نکاح کے لئے گواہان

Ahud1

Chief Minister (5k+ posts)
کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا واجب ہے ؟؟؟؟؟

1۔ قرآن میں کئی جگہ مختلف قسم کی عورتوں کا ذکر آیا، اور پھر ان کئی جگہوں پر ان مختلف عورتوں سے نکاح کی شرائط کا ذکر آیا۔۔۔ ۔ مگر قرآن میں کسی ایک جگہ بھی اللہ تعالی نے نکاح کے لیے گواہوں کو شرط قرار نہیں دیا۔

یہ چیز قرآنسٹ حضرات کے لیے بھی سبق ہے جو ایک طرف نکاح کے لیے گواہ کو لازمی قرار دیتے ہیں، اور دوسری طرف انہیں پورے قرآن میں نکاح کے شرائط بیان کرتے ہوئے ایک جگہ بھی گواہ کا لفظ نہیں ملتا۔

چنانچہ اصول یہ ہے کہ جہاں پارٹیوں کی رضامندی ہو وہاں پر بیرونی گواہوں کے تقرر کی ضرورت نہیں، مگر جب اختلافات کے باعث طلاق کا مسئلہ ہو تو پھر اہل تشیع فقہ کے مطابق واجب و لازم ہے کہ بیرونی طور پر دو گواہوں کو مقرر کیا جائے (جبکہ ہمارے برادران کے فقہ میں بغیر گواہ کے طلاق ہو جاتی ہے)۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:


[القرآن 65:2]فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ


Tarjuma:
پھر جب وہ (طلاق دیے جانی والی عورتیں) اپنی مقررہ میعاد (کے ختم ہونے) کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں بھلائی کے ساتھ (اپنی زوجیت میں) روک لو یا انہیں بھلائی کے ساتھ جدا کردو۔ اور اپنوں میں سے دو عادل مَردوں کو گواہ بنا لو اور گواہی اللہ کے لئے قائم کیا کرو، ۔

حیرت کی بات ہے کہ حدیث کے ذخیرے میں بھی آپ کو بخاری و مسلم و دیگر کتب میں کئی کئی جگہ نکاح کی دیگر شرائط مل جائیں گی، مگر نکاح میں گواہ کی شرط آپ کو بخاری میں ملے گی نہ مسلم میں، اور نہ پھر انکے بعد صحاح ستہ کی کسی کتاب میں۔۔۔ ۔ اور پھر صحاح ستہ کے ساتھ نمبر آتا ہے امام مالک کی موطا ء کا، مگر اس میں بھی کہیں ڈھونڈننے سے آپ کو نکاح میں گواہ کی شرط نظر نہیں آئے گی۔
لے دے کر بہت ڈھونڈنے سے صرف ایک روایت ملتی ہے جسے فریق مخالف پیش کرتا ہے، اور وہ یہ ہے
** لا نكاح إلا بولي وشاهدين عدلين **
یعنی ولی اور عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
مگر یہ واحد روایت بھی بہت سے اہلسنت علماء کے نزدیک ضعیف ہے اور وہ اسکو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ مثلاً دیکھئے آگے امام مالک اور ابن قدامہ کا فتوی۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی یہ روایت قابل استدلال نہیں کیونکہ وہ اس روایت کے پہلے حصے "ولی" کی شرط کو نہیں مانتے۔

علماء کے فتوے دیکھ لیں جس میں یہ آپ سےنکاح دائمی میں گواہوں کے لازم ہونے کے متعلق اختلاف کر رہے ہیں۔
امام شوکانی اپنی کتاب نیل الاوطار میں لکھتے ہیں:

۔
البحر میں (عبداللہ) ابن عمر، (عبداللہ) ابن زبیر، عبدالرحمان ابن مہدی اور داؤد سے مروی ہے کہ نکاح میں کسی گواہوں کی ضرورت نہیں۔ اور امام مالک سے ہے کہ (گواہ کی ضرورت نہیں) بلکہ فقط نکاح کا اعلان کر دینا کافی ہے۔

عبداللہ ابن عمر صاحبزادے ہیں حضرت عمر کے اور انہیں فقہیہ صحابی سمجھا جاتا ہے۔اب بتلائیے کہ جب ان صحابہ کا مذہب یہ ہے کہ گواہان کی شرط لازمی نہیں تو پھر بھی کیا پھر بھی ان صحابہ ابن عمر ، ابن زبیر پر بھی فتوی بازی کی جائے گی؟ امام مالک کو بھی ڈھونڈنے سے کوئی "ایک" بھی صحیح روایت 2 گواہوں کے لیے نہیں مل سکی، اس لیے انہوں نے اعلان کی شرط رکھ دی۔ اعلان یہ ہے کہ اگر مرد اور عورت نے شام کو نکاح کر لیا ہے تو اگلی صبح وہ اسکا اعلان کر دیں۔
اور علامہ قاضی خان اپنی مشہور کتاب فتاوی قاضی خان میں فرماتے ہیں:

نکاح (دائمی) میں یہ لازمی نہیں کہ گواہان موجود ہوں

اور فقہ کی کتاب ہدایہ میں درج ہے کہ:
وهو حجة على مالك شر في اشتراط الإعلام دون الشهادة

یعنی ۔۔۔
مالک کے نزدیک یہ حجت تھی کہ اعلان کیا جائے مگر گواہوں کی شرط ضروری نہیں تھی۔

اور اگر کچھ اصحاب زیادہ ہی انتہا پسند ہیں تو انہیں ذیل کے چند فتوے دیکھنے کے بعد شاید اس مرض سے نجات مل جائے اور وہ دوسروں کے خلاف پروپیگنڈہ بند کریں:
ولو تزوج امرأة بحضرة السكارى وهم عرفوا أمر النكاح غير أنهم لا يذكرونه بعد ما صحوا انعقد النكاح

ترجمہ:
اگر کسی عورت نے ایسے گواہوں کے سامنے جو نشہ میں ہیں نکاح کا عقد کیا، اور اُن نشہ کے مستوں نے نکاح کا پہچان لیا، مگر بات اتنی ہے کہ جب وہ ہوش میں آئے اور نشہ اتر گیا تو اب اُنکو یاد نہیں ہے، تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔

حوالہ:
فتاوی قاضی خان، کتاب النکاح
فتاوی عالمگیری (اردو) جلد 2، صفحہ 127
ایسے نشے میں مدہوش گواہوں سے ہم بغیر گواہوں کے ہی بہتر۔
اسی ضمن میں ایک اور فتوی::

وينعقد بحضور من لا تقبل شهادته له أصلا

ترجمہ:
اورجن لوگوں کی گواہی عاقد کے حق میں اصلا قبول نہیں ہوتی، اُنکے شاہد ہونے سے بھی نکاح منعقد ہو گیا۔

حوالہ:
فتاوی عالمگیری
فتاوی عالمگیری (اردو)، جلد 2، صفحہ 126
اور گواہان کے علاوہ ولی کی اجازت کے بغیر بھی نکاح ہو جاتا ہے
نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي عند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى

یعنی۔۔۔
امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ظاہر الروایۃ کے موافق عورت آزادہ عاقلہ بالغہ کا نکاح بدون (بغیر) ولی کے نافذ ہو جاتا ہے۔

حوالہ:
فتاوی عالمگیری، کتاب النکاح
فتاوی عالمگیری (اردو)، جلد 2، صفحہ 162
اور فتاوی عالمگیری میں مزید درج ہے:
رجل خطب امرأة إلى نفسها فأجابته إلى ذلك وكرهت أن يعلم بذلك أولياؤها فجعلت أمرها في تزويجها إليه يجوز هذا النكاح

یعنی ۔۔۔
اگر مرد ایک عورت کو شادی کی پیشکش کرے اور وہ اسے قبول کر لے، مگر یہ نہ چاہے کہ اُس کے ولیوں کو اس کی خبر ہو، تو وہ اسی مرد کو اپنا ولی مقرر کر سکتی ہے اور ایسے نکاح کی اجازت ہے۔

المغنی ابن قدامہ حنبلی سے لکھتے ہیں کہ : امام احمد سے نقل ہوا ہے کہ بغیر شہود اور گواہ کے نکاح صحیح ہے اور بغیر گواہ کا نکاح ابن عمر نے انجام دیا ہے حسن بن علی [علیہا السلام ] نےانجام دیا ہے ابن زبیر نے انجام دیا ہے ابن عمر کے دو بیٹے سالم اور حمزہ نے انجام دیا ہے اسی کے قائل ہیں عبد اللہ بن ادریس ہین اسی طرح عبد الرحمن بن مھدی [بخاری کے استاد]یزید بن ہارون ، عنبری ابو ثور ، ابن منذر ہیں یہی قول زہری کا ہے یہی قول امام مالک کا ہے ۔۔ ابن منذر کہتے ہیں کہ نکاح کے گواہ کے بارے میں کوئی بھی خبر[ صحیح] ثابت نہیں ہوئی ہے اور ابن عبد البر نے کہا :نبی ص سے روایت لا نکاح الا بولی و شاہدین عدلین ابن عباس اور ابو ہریرہ اور ابن عمر سے آئی ہے لیکن اس کے نقل مین ضعف پایا جاتا ہے یعنی یہ روایت ضعیف ہے پس میں اس روایت کو نہیں لونگا۔
ابن منذرکہتے ہیں کہ : حضرت رسول اللہ ص نے صفیہ بن حیی کو آزاد کر کے شادی کی اورکسی کو گواہ قرار نہیں دیا۔
انس بن مالک نے کہا: رسول اکرم ص نے ایک کنیز خریدی تب لوگوں نے کہا رسول اکرم ص اس سے شادی کرینگے یا ام ولد بنائیں گے جب سوار ہونے کا ارادہ کیا کنیز کو حجاب کروایا تو لوگ جان گئے کہ حضرت نےشادی کی ہے حدیث متفق علیہ ہے یعنی **گواہ درکار نہیں تھے]پس لوگوں نے حجاب کے ذریعے سے استدلال اور نتیجہ نکالا کہ آپ ص نے شادی کی ہے [ناکہ گواہوں سے ]یزید بن ہارون نے کہا ہے کہ خداوند نے گواہ قرار دینے کا حکم خرید فروخت میں دیا ہے


2Q==
 
Last edited by a moderator:

barca

Prime Minister (20k+ posts)
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#1575

میرے خیال سے تو لڑکی کا ہونا لازمی ہے
گواہ تو مل ہی جاتے ہیں
 
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#1575

I havent read a single line apart from topic, sharam karo hayya karo, jaisay likha hai waisay zara apni bachi ka nikah karo, baghair gawahon kay
 

Ahud1

Chief Minister (5k+ posts)
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#

میرے خیال سے تو لڑکی کا ہونا لازمی ہے
گواہ تو مل ہی جاتے ہیں

یار جس اسٹیٹ میں میں رہتا ہوں یہاں کا یہ بہت برا مثلا ہے مسلمانوں میں تو سوچا ک فورم ممبران کی راۓ لے لی جاے دوا کرو گالم گلوچ شرو نہ ہو جے
 

nomishah

Senator (1k+ posts)
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#

میرے خیال سے تو لڑکی کا ہونا لازمی ہے
گواہ تو مل ہی جاتے ہیں
us se zaida lazim larki ka maan jana hai
 

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
Announcement must hay nikah ki aur valima bhi basically aik announcement hi hoti hay so that people know that both are married
 
The person who has the power or choice of getting a boy or girl married is called a wali.
1. The first wali of a boy or girl is their father. If the father is not present, the grand-father becomes their wali. If he is not present, then the great grand-father. If none of them are present, the blood-brother becomes their wali. If he is not present, then the step-brother, i.e. brothers from one father. Thereafter, the nephew, thereafter the nephew's son; and thereafter, the nephew's grand-son. If none of them are present, the blood uncle becomes their wali. If he is not present, then the step-uncle, i.e. the step-brother of their father. Thereafter, the son of the blood uncle and thereafter his grand-son. Thereafter, the son of the step-uncle and thereafter his grand-son. If none of them are present, the father's uncle becomes their wali; and thereafter his children. If the father's uncle, his children and grand-children are not present; then the grand-father's uncle becomes their wali. Thereafter, his children, grand-children, and great grand-children.
If none of them are present, the mother will be their wali. Thereafter, the paternal grand-mother, then the maternal grand-mother and then the maternal grand-father. Thereafter, the blood-sister and then the step-sister, i.e. sisters from one father. Thereafter, the step-brother and then the step-sister who is from one mother. Thereafter, the paternal aunt, then the maternal uncle, and then the maternal aunt.
2. An immature person cannot become a wali of anyone. A kafir cannot be a wali for any Muslim, nor can a lunatic be a wali for anyone.
3. A mature girl has the choice to marry or not to marry. She can marry whomsoever she wishes - no one can force her to marry a particular person. If she marries a person on her own, the nikah will be valid irrespective of whether the wali is informed or not, and irrespective of whether the wali gives his consent or not. In all cases the nikah will be valid. However, if she does not marry a person who is of the same social standing as her, and instead, marries a person who is of a lower standing than her family, and her wali is not happy about this marriage, then the fatwa in this case is that the nikah will not be valid.
If she marries a person who is in the same social standing as her, but the mahr that she receives is less then what is normally fixed in her paternal grandfather’s family, then although the nikah will be valid, the wali will have the right to annul this marriage. The mahr that is normally fixed in her paternal grandfather’s family is known as mahrul mithl. The wali can go to a Muslim court and have such a marriage annulled. However, it should be borne in mind that this right of annulment is only possessed by all those walis whom we had mentioned before the mother. In other words, from the father onwards till the children of the grand-father's uncle.
4. A wali performed the nikah of a mature girl without asking her or without seeking her consent. The validity of such a nikah will be dependent on her permission and consent. If she grants her permission, the nikah will be valid. If she does not grant her permission or is not happy, the nikah will not be valid. The method of granting permission is mentioned in the next mas'ala.
5. The wali came and informed a young virgin girl that he intends performing her nikah with a certain person, or that he has already performed her nikah with a certain person. Upon hearing this, she remained silent, began smiling or began to cry. All these responses of her's will be considered to be a permission and a consent. Now, if the wali performs her nikah, it will be valid. If he has already performed it, it will also be valid. It is not a prerequisite for her to give a verbal permission. Those who force a girl in giving a verbal permission are in error.
6. At the time of seeking her permission, the wali did not mention the name of her future husband, nor did she have any prior knowledge of him. In such a case, her silence will not be considered to be a form of consent, nor will it be considered to be a form of granting permission. It is necessary to mention the boy's name or some other form of identification whereby the girl can understand that the wali is referring to a particular person. Similarly, if the wali performed the nikah without mentioning the amount of mahr to her and it was far less than the mahrul mithl, the nikah will not be valid without her permission. He will have to seek her permission again.
7. The girl is not a virgin, and instead had married previously and this is her second marriage. When the wali asks her or seeks her permission for this second marriage, her mere silence will not be considered to be a form of granting permission. Instead, she will have to give a verbal reply. If she does not give a verbal reply and remains silent, and despite this, the wali performs her nikah, then her nikah will be in abeyance. Later, if she gives a verbal permission, the nikah will be valid. If not, it will not be valid.
8. Despite the father being present, the uncle, brother or any other wali sought the permission of a virgin girl. If she remains silent, it will not be considered to be a form of granting permission. Only when she gives a verbal permission will it be considered. However, if the father sent these persons to seek her permission, her silence will be considered to be a form of consent. In short, the wali who is given the first preference in the Shari‘ah and who has the most right to seek permission from the girl - when he asks her or when someone who has been sent by him asks her, then only will her silence be considered to be a form of consent. If the grand-father had the right of asking her, and instead the brother asked her; or if the brother had the right of asking her and instead she was asked by her uncle, then in such a case her silence will not be considered to be a consent.
9. A wali performed the nikah of a girl without asking her and without obtaining her consent. After the nikah, the wali or his messenger came and informed the girl that her nikah with a particular person has been performed. In such a case, if she remains silent, this will be a permission on her part and the nikah will be valid. But if someone else comes and informs her, and this person is a pious, reliable person, or two persons come and inform her, then by her remaining silent the nikah will be valid. But if there is only one person who informs her and he is an unreliable person, then by her remaining silent the nikah will not be valid. Instead, it will be held in abeyance. When she gives a verbal reply or any other form of granting permission is found, then only will the nikah be valid.
10. Upon being informed of her nikah, the girl did not give a verbal reply although it was necessary for her to give a verbal reply. However, when her husband approached her she did not refuse him from engaging in sexual intercourse with her. Even in this case, the nikah will be valid.
11. The same rules apply to a mature boy, i.e. he cannot be forced into a marriage nor can the wali perform his nikah without his permission. If his nikah is performed without his permission, it's validity will be dependent on his permission. If he expresses his consent, his nikahwill be valid. If not, it will not be valid. However, it should be borne in mind that the boy's silence is not considered to be a form of granting permission. He will have to give a verbal reply.
12. If a boy or a girl is immature, they do not have their own choice. Their nikah is not valid without a wali. If a boy (or girl) performs his nikah on his own or someone else performs it, it will be dependent on the permission of the wali. If the wali grants permission, the nikahwill be valid. If not, it will not be valid. The wali has full rights over such a boy or girl. He can get them married to whoever he wishes and refuse whoever he wishes. Immature girls and immature boys cannot reject such a nikah at that time. This is irrespective of whether the girl is a virgin or had been married previously and had also been sent to her (first) husband's home - the same rule will apply.
13. If the father or grand-father perform the nikah of an immature girl or boy, they do not have the right to reject or repudiate this nikah even after they become mature. This is irrespective of whether the marriage was executed with a person who is of the same social standing or with a person of a lower class, and irrespective of whether the nikah was performed with mahrul mithl or whether it was far less than the mahrul mithl. In all cases the nikah will be valid and they cannot reject or repudiate this nikah.
14. If a wali other than the father or grand-father performed the nikah, and it was performed with a boy of the same social standing and the mahrul mithl was also given, then in such a case the nikah will be valid. However, after reaching the age of maturity, she has the right to endorse this nikah or to go and complain to a Muslim judge and have this marriage annulled.
But if the wali performed her marriage with a person of a lower social standing or accepted a mahr which was far less than the mahrul mithl, the nikah will not be valid from the very outset. Similarly, if the wali performed the nikah of a boy with a mahr which was far more than the mahrul mithl of the girl, the nikah will not be valid from the very outset.
15. A wali other than the father or grand-father had performed the nikah of an immature girl who also had knowledge of this nikah. Thereafter, she became mature and until then her husband hadn't had any sexual intercourse with her. In such a case, the moment she becomes mature, she must mention her discontent with regard to marrying this person. She must clearly state that she is not happy. Alternatively, she could say that she does not wish to continue with this marriage. This could be said in the presence of others or in privacy where she is all alone. But she has to mention it verbally. However, by her merely saying this, the nikah will not be annulled. She will have to go to a Muslim judge, he will annul the marriage, and only then will it be annulled.
Once she becomes mature and allows even a moment to pass in which she does not mention her discontent, she will not have the choice of having her nikah annulled.
But if the girl did not have any knowledge of this nikah and only learnt of it after becoming mature, then the moment she is informed, she will immediately have the right to reject the nikah. If she remains silent for even a moment, she will forfeit this right to reject the nikah.
16. If her husband engaged in sexual intercourse with her, and thereafter she becomes mature, it is not necessary for her to reject the nikah immediately after becoming mature or after being informed. Instead, as long as she does not express her consent and happiness, she will have the choice of rejecting or accepting irrespective of how much time lapses. However, if she clearly states that she is happy about this marriage, or her consent is made apparent in some other way such as being in solitude with her husband like any other normal husband and wife, then she will have no choice and this nikah will become entrenched.
17. The person who is most entitled of being the wali of an immature girl is gone to a foreign country. He is so far away that if the rest of the family had to await his arrival in order to consult him, the girl will lose this opportunity. Furthermore, the person who has come with the proposal is not prepared to wait for so long and it will be difficult for the girl to receive a similar proposal. In such a case, the person who is next in line to become her wali can also perform her nikah. If he performs the nikah without consulting the girl, it will be valid. But if the first wali is not very far away, her nikah should not be performed without consulting him. If it is performed, it will be dependent on his permission. Once he grants his permission, the nikah will be valid.
18. Similarly, if the second wali performs the nikah of an immature girl despite the most rightful wali being present, it will be dependent on his permission. For example, if the grand-father performs the nikah without consulting the father despite the latter being present, it will be dependent on the father's permission. If the right belonged to the brother but the nikah was performed by the uncle, it will be dependent on the brother's permission.
19. A woman became a lunatic and lost her sanity. She has a mature son and a father as well. If her nikah has to be performed, her wali will be her son because the son is more entitled of being a wali than the father (father of the woman).

 

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
عقد نکاح کے لیے گواہان ضروری ہیں، اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :


( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔ دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔


اورنکاح کی تاکید اوراعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :


( نکاح کااعلان کرو ) مسنداحمد ، صحیح الجامع میں اسے حسن قراردیا گيا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1072 ) ۔
 

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
Any reference from Quran ?
نبی کا نکاح
عقد نکاح کے لیے گواہان ضروری ہیں، اس لیے کہ
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :



( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔ دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔
 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
شعیہ دین میں نکاح کے لیے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور طلاق کے لئے گواہ ضروری
جبکہ مسلمانوں کے نزدیک نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا لازمی ہے اور طلاق کے لئے نہیں


اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف ادیان ہیں جن میں کوئی ایک عقیدہ بھی مشترک نہیں
 
Last edited:

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
عقد نکاح کے ارکان


اسلام میں عقدنکاح کے تین ارکان ہیں :
اول :

خاوند اوربیوی کی موجودگی جن میں مانع نکا ح نہ پایا جائے جوصحت نکاح میں مانع ہو مثلا نسب یا پھر رضاعت کی وجہ سے محرم وغیرہ ، اوراسی طرح مرد کافر ہو اورعورت مسلمان ہو ۔
دوم :

حصول ایجاب : ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کویہ کہے کہ میں نے تیری شادی فلاں لڑکی سے کردی یا اسی طرح کے کوئي اورالفاظ ۔

سوم :
حصول قبول : قبولیت کے الفاظ خاوند یا پھر اس کے قائم مقام سے ادا ہوں مثلا وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کچھ اور الفاظ ۔صحت نکاح کی شروط :اول :زوجین کی تعیین : چاہے یہ تعیین اشارہ یا نام یا پھر صفت بیان کرکے کی جائے ۔

دوم :خاوند اوربیوی کی دوسرے پر رضامندی :کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :( ایم کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ، اورکنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی ، صحابہ کرام کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اجازت ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4741 ) ۔حدیث میں ایم کا لفظ استعمال ہوا ہے ایم اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند سے اس کی موت یا پھر طلاق کی وجہ سے علیحدہ ہوچکی ہو ۔اورتستامر کا معنی ہے کہ اس سے اجازت کی جائے گی جس میں اس کی جانب سے صراحب ہونا ضروری ہے ، ۔اورکیف اذنھا : کا معنی ہے کہ کنواری کی اجازت کس طرح کیونکہ وہ تو شرماتی ہے ۔

سوم :عورت کا نکاح اس کا ولی کرے : کیونکہ اللہ تعالی نے عورت کے نکاح میں ولی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے :** اوراپنے میں سے بے نکاح عورتوں اورمردوں کا نکاح کردو ** ۔اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :( جس عورت نے بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کانکاح باطل ہے ) سنن ترمذی حديث نمبر ( 1021 ) اس کے علاوہ اورمحدیثین نے بھی اسے روایت کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے ۔چہارم :عقد نکاح کے لیے گواہ : اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔

دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔
اورنکاح کی تاکید اوراعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :( نکاح کااعلان کرو ) مسنداحمد ، صحیح الجامع میں اسے حسن قراردیا گيا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1072 ) ۔ولی بننے کی شروط :ولی میں مندرجہ ذيل شروط کا ہونا ضروری ہے :1 عقل ۔ یعنی عقلمند ہو بے وقوف ولی نہيں بن سکتا ۔2 بلوغت ۔ یعنی بالغ ہو بچہ نہ ہو3 حریہ : یعنی آزاد ہوغلام نہ ہو ۔4 دین ایک ہو ، اس لیے کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہيں ہوسکتی ، اور اسی طرح مسلمان کسی کافر یا کافرہ کا ولی نہيں بن سکتا ۔کافرمرد کو کافرہ عورت پر شادی کی ولایت مل سکتی ہے ، چاہے ان کا دین مختلف ہی ہو ، اوراسی طرح مرتد شخص کو بھی کسی پر ولایت نہیں حاصل ہوسکتی ۔5 عدالۃ : یعنی عادل ہونا چاہیے یہ عدل فسق کے منافی ہے ، جوبعض علماء کے ہاں تو شرط ہے اوربعض علماء ظاہری طور پر ہی عادل ہونا شرط لگاتے ہیں ، اورکچھ علماء کہتے ہیں کہ اتنا ہی کافی ہے کہ جس کی شادی کا ولی بن رہا ہے اس کی مصلحت حاصل ہونا ہی کافی ہے ۔6

ذکورۃ ۔ یعنی وہ مرد ہو ۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7298 ) ۔7 رشد ، ایسی قدرت جس سے نکاح کی مصلحت اورکفوکی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔فقھاء کرام کے ہاں تو تو ترتیب ضروری ہے اس لیے ولی کے نہ ہونے یا اس کی نااہلی کی بنا پر یا پھر اس میں شروط نہ پائے جانے ک صورت میں قریبی ولی کو چھوڑ کر دور والے کو ولی بنانا جائز نہیں ۔

عورت کا ولی اس کا والد ہے اس کے بعد جس کے بارہ میں وہ وصیت کرے ، پھر اس کا دادا ، پڑدادا اوراس کے اوپر تک ، پھر اس کے بعد عورت کا بیٹا ، اورپھر پوتا اوراس سے نيچے تک ، پھر اس کے بعد عورت کا سگا بھائی ، پھر والد کی طرف سے بھائي ، پھر ان دونوں کے بیٹے ، پھر عورت کا سگا چچا ، پھر والد کی طرف سے چچا ، پھر چچا کے بیٹے ، پھر نسب کے لحاظ کے سے قریبی شخص جو عصبہ ہو ولی بنے گا جس طرح کہ وراثت میں ہے ، اورپھر جس کا کوئي ولی نہيں اس کا ولی مسلمان حکمران یا پھر اس کا قائم مقام قاضی ولی بنے گا ۔واللہ اعلم .

 
Last edited by a moderator:

Ahud1

Chief Minister (5k+ posts)
شعیہ دین میں نکاح کے لیے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور طلاق کے لئے گواہ ضروری
جبکہ مسلمانوں کے نزدیک نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا لازمی ہے اور طلاق کے لئے نہیں


اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف ادیان ہیں جن میں کوئی ایک عقیدہ بھی مشترک نہیں

مندرجہ بالا تحریر میں سرے حوالے اہلسنت کے ہے ہی ہیں آپ موضوع کو اگے بڑھائیں جھگڑے کو نہی جزاک الله
 

samkhan

Chief Minister (5k+ posts)
یعنی لڑکی راضی ہو جائے تو فیس بک پر اپنی اور اسکی تصویر لگا دو کے شادی کر لی ہے. جان چھوٹی
 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
مندرجہ بالا تحریر میں سرے حوالے اہلسنت کے ہے ہی ہیں آپ موضوع کو اگے بڑھائیں جھگڑے کو نہی جزاک الله



یہ آپ کی تحریر سے اخذ کیا ہے ، اس میں کوئی جھگڑے کی کیا بات ہے
میں نے پہلے بھی کئی دفع کہا ہے کہ کسی بحث و تکرار کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے
آپ کے لیے آپ کا دین ، ہمارے لیے ہمارا دین
ہمارا دین بد کلامی اور فحش گوئی سے روکتا ہے ، اس لئے ہماری زبانیں مقابلے کا جواب دینے سے قاصر رہتی ہیں
 

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
Re: کیا اسلام میں نکاح کے لئے گواہان کا ہونا و&#

میرے خیال سے تو لڑکی کا ہونا لازمی ہے
گواہ تو مل ہی جاتے ہیں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر (
 

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
شعیہ دین میں نکاح کے لیے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور طلاق کے لئے گواہ ضروری
جبکہ مسلمانوں کے نزدیک نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا لازمی ہے اور طلاق کے لئے نہیں


اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف ادیان ہیں جن میں کوئی ایک عقیدہ بھی مشترک نہیں
یعنی نکاح خفیہ اور طلاق اعلانیہ،
میں نے شیعہ حضرات کی شادی میں دو دو قاضٰی دیکھے ہیں، ایک لڑکی کی طرف سے اور دوسرا لڑکے کی طرف سے،
میں نہیں سمجھتا کہ ان کے ہاں گواہ کے بغیر شادی ہوتی ہوگی
 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
،[/quote]
یعنی نکاح خفیہ اور طلاق اعلانیہ میں نے شیعہ حضرات کی شادی میں دو دو قاضٰی دیکھے ہیں، ایک لڑکی کی طرف سے اور دوسرا لڑکے کی طرف سے،
میں نہیں سمجھتا کہ ان کے ہاں گواہ کے بغیر شادی ہوتی ہوگی






اس تھریڈ کے محرر کے بقول


چنانچہ اصول یہ ہے کہ جہاں پارٹیوں کی رضامندی ہو وہاں پر بیرونی گواہوں کے تقرر کی ضرورت نہیں، مگر جب اختلافات کے باعث طلاق کا مسئلہ ہو تو پھر اہل تشیع فقہ کے مطابق واجب و لازم ہے کہ بیرونی طور پر دو گواہوں کو مقرر کیا جائے


یہ ان کا دین ہے ، ہم اور آپ کون ہوتے ہیں دوسروں کے دین میں دخل دینے والے
وہ جو چاہیں اور جیسے چاہیں کریں
خواہ وہ دن میں دو دو گھنٹے کے لیے تین تین نکاح کریں
 
Last edited:
Sponsored Link