نواز شریف پر ابوظہبی میں کیا گزری؟ - عرفان صدیقی

Geek

Chief Minister (5k+ posts)
Irfan-Siddiqui.jpg


ایک بار پھر مجھے مجرم قرار دیے گئے نوازشریف اور 8 سالہ قید بامشقت کی سزا وار مریم کے ہمراہ اسی ہیتھرو ائرپورٹ سے لاہور کی اڑان بھرنے کا موقع ملا۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے لندن میں تھا۔ روزانہ ہی ہارلے سٹریٹ ہسپتال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں نوازشریف اور ان کے بچے جمع ہوتے اور شام ڈھلنے تک وہیں رہتے۔ میں بھی کوئی گیارہ بجے وہاں پہنچ جاتا اور سہ پہر تک وہاں رہتا۔ ڈاکٹرز وقفے وقفے سے آتے یہ خبر دیتے کہ مصنوعی تنفس کا سہارا ضروری ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے بھی وینٹی لیٹر اتارنا مشکل ہورہا ہے۔ پھر دن میں ایک پھر دو اور پھر تین بار معمولی وقفے دے کر مریضہ کے اپنے نظام تنفس کو آزمایا گیا۔

میں ڈاکٹرز کی یہ رائے روز ہی سنتا کہ مریضہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ ایک دن سنجیدگی سے یہ موضوع زیربحث آیا کہ کب وطن واپس جانا چاہیے۔ مریم اپنی ماں سے بے پناہ محبت اور شدید وابستگی کے باوجود بضد تھی کہ کچھ بھی ہو، پاکستان جانا ضروری ہے۔ میں میاں صاحب کی جذباتی کیفیت کے باعث ان کی ذاتی اور قومی ذمہ داریوں میں توازن تلاش کرتا رہا۔ نصف صدی کی طویل رفاقت نوازشریف کے دل ودماغ میں دھیمی آنچ کی طرح سلگ رہی تھی۔ وہ یہ جملہ کئی بار دہراتے ”بس چاہتا ہوں کلثوم ہوش میں آجائے، ہمیں دیکھ لے، ہم سے دو باتیں کر لے“ لیکن اس دن گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں۔ واپسی کا فوری اعلان ناگزیر ہوچکا ہے۔

اسی دن 13جولائی کی تاریخ بھی طے پاگئی۔ اسی دن مریم نے اس کا اعلان بھی کردیا۔ 11جولائی کو نوازشریف اور مریم نے مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کے ایک انتہائی پرجوش مجمعے سے خطاب کیا اور کھل کر کہا کہ اب ریاست کے اندر ایک اور ریاست کا زمانہ گیا۔ اب ریاست سے بالاتر ایک ریاست وجود میں آگئی ہے، آخر کب تک حکومت کسی کی ہوگی اور حکمرانی کوئی اور کرے گا۔ 12جولائی کی شام روانگی کا دن تھا۔

بہت غوروخوض کے بعد فیصلہ ہوا تھا کہ اتحادائرلائن سے سفر کیا جائے کیونکہ اس کے لاہور پہنچنے کا وقت بہت مناسب تھا۔ خبرعام ہوتے ہی فلائٹ کی مانگ بڑھ گئی اور ٹکٹیں بلیک ہونے لگیں۔ 12 جولائی کو جب میں ہسپتال پہنچا تو باہر گیٹ پر مجھے صحافی دوستوں میں سے ایک نے لپک کر کہا ”مبارک ہو بیگم صاحبہ کو ہوش آ گیا۔ “ اس سے صرف ایک دن پہلے مریم نے تقریباً روتے ہوئے اپنی بہن اسما سے کہا تھا ”امی کو ہوش کیوں نہیں آ رہا، ڈاکٹر ایسے ہی روز تسلیاں دیتے ہیں۔ “ میں مخصوص کمرے میں پہنچا تو کسی چہرے پر خوشی کی وہ لہر نہ دیکھی جو اتتی بڑی خبر سے آنی چاہیے تھی۔ معلوم ہوا کہ بس انہوں نے تھوڑی دیر کو آنکھیں کھولی تھیں۔ کوئی بات نہیں کی۔ کسی بات کا کوئی تاثر بھی نہ دیا۔ البتہ آنکھیں کھولنے کو بھی ڈاکٹر بڑی پیش رفت خیال کر رہے تھے۔

شام کو ہوائی اڈے روانگی سے پہلے میاں صاحب بچوں کے ہمراہ بیگم صاحبہ کے کمرے میں گئے۔ بار بار انہیں پکارتے رہے اور پھر الوداعی سلام کرکے ساتھ دعائیں دیتے ہوئے باہر آ گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ مریم باقاعدہ رو رہی تھی۔ سب ایک دوسرے سے گلے لگ کے ملے۔ یہ دکھ سے چھلکتا ہوا منظر تھا۔ دو دن قبل جب میاں صاحب اپنے ملازم کو ہدایات دے رہے تھے کہ جیل کے لئے کون کون سی چیزیں پیک کرنی ہیں تو میں سوچ رہا تھا کہ سیاست بھی کیا کیا روپ رکھتی ہے۔ وزارت عظمیٰ کے بلند منصب سے ایک مجرم کے طور پر جیل کی کال کوٹھڑی کا سفر کتنی جلدی طے ہو جاتا ہے۔

ہسپتال سے ائرپورٹ جاتے ہوئے میں میاں صاحب کی گاڑی میں تھا۔ مریم پچھلی گاڑی میں آ رہی تھیں۔ انہوں نے فون ملا کر اپنے ذاتی ڈاکٹر سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب میری ساری دوائیاں رکھ لی ہیں نا، کم از کم ایک ماہ کی۔ ڈاکٹر نے جی ہاں کہا اور وہ مطمئن ہو گئے۔ ڈاکٹر ان کے ساتھ ہی سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے اس سے نیند کی ایک گولی مانگی، آدھی گولی میں نے بھی لی۔ صبح دم پتہ چلا کہ وہ سو نہیں پائے۔ میں بھی نیند کی گولی کے باوجود اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پا سکا کہ جہاز میں سو سکتا۔

طیارہ وقت کے عین مطابق صبح ساڑھے چھ بجے ابوظہبی اترا اور یہاں سے حیرتوں کا ایک باب شروع ہو گیا۔ حکم ہوا کہ ہم لوگ طیارے میں رہیں۔ سارے مسافر اترنے کے بعد ہمیں اجازت ملی۔ جہاز کے ساتھ تین چار گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سفید براق لمبی عباؤں والے اعلیٰ پروٹوکول افسران اور چاق و چوبند پولیس، میاں صاحب نے قدرے حیرت کا اظہار کیا میں نے بھی کہا کہ اس عزت افزائی کی تہہ میں جانے کیا بھید چھپا ہے۔

ہمیں انتہائی احترام کے ساتھ ایک انتہائی آراستہ پیراستہ مہمان خانے میں لایا گیا جس کے کئی مرصع اور مسجع کمرے تھے۔ کھجوروں اور گرم گرم قہوے سے تواضع کی گئی۔ میاں صاحب آرام کرنا چاہتے تھے۔ میزبانوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس لاؤنج میں آپ کسی کمرے میں آرام کر سکتے ہیں۔ ہم طرحدار میزبانوں کے ہمراہ فرسٹ کلاس لاؤنج پہنچ گئے کوئی کمرہ تو خالی نہ ملا لیکن یہاں قدرے زندگی کی چہل پہل تھی۔

ذرا دیر بعد گمان گزرا کہ شاید ہم پر خصوصی نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ مریم ذرا دیر کو لاؤنج سے باہر نکلیں تو سکیورٹی نے کہرام کھڑا کر دیا معلوم ہوا کہ ہم میں سے کسی کو دائیں بائیں جانا بھی ہے تو سکیورٹی ہمراہ جائے گی۔ درجنوں پاکستانی اور غیر ملکی صحافی بزنس لاؤنج میں سے بار بار رابطے کر رہے تھے۔ انہیں میاں صاحب سے ملنے کی جلدی تھی۔ انہیں بھی روک دیا گیا۔ عام قاعدے کے مطابق بزنس کلاس کا کوئی مسافر ایک سو ڈالر دے کر فرسٹ کلاس لاؤنج میں آ سکتا ہے لیکن اس دن یہ رعایت بھی ختم کر دی گئی اور کسی مسافر کو وہاں آنے کی اجازت نہ ملی۔

میں نے مذاقاً کہا۔ ”میاں صاحب لگتا ہے کہ ہم زیر حراست آ چکے ہیں۔ “ انہوں نے میرے خیال کی تائید کی۔ پروٹوکول کے انچارج کو بلا کر پوچھا۔ ”کیا ماجرا ہے۔ نہ ہم کہیں جا سکتے ہیں نہ کوئی یہاں آ سکتا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے۔ اس نے معصومیت سے کہا۔ ”بس سر! اوپر سے یہی حکم ہے۔ ہم اوپر کے حکم کی منطق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے سوچنے لگے۔ ”کیا ناصر الملک یا حسن عسکری اتنے ہی طاقتور ہو گئے ہیں؟“ ان کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب پتہ چلا کہ ہماری فلائٹ میں کوئی دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی ہے۔ اس کے بعد افواہوں، واہموں اور خدشوں کی آندھی چلی اور دیر تک چلتی ہی رہی۔ (جاری ہے)۔
بشکریہ نوائے وقت۔


http://www.humsub.com.pk/149687/irfan-siddiqui-2/
 

Raja Farooq

Senator (1k+ posts)
Iss ko by nab y fia ko investigate krna chahyy iss nyy by 5 saal khoob haram akhtha kia hyy inny begairat darbarion ny noory ko tunnn dia hyy ab sara blame army easy escape
 

Will_Bite

Prime Minister (20k+ posts)
Nice sob story well suited for a star plus show.

Did nawaz or maryam ever say anything about the source of funds for the flats?
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Wese 30 saal say hukumat main rehnay k baad bhi agar yeh aesa hospital na bana sakay jahan par inkay Nazlay zukam ka ilaj ho sakay toh shayad yeh log is say ziada k mustahiq hai..
 

free_man

MPA (400+ posts)
جن کا مال لوٹ کر میان صاحب باہر لے گئے اور ان کی مائیں بغیر اعلاج کی مر گئیں. صدیقی صاحب کبھی ان کے لیے بھی سیاہی کے چند قطرے ضائع کر دیتے. مگر کیا کیجئے پیٹ کی آگ جو ٹھنڈی کرنا ہے
 

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
نواز کا ماتم بہت ہو گیا- اب وہ جیل میں رہنے کی عادت ڈالے اور اگلے مقدمات کی تیاری کرے،اگر وقت ملے تو سوچے کہ کیسے چھوٹا بھای اور چوری کھانے والے مجنوں سرِ بازار دھوکہ دے گئےــ
ملک معاشی،دفاعی اور معاشرتی مسائل میں گھرا ہوا ہے- جو بگاڑ نواز پیدا کر گیا پاکستانی قوم اسے بھگت رہی ہے مگر اب قوم کو اگلے الیکشن اور آنے والے مسائل کے حل کے بارے میں با ت کرنے دیںــ- عرفان صاحب آپ کی تقریروں کا فتنہ بہت ہوا ، خدارا رحم کھایں اورا اس مظلوم قوم کو اب بخش دیں ـــ
 

Onlypakistan

Chief Minister (5k+ posts)
YE BIKAU SAHAFI AB BAHIR BAITH KER APNEY AQA K QASEEDEY LIKHA KERAEY GA .
PICHLEY. 5 SAL KA IS SAE BI HISAB LENA CHAEYE ,QASMI CHOR KI TARA IS NAE KIYA LOOTA HA.
 

Mojo-jojo

Minister (2k+ posts)
نواز کا ماتم بہت ہو گیا- اب وہ جیل میں رہنے کی عادت ڈالے اور اگلے مقدمات کی تیاری کرے،اگر وقت ملے تو سوچے کہ کیسے چھوٹا بھای اور چوری کھانے والے مجنوں سرِ بازار دھوکہ دے گئےــ
ملک معاشی،دفاعی اور معاشرتی مسائل میں گھرا ہوا ہے- جو بگاڑ نواز پیدا کر گیا پاکستانی قوم اسے بھگت رہی ہے مگر اب قوم کو اگلے الیکشن اور آنے والے مسائل کے حل کے بارے میں با ت کرنے دیںــ- عرفان صاحب آپ کی تقریروں کا فتنہ بہت ہوا ، خدارا رحم کھایں اورا اس مظلوم قوم کو اب بخش دیں ـــ
آپ کو عرفان صدیقی جیسے لوگوں کے غم کا صحیح اندازہ نہیں آج ان جیسے بہت سے لوگ اب بے روزگاری سےخوفزدہ ہیں
 

wamufti

Senator (1k+ posts)
Is jesa Nasli ghulam bhi mushkil se hi nazar aata he.

Jao kissi retired / pension per guzara kerne wale bande se poocho jis ne sari umer be-emaani nahi ki. Kaise hota he guzara uska. Mahana pension me Ik sufaid posh
House rent, khana peena, bills kaise pay kerta he? Allah sharam parda rakhne wala he. Ghareeb dua kerta he Ya-Allah koi sasti bemaari ho. Mehnga ilaj nahi kerwa sakta. Beemari lambi ho jai aur ilaj mehnga ho tu dua kerna he YaAllah ya tu shifa de de ya qabool ferma le.

Is jaise nasli ghulam ko kia malum family ties aur preshani kia hoti he.
 

ILUIK

MPA (400+ posts)
Lo JI KAR LO GAL.
This irfan siddiqui idiot will now keep on writing columns and articles on daily basis
to gather sympathy vote for nawaz and maryam.


ALLAH ka khauf nahi in jhotton ko.
 

NCP123

Minister (2k+ posts)
Irfan-Siddiqui.jpg


ایک بار پھر مجھے مجرم قرار دیے گئے نوازشریف اور 8 سالہ قید بامشقت کی سزا وار مریم کے ہمراہ اسی ہیتھرو ائرپورٹ سے لاہور کی اڑان بھرنے کا موقع ملا۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے لندن میں تھا۔ روزانہ ہی ہارلے سٹریٹ ہسپتال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں نوازشریف اور ان کے بچے جمع ہوتے اور شام ڈھلنے تک وہیں رہتے۔ میں بھی کوئی گیارہ بجے وہاں پہنچ جاتا اور سہ پہر تک وہاں رہتا۔ ڈاکٹرز وقفے وقفے سے آتے یہ خبر دیتے کہ مصنوعی تنفس کا سہارا ضروری ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے بھی وینٹی لیٹر اتارنا مشکل ہورہا ہے۔ پھر دن میں ایک پھر دو اور پھر تین بار معمولی وقفے دے کر مریضہ کے اپنے نظام تنفس کو آزمایا گیا۔

میں ڈاکٹرز کی یہ رائے روز ہی سنتا کہ مریضہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ ایک دن سنجیدگی سے یہ موضوع زیربحث آیا کہ کب وطن واپس جانا چاہیے۔ مریم اپنی ماں سے بے پناہ محبت اور شدید وابستگی کے باوجود بضد تھی کہ کچھ بھی ہو، پاکستان جانا ضروری ہے۔ میں میاں صاحب کی جذباتی کیفیت کے باعث ان کی ذاتی اور قومی ذمہ داریوں میں توازن تلاش کرتا رہا۔ نصف صدی کی طویل رفاقت نوازشریف کے دل ودماغ میں دھیمی آنچ کی طرح سلگ رہی تھی۔ وہ یہ جملہ کئی بار دہراتے ”بس چاہتا ہوں کلثوم ہوش میں آجائے، ہمیں دیکھ لے، ہم سے دو باتیں کر لے“ لیکن اس دن گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں۔ واپسی کا فوری اعلان ناگزیر ہوچکا ہے۔

اسی دن 13جولائی کی تاریخ بھی طے پاگئی۔ اسی دن مریم نے اس کا اعلان بھی کردیا۔ 11جولائی کو نوازشریف اور مریم نے مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کے ایک انتہائی پرجوش مجمعے سے خطاب کیا اور کھل کر کہا کہ اب ریاست کے اندر ایک اور ریاست کا زمانہ گیا۔ اب ریاست سے بالاتر ایک ریاست وجود میں آگئی ہے، آخر کب تک حکومت کسی کی ہوگی اور حکمرانی کوئی اور کرے گا۔ 12جولائی کی شام روانگی کا دن تھا۔

بہت غوروخوض کے بعد فیصلہ ہوا تھا کہ اتحادائرلائن سے سفر کیا جائے کیونکہ اس کے لاہور پہنچنے کا وقت بہت مناسب تھا۔ خبرعام ہوتے ہی فلائٹ کی مانگ بڑھ گئی اور ٹکٹیں بلیک ہونے لگیں۔ 12 جولائی کو جب میں ہسپتال پہنچا تو باہر گیٹ پر مجھے صحافی دوستوں میں سے ایک نے لپک کر کہا ”مبارک ہو بیگم صاحبہ کو ہوش آ گیا۔ “ اس سے صرف ایک دن پہلے مریم نے تقریباً روتے ہوئے اپنی بہن اسما سے کہا تھا ”امی کو ہوش کیوں نہیں آ رہا، ڈاکٹر ایسے ہی روز تسلیاں دیتے ہیں۔ “ میں مخصوص کمرے میں پہنچا تو کسی چہرے پر خوشی کی وہ لہر نہ دیکھی جو اتتی بڑی خبر سے آنی چاہیے تھی۔ معلوم ہوا کہ بس انہوں نے تھوڑی دیر کو آنکھیں کھولی تھیں۔ کوئی بات نہیں کی۔ کسی بات کا کوئی تاثر بھی نہ دیا۔ البتہ آنکھیں کھولنے کو بھی ڈاکٹر بڑی پیش رفت خیال کر رہے تھے۔

شام کو ہوائی اڈے روانگی سے پہلے میاں صاحب بچوں کے ہمراہ بیگم صاحبہ کے کمرے میں گئے۔ بار بار انہیں پکارتے رہے اور پھر الوداعی سلام کرکے ساتھ دعائیں دیتے ہوئے باہر آ گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ مریم باقاعدہ رو رہی تھی۔ سب ایک دوسرے سے گلے لگ کے ملے۔ یہ دکھ سے چھلکتا ہوا منظر تھا۔ دو دن قبل جب میاں صاحب اپنے ملازم کو ہدایات دے رہے تھے کہ جیل کے لئے کون کون سی چیزیں پیک کرنی ہیں تو میں سوچ رہا تھا کہ سیاست بھی کیا کیا روپ رکھتی ہے۔ وزارت عظمیٰ کے بلند منصب سے ایک مجرم کے طور پر جیل کی کال کوٹھڑی کا سفر کتنی جلدی طے ہو جاتا ہے۔

ہسپتال سے ائرپورٹ جاتے ہوئے میں میاں صاحب کی گاڑی میں تھا۔ مریم پچھلی گاڑی میں آ رہی تھیں۔ انہوں نے فون ملا کر اپنے ذاتی ڈاکٹر سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب میری ساری دوائیاں رکھ لی ہیں نا، کم از کم ایک ماہ کی۔ ڈاکٹر نے جی ہاں کہا اور وہ مطمئن ہو گئے۔ ڈاکٹر ان کے ساتھ ہی سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے اس سے نیند کی ایک گولی مانگی، آدھی گولی میں نے بھی لی۔ صبح دم پتہ چلا کہ وہ سو نہیں پائے۔ میں بھی نیند کی گولی کے باوجود اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پا سکا کہ جہاز میں سو سکتا۔

طیارہ وقت کے عین مطابق صبح ساڑھے چھ بجے ابوظہبی اترا اور یہاں سے حیرتوں کا ایک باب شروع ہو گیا۔ حکم ہوا کہ ہم لوگ طیارے میں رہیں۔ سارے مسافر اترنے کے بعد ہمیں اجازت ملی۔ جہاز کے ساتھ تین چار گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سفید براق لمبی عباؤں والے اعلیٰ پروٹوکول افسران اور چاق و چوبند پولیس، میاں صاحب نے قدرے حیرت کا اظہار کیا میں نے بھی کہا کہ اس عزت افزائی کی تہہ میں جانے کیا بھید چھپا ہے۔

ہمیں انتہائی احترام کے ساتھ ایک انتہائی آراستہ پیراستہ مہمان خانے میں لایا گیا جس کے کئی مرصع اور مسجع کمرے تھے۔ کھجوروں اور گرم گرم قہوے سے تواضع کی گئی۔ میاں صاحب آرام کرنا چاہتے تھے۔ میزبانوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس لاؤنج میں آپ کسی کمرے میں آرام کر سکتے ہیں۔ ہم طرحدار میزبانوں کے ہمراہ فرسٹ کلاس لاؤنج پہنچ گئے کوئی کمرہ تو خالی نہ ملا لیکن یہاں قدرے زندگی کی چہل پہل تھی۔

ذرا دیر بعد گمان گزرا کہ شاید ہم پر خصوصی نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ مریم ذرا دیر کو لاؤنج سے باہر نکلیں تو سکیورٹی نے کہرام کھڑا کر دیا معلوم ہوا کہ ہم میں سے کسی کو دائیں بائیں جانا بھی ہے تو سکیورٹی ہمراہ جائے گی۔ درجنوں پاکستانی اور غیر ملکی صحافی بزنس لاؤنج میں سے بار بار رابطے کر رہے تھے۔ انہیں میاں صاحب سے ملنے کی جلدی تھی۔ انہیں بھی روک دیا گیا۔ عام قاعدے کے مطابق بزنس کلاس کا کوئی مسافر ایک سو ڈالر دے کر فرسٹ کلاس لاؤنج میں آ سکتا ہے لیکن اس دن یہ رعایت بھی ختم کر دی گئی اور کسی مسافر کو وہاں آنے کی اجازت نہ ملی۔

میں نے مذاقاً کہا۔ ”میاں صاحب لگتا ہے کہ ہم زیر حراست آ چکے ہیں۔ “ انہوں نے میرے خیال کی تائید کی۔ پروٹوکول کے انچارج کو بلا کر پوچھا۔ ”کیا ماجرا ہے۔ نہ ہم کہیں جا سکتے ہیں نہ کوئی یہاں آ سکتا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے۔ اس نے معصومیت سے کہا۔ ”بس سر! اوپر سے یہی حکم ہے۔ ہم اوپر کے حکم کی منطق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے سوچنے لگے۔ ”کیا ناصر الملک یا حسن عسکری اتنے ہی طاقتور ہو گئے ہیں؟“ ان کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب پتہ چلا کہ ہماری فلائٹ میں کوئی دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی ہے۔ اس کے بعد افواہوں، واہموں اور خدشوں کی آندھی چلی اور دیر تک چلتی ہی رہی۔ (جاری ہے)۔
بشکریہ نوائے وقت۔


http://www.humsub.com.pk/149687/irfan-siddiqui-2/
yahii tu wu hey jis ney NS ku merwa deya.....ye eik Journalist thaaaa aur ye London men kaise rehta raha hey es ka Ehtisab bhi houna chaheye....bilk ye sub journalista ka ehtisab hounaa chaheye............ye ub apni wafadari dekha raha hey......
 

Citizen X

(50k+ posts) بابائے فورم
And then here the proper version of events that took place from Dr Shahid Masood who was also there in Abu Dhabi, that he received no special protocol, Since he had booked a first class ticket he was allowed to use the first class lounge, like any other normal passenger, after hearing of Dr Darbardoos's presence the only thing the airport staff agreed to of Ganju Shareef was not to let any Pakistanis into the First Class Lounge and the whole plan of doing sad planted whatsapp interviews from the lounge went to hell.
 

Piscian

Voter (50+ posts)
Iss harami ne Kulsoom nawaz ko bhi hosh aaty hi parchi pakra deeni thi...evil mind behind all their moves of image building to gain public sympathies....khuda ki laanat ho aisy zameer firosh sahafioon per !!!!