نگراں حکومت کا جاتے جاتے انوکھا فیصلہ،آٹے کی برآمد پر عائد پابندی ختم کردی

kakh1i11hh213.jpg

نگراں حکومت کا جاتے جاتے انوکھا فیصلہ،آٹے کی برآمد پر عائد پابندی ختم کردی

نگراں حکومت کا جاتے جاتے انوکھا فیصلہ،قلت کے باوجود آٹے کی برآمدپر عائد پابندی ختم کردی

نگراں وفاقی حکومت نے جاتے جاتے انوکھا فیصلہ کرلیا اور قلت کے باوجود آٹے کے بیرون ملک برآمدکی اجازت دیدی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگراں وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی کمی کے باوجود آٹا بیرون ملک فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

حکومتی فیصلےسے ملک میں آٹے کی قلت پیدا ہونے اور قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہوگیا ہےجبکہ کچھ ماہرین نے آٹے کی افغانستان سمگلنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بااثر کمپنیوں کے مطالبے پر آٹے کی درآمد پر عائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
https://twitter.com/x/status/1762832097201242115
خیال رہے کہ2019 میں وفاقی کابینہ نے آٹے کی بیرون ملک برآمدپر پابندی عائد کی تھی، اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کے باعث گندم اور آٹے کی بیرون ملک ترسیل رک گئی تھی۔

پاکستان میں اس وقت آٹے کی قیمت آسمانوں سے باتیں کررہی ہے، 20 کلو آٹے کا تھیلا 3000 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ کھلا آٹا 160 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

شہباز حکومت سے قبل آٹے کا 20 کلو تھیلا 1100 روپے میں فروخت ہورہا تھا اور یوٹیلٹی سٹورز پر 20 کلو کا تھیلا 800 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔