نور مقدم کیس : عدالت کا تفتیشی و پوسٹ مارٹم ٹیم پر برہمی کا اظہار

isbhha.jpg

اسلام آباد میں قتل ہونے والی نور مقدم کے کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں پوسٹ مارٹم کرنے والے بھی کرپٹ اورنااہل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

دورن سماعت نور مقدم کے قاتل اور کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم کے متضاد موقف پرسوال اٹھایا اور موقف پیش کیا کہ نظرآرہا ہے کہ واردات سے قبل قتل کا باقاعدہ کوئی پلان نہیں تھا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قتل کیلئے پلان ہونا ضروری نہیں ہوتا، پتا نہیں پولیس کب سیکھے گی، اس کیس میں پولیس بنیادی چیزوں کو کیسےنظر انداز کرسکتی ہے،ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ یہ نااہلی کی انتہا ہے،سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیس میں 14 ملزمان بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ تھراپی ورکس کو ملزم بنانے کی لاجک اور منطق سمجھ سے باہر ہے۔

چیف جسٹس نے ناقص تفتیش اور پوسٹ مارٹم کرنےو الوں کے متضاد بیانات سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تو پوسٹ مارٹم کرنے والے بھی نااہل اور کرپٹ ہیں۔
 
Sponsored Link