ن لیگ کے حمایتی وکیل کو جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف ٹویٹ کرنا مہنگا پڑ گیا

ajah1i11h12i.jpg

سوشل میڈیا ایک طرف تو دنیا بھر سے رابطے کا ذریعہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف اسے پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ن لیگ کے حمایتی وکیل خالد حسین تاج نے جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک پیغام جاری کیا جس پر انہوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ٹویٹ کے اکثر حقائق درست نہیں بلکہ غلط ہیں۔

خالد حسین تاج نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) پیغام میں لکھا: یہ ٹویٹ اتنا زیادہ ری ٹویٹ کریں تاکہ 24 کروڑ عوام تک پہنچ جائے، اطہر من اللہ پاکستانی کی عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا رانگ نمبر اور سیاسی جج ہے! آج اطہر من اللہ کے حوالے سے میں وہ حقائق ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ آپ کو بتائوں گا جس کی گواہی ثاقب بشیر بھی دیں گے۔

انہوں نے لکھا: جب اطہر من اللہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ تھا تو سب سے زیادہ ماتحت عدالتوں میں مداخلت کرتا تھا، ایک خاتون وکیل نے 8 فروری 2021 کے دن اطہر من اللہ سے صرف اتنا سوال پوچھا تھا سر ہمارے چیمبر بغیر کسی نوٹس کے رات کو سی ڈی اے والوں نے گرا دیا اور ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا کیسز کے فائل سے لیکر کلائنٹوں کے ضروری ڈاکومنٹ بھی جو ہمارے پاس چیمبر میں تھے وہ بھی ملبے کے ڈھیر بن گئے، اگر فرض کرے ہمارے چیمبر غیر قانونی بھی تھے تو بھی قانونی طور پر ہمیں 3 دن کا نوٹس دینا چاہئے تھا۔

انہوں نے لکھا: اطہر من اللہ نے اس سوال کو گستاخی سمجھا اس خاتون کو سبق سیکھانے کے لیے اپنی انا کی تسکین کے لیے اس کے 4 ماہ کے شیرخوار بچے سے الگ کر کے 27 دن اڈیالہ جیل میں رکھا اس خاتون کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بنایا، اس کیس میں اطہر من اللہ مدعی بھی تھا اور منصف بھی، جب یہ خاتون وکیل ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تو اطہر من اللہ نے اپنے سیکرٹری کے زریعے انسداد دہشتگردی کے جج کو فون کرایا اور ان کو سختی سے ہدایات دی کہ اس خاتون کی ضمانت کی درخواست خارج کرنا اور اس جج نے اطہر من اللہ کی خواہش پر اس خاتون وکیل کو 27 دن جیل میں رکھا۔

انہوں نے لکھا کہ: اس جج نے بعد میں بہت سے وکیلوں کو خود بتایا کہ ہمارے اوپر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا سخت دباؤ تھا، اسی وجہ سے میں درخواستیں خارج کیں۔ آج یہی اطہر من اللہ دوسروں کو کہہ رہا ہے کہ عدالتی معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں ماتحت عدالتوں میں کسی جج نے سب سے زیادہ مداخلت کی ہے تو وہ اطہر من اللہ ہے یہ موقع کو دیکھ کر رنگ بدلتا رہتا ہے!
https://twitter.com/x/status/1796096099473645872
سینئر صحافی ثاقب بشیر نے ردعمل میں لکھا: میں بالکل گواہی دیتا ہوں آپ کی ٹویٹ کے اکثر حقائق درست نہیں غلط ہیں یا آدھی بات کی گئی آدھی چھپائی گئی بلکہ اصل بات کچھ اور ہے۔ آپ کی ٹویٹ کی اصل 8 فروری 2021ء کی اسلام آباد کے وکلاء کی جسٹس اطہر من اللہ کے چیمبر پر چڑھائی ہے، چھ سات گھنٹے جسٹس اطہر من اللہ کو ان کے چیمبر میں جا کر گندی گالیاں نکالنا چیمبر سے باہر نا نکلنے دینا اور ہائیکورٹ کی توڑ پھوڑ ہے اس وقت رینجر پہنچی لیکن جسٹس اطہر من اللہ نے کسی قسم کا آپریشن نہیں ہونے دیا بلکہ وکیلوں کی اس چڑھائی کو جس طرح اطہر من اللہ نے قانون کے دائرے میں رہ کر زبردست طریقے سے ہینڈل کیا۔

انہوں نے لکھا: عدلیہ میں آج تک کوئی ایسا نہیں کر سکا، اس کیلئے وہ داد کے مستحق ہیں، ماتحت عدلیہ میں مداخلت کے حقائق بھی آپ کے درست نہیں ، میں یہ بات ہوا میں نہیں بلکہ معلومات کی بنا پر کر رہا ہوں اس کے علاوہ تفصیلات میری ابھی کی پن ٹویٹ میں ضروری دیکھیں، وہ تھریڈ جو جسٹس اطہر من اللہ کے سپریم کورٹ جانے کے وقت میں نے لکھا تھا وہ میری ٹائم لائن پر ہے ٹویٹ میں پڑھ لیں!
https://twitter.com/x/status/1796180641689612515
واضح رہے کہ ثاقب بشیر نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکائونٹ کی ٹائم لائن پر موجود پن ٹویٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: جسٹس اطہر من اللہ کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر چار سالہ دور اختتام پذیر ہوا، اس دوران کسی نا کسی طرح چیف جسٹس تنقید کا مرکز رہے۔ حکومت تبدیلی سے پہلے جو ناقد تھے بعد میں تعریف کرنے لگے جو حکومت تبدیلی سے پہلے تعریف کرتے تھے حکومت تبدیلی کے بعد ناقد بن گئے!
https://twitter.com/x/status/1589656043021565952