ن لیگ کا الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

6ecplskspmlkskjshamnaysamnay.png

الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا تو انتخابی ماحول بنے گا: رہنما ن لیگ

سابق وفاقی وزیر ورہنما مسلم لیگ ن نے لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 4 دفعہ مارشل لاء لگے جس کی وجہ سے ملک میں جمہوری روایات کو فروغ نہیں ملا، نئی اسمبلی وجود میں آنے پر نئی سیاست کا آغاز ہو گا۔

ہمیں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے، بدترین حالات میں بھی انتخابات لڑے، یہ ہمارا پہلا الیکشن نہیں ہے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ بہترین امیدواروں کا انتخاب کر کے انتخابی میدان میں اتاریں۔

انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیول پلئینگ فیلڈ کا طعنہ ملنا میری سمجھ سے بالاتر ہے، ہماری جماعت بھی نئی حلقہ بندیوں سے مطمئن نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ میرا حلقہ بھی نئی حلقہ بندیوں سے متاثر وہوا، میں نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا لیکن میری بات سننے کے بجائے نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے کے 2018ء میں 3 حصے صرف اس لیے کیے گئے کیونکہ عمران خان کو جتوانا تھا اور اس دفعہ 4 حصے کر دیئے ہیں۔ والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی 10 وارڈز ہیں جکہ ایک کنٹونمنٹ بورڈ میں 4 حلقے قومی اسمبلی کے ڈال دیئے گئے ہیں۔ الیکشن کا ماحول اس لیے نہیں بن رہا کیونکہ نئی حلقہ بندیوں میں مسائل ہیں، انتخابی شیڈول جاری ہونے پر گہما گہمی شروع ہو جائے گی۔


سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں میں ابھی بھی بہت سے مسائل سامنے آرہے ہیں اس لیے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا تو انتخابی ماحول بنے گا، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونے چاہئیں اس میں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی جماعت نے 15 سال تک سوشل میڈیا پر انویسٹ کیا، ان کو وہیں انتخابات لڑنے دیں، ہم گلیوں، کھیتوں اور دیہاتوں میں انتخابات لڑیں گے۔ پی ٹی آئی کو اسمبلیوںکا مشورہ ہم نے نہیں دیا تھا، طاقت ہونے کے باوجود ہم نے 9 مئی جیسا کچھ نہیں کیا، کسی کو آپ نے اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ آپ سے ہمدردی کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منتخب حکومت کے اقتدار میں آنے تک ہمارا معاشی بحران ختم نہیں ہو سکتا، آئی ایم ایف سے وقتی ریلیف ملا ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے نئی حکومت منتخب ہونے تک معیشت بہتر نہیں ہو سکتی، یہ منتخب لوگوں کا کام ہے کہ قانون سازی کریں۔ عالمی ادارے بھی منتخب حکومت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اس لیے انتخابات کو اپنے وقت پر ہونا چاہیے، تاخیر مناسب نہیں۔
 

Curious_Mind

Senator (1k+ posts)
6ecplskspmlkskjshamnaysamnay.png

الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا تو انتخابی ماحول بنے گا: رہنما ن لیگ

سابق وفاقی وزیر ورہنما مسلم لیگ ن نے لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 4 دفعہ مارشل لاء لگے جس کی وجہ سے ملک میں جمہوری روایات کو فروغ نہیں ملا، نئی اسمبلی وجود میں آنے پر نئی سیاست کا آغاز ہو گا۔

ہمیں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے، بدترین حالات میں بھی انتخابات لڑے، یہ ہمارا پہلا الیکشن نہیں ہے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ بہترین امیدواروں کا انتخاب کر کے انتخابی میدان میں اتاریں۔

انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیول پلئینگ فیلڈ کا طعنہ ملنا میری سمجھ سے بالاتر ہے، ہماری جماعت بھی نئی حلقہ بندیوں سے مطمئن نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ میرا حلقہ بھی نئی حلقہ بندیوں سے متاثر وہوا، میں نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا لیکن میری بات سننے کے بجائے نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے کے 2018ء میں 3 حصے صرف اس لیے کیے گئے کیونکہ عمران خان کو جتوانا تھا اور اس دفعہ 4 حصے کر دیئے ہیں۔ والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی 10 وارڈز ہیں جکہ ایک کنٹونمنٹ بورڈ میں 4 حلقے قومی اسمبلی کے ڈال دیئے گئے ہیں۔ الیکشن کا ماحول اس لیے نہیں بن رہا کیونکہ نئی حلقہ بندیوں میں مسائل ہیں، انتخابی شیڈول جاری ہونے پر گہما گہمی شروع ہو جائے گی۔


سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں میں ابھی بھی بہت سے مسائل سامنے آرہے ہیں اس لیے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا تو انتخابی ماحول بنے گا، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونے چاہئیں اس میں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی جماعت نے 15 سال تک سوشل میڈیا پر انویسٹ کیا، ان کو وہیں انتخابات لڑنے دیں، ہم گلیوں، کھیتوں اور دیہاتوں میں انتخابات لڑیں گے۔ پی ٹی آئی کو اسمبلیوںکا مشورہ ہم نے نہیں دیا تھا، طاقت ہونے کے باوجود ہم نے 9 مئی جیسا کچھ نہیں کیا، کسی کو آپ نے اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ آپ سے ہمدردی کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منتخب حکومت کے اقتدار میں آنے تک ہمارا معاشی بحران ختم نہیں ہو سکتا، آئی ایم ایف سے وقتی ریلیف ملا ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے نئی حکومت منتخب ہونے تک معیشت بہتر نہیں ہو سکتی، یہ منتخب لوگوں کا کام ہے کہ قانون سازی کریں۔ عالمی ادارے بھی منتخب حکومت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اس لیے انتخابات کو اپنے وقت پر ہونا چاہیے، تاخیر مناسب نہیں۔
What a Joke !
نئی حلقہ بندیوں سے ابھی تک تحریک انصاف کے ووٹر کو خارج نہیں کیا گیا ہے۔
جب تک تحریک انصاف کے تمام ووٹر لسٹوں سے خارج نہیں ہوتے، نون لیگ کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملے گی، لیحاظہ الیکشن کمیشن کا اقدام نامنظور
 

exitonce

Chief Minister (5k+ posts)
What a Joke !
نئی حلقہ بندیوں سے ابھی تک تحریک انصاف کے ووٹر کو خارج نہیں کیا گیا ہے۔
جب تک تحریک انصاف کے تمام ووٹر لسٹوں سے خارج نہیں ہوتے، نون لیگ کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملے گی، لیحاظہ الیکشن کمیشن کا اقدام نامنظور
Matlab ECP should issue orders that NS ganja is PM.
 

ts_rana

Minister (2k+ posts)
اس شعر میں شاعر یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ ساڈی گل ہن ہوگئی اے تسی ہن چنتخابات کروا سکدے او۔۔
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں میں ابھی بھی بہت سے مسائل سامنے آرہے ہیں اس لیے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا تو انتخابی ماحول بنے گا، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونے چاہئیں اس میں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔
100809114_144453860506729_4762029862565183488_n.jpg
 
Sponsored Link