وزیرخزانہ نے ایک اور بجٹ پیش کر دیا،اربوں روپے کے ٹیکسز عائد

9ishaqadarnenwtaxed.jpg

رواں مالی سال 2023-24ء کیلئے کھاد پر 5فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا: ذرائع

موجودہ اتحادی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے 14.64 ہزار ارب روپے کے بجٹ کی منظوری سے ایک دن پہلے ہی ایک اور بجٹ پیش کر دیا گیاہے۔


ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدےکی کوشش میں مصروف اتحادی حکومت نے بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے بڑھتی مہنگائی میں پستی عوام سے مزید ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے بجٹ کے بعد عوام پر 215 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے جائیں گے۔


وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے پیش کیے گئے بجٹ میں 200 ارب روپے کے ٹیکسز عائد کیے گئے تھے جس کی جگہ اب 415 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔ نئے بجٹ اقدامات کے تحت سالانہ بنیادوں پر 24 لاکھ سے زیادہ کمائی کرنے والے شہریوں پر عائد ٹیکس کی شرح میں 2.5فیصد جبکہ 2 لاکھ سے زائد تنخواہ وصول کرنیوالے شہریوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں 2.5فیصد اضافہ کیا گیا۔

رواں مالی سال 2023-24ء کیلئے کھاد پر 5فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس سے حکومت کو 35 ارب روپے کی اضافی آمدن ملے گی۔ جائیداد کی خریدوفروخت پر 1 فیصد ٹیکس بڑھا کر 2 فیصد کر دیا گیا ہے جو پہلے 1 فیصد تھا جس سے 45 ارب روپے آمدن کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ نیا مالیاتی بجٹ تیاری کے آخری مراحل ہے جس کے کل تک منظور ہونے کی توقع ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اختتامی بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تبدیلیاں اس لیے متعارف کرائی ہیں تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی آخری کوشش کر لی جائے جس کیلئے تفصیلی مذاکرات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نئے ٹیکسز کی مد میں 215 ارب جمع اور اپنے اخراجات میں 85 ارب روپے کی کمی کر رہے ہیں جبکہ مالیاتی خسارے میں کمی کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1672553787817426946