وائرل تصاویر کے بعد لڑکی کےقتل کا معاملہ،ڈی پی او نےمیڈیا رپورٹس مستردکردیں

dpo-one.jpg


وائرل تصاویر کے بعد لڑکی کے قتل کا معاملہ، ڈی پی او نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا

کوہستان میں وائرل تصاویر کے بعد جرگے کے حکم پر لڑکی کے قتل کے بعد میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او کولائی پالس کوہستان مختار احمد تنولی نے لڑکی کے قتل کے معاملے پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکی کے قتل کا حکم کسی جرگے نے نہیں دیا تھا، لڑکی کو اس والد اوردیگر رشتہ داروں نے قتل کیا۔

اے آروائی نیوز کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او مختار احمد تنولی کا کہنا تھا کہ لڑکی کی ایڈٹ شدہ تصاویر وائرل ہوئیں، یہ علاقے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ایسا واقعہ ہوا، میڈیا پر افواہیں گردش کررہی ہیں کہ ایک جرگے ک بعد یہ واقعہ ہوا، یہ سچ نہیں ہے ، کوئی جرگہ نہیں ہوا ، اس حوالے سے چلنے والی خبریں غلط ہیں، اگر کوئی بڑا جرگہ ہوتا تو دونوں بچیوں کو مارد یا جاتا۔


ڈی پی اومختار احمد کا کہنا تھا کہ بچی کے قتل کا فیصلہ کسی جرگے نے نہیں بلکہ والد، چچا اور چند رشتہ داروں نے گھر میں بیٹھ کر گھر میں منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کردیا،ایک بچی کا قتل ہوگیا، مقتولہ کی لاش اسپتال منتقل کی گئی اور زندہ بچ جانے والی بچی کو ریسکیو کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جیسے ہی قتل کی اطلاع ملی میں اور ایس ایچ او موقع پر پہنچ گئے، ہمیں جائے واردات پر پہنچنے میں 2 سے تین گھنٹے لگے، جس بچی کی جان بچائی گئی اس 26 نومبر کو شادی بھی ہوچکی ہے، علاقے میں ایک دہائی قبل غیرت کے نام پر قتل کے بہت زیادہ واقعات تھے اب ایسی چیزیں ختم ہورہی ہیں۔
 
Last edited: