نکاح کے لئے گواہان

barca

Prime Minister (20k+ posts)
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر (
چاچا جب مجھے لڑکی مل گئی گواہ بھی ڈھونڈھ لونگا تم ٹینشن نہ لو
 

غزالی

MPA (400+ posts)
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#

عقد نکاح کے لیے گواہان ضروری ہیں، اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :


( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔ دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔


اورنکاح کی تاکید اوراعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :


( نکاح کااعلان کرو ) مسنداحمد ، صحیح الجامع میں اسے حسن قراردیا گيا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1072 ) ۔

نبی کا نکاح
عقد نکاح کے لیے گواہان ضروری ہیں، اس لیے کہ
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :



( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔ دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔


اسلام میں عقدنکاح کے تین ارکان ہیں :
اول :

خاوند اوربیوی کی موجودگی جن میں مانع نکا ح نہ پایا جائے جوصحت نکاح میں مانع ہو مثلا نسب یا پھر رضاعت کی وجہ سے محرم وغیرہ ، اوراسی طرح مرد کافر ہو اورعورت مسلمان ہو ۔
دوم :

حصول ایجاب : ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کویہ کہے کہ میں نے تیری شادی فلاں لڑکی سے کردی یا اسی طرح کے کوئي اورالفاظ ۔

سوم :
حصول قبول : قبولیت کے الفاظ خاوند یا پھر اس کے قائم مقام سے ادا ہوں مثلا وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کچھ اور الفاظ ۔صحت نکاح کی شروط :اول :زوجین کی تعیین : چاہے یہ تعیین اشارہ یا نام یا پھر صفت بیان کرکے کی جائے ۔

دوم :خاوند اوربیوی کی دوسرے پر رضامندی :کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :( ایم کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ، اورکنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی ، صحابہ کرام کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اجازت ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4741 ) ۔حدیث میں ایم کا لفظ استعمال ہوا ہے ایم اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند سے اس کی موت یا پھر طلاق کی وجہ سے علیحدہ ہوچکی ہو ۔اورتستامر کا معنی ہے کہ اس سے اجازت کی جائے گی جس میں اس کی جانب سے صراحب ہونا ضروری ہے ، ۔اورکیف اذنھا : کا معنی ہے کہ کنواری کی اجازت کس طرح کیونکہ وہ تو شرماتی ہے ۔

سوم :عورت کا نکاح اس کا ولی کرے : کیونکہ اللہ تعالی نے عورت کے نکاح میں ولی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے :** اوراپنے میں سے بے نکاح عورتوں اورمردوں کا نکاح کردو ** ۔اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :( جس عورت نے بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کانکاح باطل ہے ) سنن ترمذی حديث نمبر ( 1021 ) اس کے علاوہ اورمحدیثین نے بھی اسے روایت کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے ۔چہارم :عقد نکاح کے لیے گواہ : اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔

دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔
اورنکاح کی تاکید اوراعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :( نکاح کااعلان کرو ) مسنداحمد ، صحیح الجامع میں اسے حسن قراردیا گيا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1072 ) ۔ولی بننے کی شروط :ولی میں مندرجہ ذيل شروط کا ہونا ضروری ہے :1 عقل ۔ یعنی عقلمند ہو بے وقوف ولی نہيں بن سکتا ۔2 بلوغت ۔ یعنی بالغ ہو بچہ نہ ہو3 حریہ : یعنی آزاد ہوغلام نہ ہو ۔4 دین ایک ہو ، اس لیے کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہيں ہوسکتی ، اور اسی طرح مسلمان کسی کافر یا کافرہ کا ولی نہيں بن سکتا ۔کافرمرد کو کافرہ عورت پر شادی کی ولایت مل سکتی ہے ، چاہے ان کا دین مختلف ہی ہو ، اوراسی طرح مرتد شخص کو بھی کسی پر ولایت نہیں حاصل ہوسکتی ۔5 عدالۃ : یعنی عادل ہونا چاہیے یہ عدل فسق کے منافی ہے ، جوبعض علماء کے ہاں تو شرط ہے اوربعض علماء ظاہری طور پر ہی عادل ہونا شرط لگاتے ہیں ، اورکچھ علماء کہتے ہیں کہ اتنا ہی کافی ہے کہ جس کی شادی کا ولی بن رہا ہے اس کی مصلحت حاصل ہونا ہی کافی ہے ۔6

ذکورۃ ۔ یعنی وہ مرد ہو ۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7298 ) ۔7 رشد ، ایسی قدرت جس سے نکاح کی مصلحت اورکفوکی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔فقھاء کرام کے ہاں تو تو ترتیب ضروری ہے اس لیے ولی کے نہ ہونے یا اس کی نااہلی کی بنا پر یا پھر اس میں شروط نہ پائے جانے ک صورت میں قریبی ولی کو چھوڑ کر دور والے کو ولی بنانا جائز نہیں ۔

عورت کا ولی اس کا والد ہے اس کے بعد جس کے بارہ میں وہ وصیت کرے ، پھر اس کا دادا ، پڑدادا اوراس کے اوپر تک ، پھر اس کے بعد عورت کا بیٹا ، اورپھر پوتا اوراس سے نيچے تک ، پھر اس کے بعد عورت کا سگا بھائی ، پھر والد کی طرف سے بھائي ، پھر ان دونوں کے بیٹے ، پھر عورت کا سگا چچا ، پھر والد کی طرف سے چچا ، پھر چچا کے بیٹے ، پھر نسب کے لحاظ کے سے قریبی شخص جو عصبہ ہو ولی بنے گا جس طرح کہ وراثت میں ہے ، اورپھر جس کا کوئي ولی نہيں اس کا ولی مسلمان حکمران یا پھر اس کا قائم مقام قاضی ولی بنے گا ۔واللہ اعلم .


نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر (

یہ سب تو بہت مناسب ہے لیکن یہ بعد کی باتیں ہیں، مجھے ان سے بھی پہلے کچھ بنیادی باتوں کے جواب درکار ہیں امید ہے کہ تشفی کیلئے قرآن اور صحیحیں سے ہی حوالہ جات لائیں گے، کیونکہ مندرجہ بالا میں کوئی بھی حوالہ ہر دو ماخذ سے نہیں ہے جو براہ راست نکاح کی بنیادی ضرورت سے تعلق رکھتا ہو۔

کیا نکاح فرض ہے یا سنت؟

کیا نکاح ایک شرعی مسئلہ ہے یا معاشرتی؟
 

Night_Hawk

Siasat.pk - Blogger
[h=1]An-Nikah: The marriage covenant
[/h]
1585.png

Mohammad Mazhar Hussaini

[h=2]Mutual Agreement of Bride and Groom[/h] Marriage (nikah) is a solemn and sacred social contract between bride and groom. This contract is a strong covenant (mithaqun ghalithun) as expressed in Quran 4:21. The marriage contract in Islam is not a sacrament. It is revocable.

Both parties mutually agree and enter into this contract. Both bride and groom have the liberty to define various terms and conditions of their liking and make them a part of this contract.


[h=2]Mahr[/h] The marriage-gift (Mahr) is a divine injunction. The giving of mahr to the bride by the groom is an essential part of the contract.

'And give the women (on marriage) their mahr as a (nikah) free gift" (Quran 4:4)

Mahr is a token commitment of the husband's responsibility and may be paid in cash, property or movable objects to the bride herself. The amount of mahr is not legally specified, however, moderation according to the existing social norm is recommended. The mahr may be paid immediately to the bride at the time of marriage, or deferred to a later date, or a combination of both. The deferred mahr however, falls due in case of death or divorce.

One matrimonial party expresses 'ijab" willing consent to enter into marriage and the other party expresses 'qubul" acceptance of the responsibility in the assembly of marriage ceremony. The contract is written and signed by the bride and the groom and their two respective witnesses. This written marriage contract ("Aqd-Nikah) is then announced publicly.

[h=2]Sermon[/h] The assembly of nikah is addressed with a marriage sermon (khutba-tun-nikah) by the Muslim officiating the marriage. In marriage societies, customarily, a state appointed Muslim judge (Qadi) officiates the nikah ceremony and keeps the record of the marriage contract. However any trust worthy practicing Muslim can conduct the nikah ceremony, as Islam does not advocate priesthood. The documents of marriage contract/certificate are filed with the mosque (masjid) and local government for record.

Prophet Muhammad (S) made it his tradition (sunnah) to have marriage sermon delivered in the assembly to solemnize the marriage. The sermon invites the bride and the groom, as well as the participating guests in the assembly to a life of piety, mutual love, kindness, and social responsibility.

The Khutbah-tun-Nikah begins with the praise of Allah. His help and guidance is sought. The Muslim confession of faith that 'There is none worthy of worship except Allah and Muhammad is His servant and messenger" is declared. The three Quranic verses (Quran 4:1, 3:102, 33:70-71) and one Prophetic saying (hadith) form the main text of the marriage. This hadith is:

'By Allah! Among all of you I am the most God-fearing, and among you all, I am the supermost to save myself from the wrath of Allah, yet my state is that I observe prayer and sleep too. I observe fast and suspend observing them; I marry woman also. And he who turns away from my Sunnah has no relation with me". (Bukhari)

The Muslim officiating the marriage ceremony concludes the ceremony with prayer (Dua) for bride, groom, their respective families, the local Muslim community, and the Muslim community at large (Ummah)

Marriage (nikah) is considered as an act of worship (ibadah). It is virtuous to conduct it in a Mosque keeping the ceremony simple. The marriage ceremony is a social as well as a religious activity. Islam advocates simplicity in ceremonies and celebrations.

Prophet Muhammad (S) considered simple weddings the best weddings:

'The best wedding is that upon which the least trouble and expense is bestowed". (Mishkat)

[h=2]Primary Requirements[/h]
  1. Mutual agreement (Ijab-O-Qubul) by the bride and the groom
  2. Two adult and sane witnesses
  3. Mahr (marriage-gift) to be paid by the groom to the bride either immediately (muajjal) or deferred (muakhkhar), or a combination of both
[h=2]Secondary Requirements[/h]
  1. Legal guardian (wakeel) representing the bride
  2. Written marriage contract ("Aqd-Nikah) signed by the bride and the groom and witnesses by two adult and sane witnesses
  3. Qadi (State appointed Muslim judge) or Ma'zoon (a responsible person officiating the marriage ceremony)
  4. Khutba-tun-Nikah to solemnize the marriage
[h=2]The Marriage Banquet (Walima)[/h] After the consummation of the marriage, the groom holds a banquet called a walima. The relatives, neighbors, and friends are invited in order to make them aware of the marriage. Both rich and poor of the family and community are invited to the marriage feasts.

Prophet Muhammad (S) said:

'The worst of the feasts are those marriage feasts to which the rich are invited and the poor are left out". (Mishkat)

It is recommended that Muslims attend marriage ceremonies and marriage feasts upon invitation.

Prophet Muhammad (S) said:

"...and he who refuses to accept an invitation to a marriage feast, verily disobeys Allah and His Prophet". (Ahmad & Abu Dawood)
http://www.soundvision.com/article/an-nikah-the-marriage-covenant
 

ALMAHDI

Banned
شعیہ دین میں نکاح کے لیے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور طلاق کے لئے گواہ ضروری
جبکہ مسلمانوں کے نزدیک نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا لازمی ہے اور طلاق کے لئے نہیں

اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف ادیان ہیں جن میں کوئی ایک عقیدہ بھی مشترک نہیں

تمہارے مذہب میں تو شادی کیلئے سرے سے ہی کسی چیز کی ضرورت نہیں بس لڑکا لڑکی صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ "ہماری شادی ہو گئی"۔
نہ والدین کی اجازت، نہ نکاح خوان کی ضرورت، نہ دو گواہوں کی، نہ اس نکاح کو رجسٹرار کے پاس درج کروانے کی۔
لڑکی لڑکے کا جب موڈ بنا صرف چار لفظ "ہماری شادی ہو گئی" کہہ کرجپھی ڈال لیتے ہیں . . . . . . فارغ ہوکر پسینہ پونچھا اور طلاق دے کر دونوں اپنے اپنے گھر روانہ۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
جب دوبارہ ضرورت پڑی تو کسی قریبی حلالہ سنٹر سے "فوری حلالہ "نکلوا کر پھر نکاح پڑھ لو۔ نہ ولیمے کا خرچہ نہ جہیز کا جھنجٹ۔ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی ۔

 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
کچھ لوگ عادت سے مجبور ہوتے ہیں ان کے ساتھ بحث فضول ہوتی ہے کیوں کہ ایسے لوگوں کے لئے دلیل حجت نہیں ہوتی اسی لئے الله نے فرمایا جاہلوں سے الگ رہو ،
ارشاد ہے
:وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا()(سورۃ فرقان -25آیت63)
رحمان کے حقیقی بندے وہ ہیں جو زمین میں اطمینان ووقارسے چلتے ہیں اور جب ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ان سے بحث کرتے ہیں تو ان سے سلام کرکے الگ ہو جاتے ہیں
مزید ارشاد ہے:
وَاِذَا رَاَیْْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیَاتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْْرِہٖ ۔۔۔۔۔۔۔() (سورۃ انعام -6آیت68کا ایک حصہ)
جب تم دیکھو کہ وہ لوگ جو ہمارے آیتوں میں عیب نکالتے ہیں تو ان سے الگ ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں
.
وَاِذَا سَمِعُوا الَّلغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلَامٌ عَلَیْْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجَاہِلِیْنَ() (سورۃ قصص -28آیت55)
جب وہ کوئی بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔کہتے ہیں بھائی ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمھارے اعمال تمھارے لئے، تم کو سلام ہے۔ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے
.
مزید ارشاد ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ() وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ() (سورۃ اعراف -7آیات200-199)
اے نبیؐ،نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو،معروف کی تلقین کئے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو۔اگر تمہیں شیطان اکسائے (کہ نرمی چھوڑ کر اینٹ کا جواب پتھر سے دو) تو اللہ کی پناہ مانگو۔

 

swing

Chief Minister (5k+ posts)
کچھ لوگ عادت سے مجبور ہوتے ہیں ان کے ساتھ بحث فضول ہوتی ہے کیوں کہ ایسے لوگوں کے لئے دلیل حجت نہیں ہوتی اسی لئے الله نے فرمایا جاہلوں سے الگ رہو ،
ارشاد ہے
:وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا()(سورۃ فرقان -25آیت63)
’’رحمان کے حقیقی بندے وہ ہیں جو زمین میں اطمینان ووقارسے چلتے ہیں اور جب ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ان سے بحث کرتے ہیں تو ان سے سلام کرکے الگ ہو جاتے ہیں‘‘
مزید ارشاد ہے:
وَاِذَا رَاَیْْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیَاتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْْرِہٖ ۔۔۔۔۔۔۔() (سورۃ انعام -6آیت68کا ایک حصہ)
’’جب تم دیکھو کہ وہ لوگ جو ہمارے آیتوں میں عیب نکالتے ہیں تو ان سے الگ ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں‘‘
.
وَاِذَا سَمِعُوا الَّلغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلَامٌ عَلَیْْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجَاہِلِیْنَ() (سورۃ قصص -28آیت55)
’’جب وہ کوئی بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔کہتے ہیں بھائی ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمھارے اعمال تمھارے لئے، تم کو سلام ہے۔ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے‘‘
.
مزید ارشاد ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ() وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ() (سورۃ اعراف -7آیات200-199)
’’اے نبیؐ،نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو،معروف کی تلقین کئے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو۔اگر تمہیں شیطان اکسائے (کہ نرمی چھوڑ کر اینٹ کا جواب پتھر سے دو) تو اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘

Mirza saab kis fazool behas mein uljhay huway hain.
Jis bat mai kisi islaah ka pehlo ziada ho aur behas thori waha muhtalif fiqa jaat walo se bat ho sakti hai.
Aur jin cheezo ko aaj kay ulamaa nahe suljha sakay tou hum kia cheez hain.
Behtar hai aise behsoo se bacha keray,warna akhir nateeja badtameezi he hoti hai dosri janab se aur iman ka hatra alag.
Hope fully u got my mean.
 

Hadith

Minister (2k+ posts)
Ye app ko kis ny Keh deya ke shia nikah ke waqet gawah ki zarort nahi hoti. Ya. Gawah mojod nahi hoty.baqaeda 2 gawah bhi hoty hain aur wali bhi hoty hain.apni ankhoon sy dekha hai.suni sonai baat nahi bata raha yehaan mojod kuch huzrat ki turha.
 
Last edited: