نواز شریف اور مریم نے دوسروں کو آزمائش میں ڈال دیا

Awan-1

Minister (2k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔

نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
 
Last edited by a moderator:

Two Stooges

Chief Minister (5k+ posts)
بد بُودار تِلوری پٹواری بابا، پھر یہ سب کیا ہے ؟؟ رونا دھونانہیں ؟؟؟
36569301_1382095901893397_6073013366324985856_n.jpg
 

Pakistan2017

Chief Minister (5k+ posts)
اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔

راستہ چنا نہیں مجبورن آنا پڑا
ورنہ
انٹرپول کے ذریعے کتوں کی طرح گھسیٹ کر لایا جاتا
 

Pakistan2017

Chief Minister (5k+ posts)
گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی

. لخ لعنت اس بےضمیر ماں بہن کو بیچنے والے صحافی انصار عباسی پر
: یہ دیکھیں ان منحوس چوروں کی شکلوں پر نحوست اور نجاست


 

mian_ssg

MPA (400+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
Abbasi sb, I thought you are a reasonable person. Both of them are convicted persons. They produced zero evidence to prove the money trail of their properties in UK. You are an educated person and know the law of Pakistan as well. Don't talk like an ignorant Pakistani. NS is a public office holder and is responsible to provide the money trail of his dependents that include his sons, daughter, wife and mother.
NS is no more head of any political party and he can't hold any public office in Pakistan for life. Educate the innocent Pakistanies that they are not supposed to welcome a corrupt and convicted person. In a society with ethics, even a father distances from his son if proven guilty. What are you talking about?
They have their human rights but that does not include the persmission to malign the national institutes, lecturing the nation and creating law and order problems.
 

Educationist

Chief Minister (5k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
is kuttay ko is k bhervo smait phansi do
tu jtni chahy bherva girri kr ly, is kuttay ko ab phansi lgna hy
rok sko to rok lo
 

Educationist

Chief Minister (5k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
agr tra hrami bhagwan sucha hy to ye kutta Raseedy Q nhe dekhta ??
is ne paisa kha se kmaya ??
is ne kmaya hua psa mulk se bahir ksy bheja ??
is hramzady k bachy 1992 me pooray 20 saal k bhi nhe thy or wo kuttay bachy Karoro pti ban gye ??
London Property ksy khreedi gyee ??
or noon league hmesha kehti rhe hy k Pakistan ke Economy Boost kr gye or jb adalat hazri ke bari ayee to hrami Ishaq Dar London ja kr beemari ka drama rachany lg pra. agr ye zaleeel kuttta sucha hota to foren Adalat jata, tm log sb hrami ho, tm log na sirf Mulk k Dushman ho balky Islam k bhi dushman ho.
try dsy kutttay na sirf Ghddar hy balky Kaafir bhi ho
 

Educationist

Chief Minister (5k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
tra najaiz baap 90 me benazir k khilaf ksi ksi zaleel herkty krta rha, uske nengi tasveery logo me bant-ta rha, or jb us ke apni bad chalen beti ke bari aye to kuttay ko dukh ho rha hy k qom ke beti k sat kya kiya ja rha hy ............. kya benazir qom ke beti nhe thee ??
tm logo ko to qatal kr dena chahiyee, hramzado
 

Educationist

Chief Minister (5k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
لندن(24نیوز) پاکستان کی ملکیت قراردیئے جانے والے ایون فیلڈ فلیٹس جلد سے جلد بیچنے کی تیاری کرلی گئی،پراپرٹی ڈیلروں کی آمدورفت بڑھ گئی۔ تفصیلات کے مطابق لندن میں شریف خاندان کی متنازعہ پراپرٹی ایون فیلڈ فلیٹس بیچنے کی تیاری کرلی گٗی۔کل تک جو اس کی ملکیت سے انکاری تھے اب وہ پراپرٹی ڈیلروں کو کہہ رہے ہیں اسے جلد سے جلد بیچ دو یا کراٗئے پر چڑھا دو۔ یہ وہی ایون فلیڈ فلیٹس ہیں جن کی وجہ سے نواز شریف کو دس برس اور مریم نواز کو سات برس قید بامشقت ہوئی ہے۔ کورٹ نے حکومت کو کہا ہے انہیں ضبط کرلے یہ پاکستان کی جائیداد ہے۔ یہ بھی ضرورپڑھیں۔۔۔شہباز شریف کی وارننگ، پنجاب پولیس نے ہار مان لی دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی برطانوی حکومت سے کہا کہ وہ ان فلیٹس کی ضبطگی کیلے مدد فراہم کرے مگر اب تک اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی، پتا نہیں ہوگی بھی یا نہیں۔ فلیٹس کسی بھی وقت بک سکتے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلروں کا فلیٹ میں آنا جانا بڑھ گیا ہے۔
 

Educationist

Chief Minister (5k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
37082420_1772143229529255_6993596867003023360_n.jpg


 

Rambler

Chief Minister (5k+ posts)
Ansar Abbasi: The name says it all. He has the unique honour of being pimp of the pimps. Just keep this father daughter imbecile duo with ordinary prisoners for a week and they will be begging for mercy.

The problem is that even our jails have 'classes' and VIP medical facilities. Jail is for punishing people not a spiritual resort to spend holidays. All criminals should be kept together and have exactly the same facilities.
 

nomy823

MPA (400+ posts)
نگران حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے وہ کس طرح ایک مجرم کے استقبال کی اجازت دے سکتی تھی۔ انصار عباسی تم کیا چاہتے تھے کہ ایک مجرم اپنے جتھے کو لے کر لاہور کی سڑکوں پہ گھومتا رہتا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے پیچھے پیچھے منت ترلے کررہے ہوتے کہ مجرم صاحب خدا کا واستہ گرفتاری دے دو۔ تو پھر پاکستان کا کیا امیج ہوتا پوری دنیا میں؟
 

NCP123

Minister (2k+ posts)
341293_2340903_updates.jpg

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی) نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نے سیاست میں اپنی بقا کا دشوار گزار راستہ چنا ہے۔ لیکن جواب میں انہوں نے دیگر کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ نگراں چاہے پنجاب میں ہوں یا وفاق میں ان کی پہلی آزمائش گزشتہ جمعہ کو ہوئی جب نواز شریف اور مریم وطن واپس آکر گرفتار ہوئے اور جیل پہنچا دئیے گئے۔ گو کہ باپ اور بیٹی افسر دہ تھے لیکن وہ مسکراتے اور پرسکون دکھائی دئیے۔ چہروں سے کوئی تشویش یا پریشانی ظاہر ہونے نہیں دی۔دوسری جانب نگراں بوکھلائے نظر آئے۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری اپنی اچھی شہرت کے باوجود وہ جس بات کا زندگی بھر پرچار کرتے رہے۔ اس کے برخلاف عمل کرتے دکھائی دئیے ایک مخصوص پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈائون پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز سابق چیف جسٹس اور پروفیسر کے ماضی میں کہے کے خلاف تھی۔ جو بنیادی حقوق، جمہوریت اور فئیر پلے کے بارے میں وہ کہتے رہے ہیں۔ ان کے کچھ وزرا نے زیادہ مایوس کیا۔ کسی ایک وزیر نے بھی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ جو پہلے ہی اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ اقتدار کے

ایوانوں میں کئی کرداروں کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ قومی میڈیا میں آزاد آواز کو دبادیا گیا۔ اس طرح لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے شو کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ سینئر اینکر پرسنز نے اپنے پروگرام اور انٹرویوز (نواز شریف) کو سنسر کئے جانے کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا ہی معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ متعدد آزاد آوازوں نے نگرانوں خصوصی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے۔ اکثر کی نظروں میں انہوں نے اپنی وقعت کھودی ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نگرانوں کے رویوں سے اس قدر دل شکستہ ہیں کہ انہوں نے نگراں نظام کو بری طرح ناکام قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلد ہو، اس نظام کو لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ دانشوروں اور اہل علم کے ایک گروپ نے پروفیسر عسکری کے نام ایک خط میں بدترین تشدد آمیز اقدامات شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو دھمکیوں، ہراساں اور بلیک میل کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اگر آپ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بناسکتے تو اپنے منصب چھوڑ دیں۔

ان معاملات پر نگراں وزیر اعظم کی خاموشی پر ایک سینئر بیورو کریٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جسٹس (ر) ناصر الملک نگراں وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے آئین کے دفاع اور اسے بالا تر رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن لگتا ہے وہ وزیر اعظم ہائوس ہی کے نگراں ہیں۔ غیر جانبداری اور اپنی منصفانہ حیثیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکامی پر جہاں نگراں سوشل میڈیا پر ہدف تنقید ہیں وہیں الیکشن کمیشن کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے طاقت ور بنانے کی سعی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں لیکن اپنی پہلی ہی آزمائش 2018کے عام انتخابات کے لیے اپنی آزاد اور طاقت ور حیثیت باور کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے۔ میڈیا ہی کے دبائو پر الیکشن کمیشن نے نیب کو انتخابات میں فریق بننے سے روکا۔ اب تمام تر نگاہیں اعلیٰ عدلیہ پر مرکوز ہیں۔ جو نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ وہ جو قانون کو جانتے اور عدالتی کارروائی سے واقف ہیں، ان کے خیال میں احتساب عدالت کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا اور کہا کہ سزا کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہےہیں ۔ فوجی ترجمان اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں ۔ لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جس میں کسی سیاسی رہنما اور جماعت کو نشانہ نہ بنایا جائے


https://jang.com.pk/news/521138
Bhai jee....ye choor hein...Saza yafta hein.......Martial law ne saza nahi dii......ye civil courts ne de..........ye NAB NS ne banayia thaa........es ku 2.5 saal deye geye ke court mein sahi sahii bataa doo.....lekin wu samjhat raha ye sub mazaaq hey....ye kaam tu bohat pehley hu jana chaeye thaaa....courts ne delay keya aur es ku bohat time deya.....ye rouna dhona chorooo....es baar first time PMLn apney zoor e bazoo per election mein gai hey aur 35 saal hakumat kerne ke bawjood bohat preshaan hey .........agar PMLn naa jetey tu dhandliiii....wah wah......
بد بُودار تِلوری پٹواری بابا، پھر یہ سب کیا ہے ؟؟ رونا دھونانہیں ؟؟؟
36569301_1382095901893397_6073013366324985856_n.jpg
achaa jee......awam ke bhi buniyadi haqooq hein wu tery baap ne khaa ker tujhey Avnefield mein property le ker di.......aaja baap ke saath.......ye tu Pakistan hey shukar ker yaha Jail mein bhi darjaa bundii hey...werna UK mein tukhey sub eik jail mein rakhtey hein...aur wahan tum khush hu ker rehtey hu.......wu jail mein hey terii NAANi ke ghar nahi geya........
 

MSUMAIRZ

MPA (400+ posts)
. لخ لعنت اس بےضمیر ماں بہن کو بیچنے والے صحافی انصار عباسی پر
: یہ دیکھیں ان منحوس چوروں کی شکلوں پر نحوست اور نجاست


Even in the aircraft people were chanting GO NAWAZ GO. Their faces tell that they have lost it.
 
Sponsored Link