ہی کو 65 سالوں میں ختم نہیں کیا جاسکا۔




سرمایہ دارانہ نظام میں طبقاتی تقسیم تو ناگزیر ہوتی ہی ہے لیکن جاگیردارانہ نظام میں یہ تقسیم اسی قدر سفاک ہوتی ہے کہ ہاری اور کسان عید قرباں پر جانور کی قربانی دینا تو رہی دور کی بات یہاں اپنی نوجوان بیٹیوں کی آبرو کی اسے قدم قدم پر قربانی دینا پڑتی ہے۔ اور ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ڈیفنس، کلفٹن، مچھر کالونیاں، گیدڑ کالونیاں نظر آتی ہیں۔ اس عید پر ہر مسلمان کا دل جانور کی قربانی کرنا چاہتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس ملک میں حج اور قربانی کی اساس پر کھڑے نظام میں عوام کی قربانی کی جارہی ہے اور عوام قربان ہورہے ہیں۔ مویشی منڈیاں تک وی آئی پی تقسیم کا شکار ہیں۔

source