نقصان میں چلنے والے اداروں کا خسارہ 905 ارب تک پہنچ گیا

1hakoomtikhasara.png

حکومت کے نقصان میں چلنے والے اداروں کے خسارے کا حجم 905 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاق کے ملکیتی ریاستی اداروں کے مالی نقصانات کے حوالے سے رپورٹ سامنے آگئی ہے، رپورٹ کے مطابق ان اداروں کے خساروں کا حجم 905 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2022-23کے دوران وفاقی ریاستی ملکیتی اداروں کے مالی نقصانات میں 23 فیصد اضافہ ہوا، توانائی کے شعبے میں نقصانات 304 ارب تک پہنچ گئے جبکہ حکومت نے توانائی سمیت دیگر کئی اداروں کو 1021 ارب روپے کی مالی امداد بھی دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 10 سال کے دوران پاک ریلویز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نقصانات 5 ہزار 595 ارب سے تجاوز کرگئے ہیں جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت توانائی کے شعبے پر 759 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق گردشی قرضہ خسارے کی وجہ سے 4 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔

سرکاری اداروں کے اثاثوں کی بک ویلیو 35 ہزار 218 ارب روپے رہی جبکہ سرکاری اداروں کے ذمہ واجبات میں 20 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 29 ہزار 721 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، گزشتہ مالی سال کے دوران کچھ اداروں نے703 ارب کا منافع بھی کمایا ہے جس کے بعد حکومت کے نیٹ نقصانات 202 ارب روپے کے سطح پر آگئے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1805675176606237033
 
Last edited by a moderator:

Nazimshah

Senator (1k+ posts)
تفصیلات کے مطابق وفاق کے ملکیتی ریاستی اداروں کے مالی نقصانات کے حوالے سے رپورٹ سامنے آگئی ہے، رپورٹ
Means jo wafaq chala raha hai wakhi responsible hai na ki idarai
 

Munawarkhan

Chief Minister (5k+ posts)
An ideal way would be to increase sales tax from 18% to 20 or even 25%

mulk bachanay kay liyay mushkil faislay kernay paraingay


1hakoomtikhasara.png

حکومت کے نقصان میں چلنے والے اداروں کے خسارے کا حجم 905 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاق کے ملکیتی ریاستی اداروں کے مالی نقصانات کے حوالے سے رپورٹ سامنے آگئی ہے، رپورٹ کے مطابق ان اداروں کے خساروں کا حجم 905 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2022-23کے دوران وفاقی ریاستی ملکیتی اداروں کے مالی نقصانات میں 23 فیصد اضافہ ہوا، توانائی کے شعبے میں نقصانات 304 ارب تک پہنچ گئے جبکہ حکومت نے توانائی سمیت دیگر کئی اداروں کو 1021 ارب روپے کی مالی امداد بھی دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 10 سال کے دوران پاک ریلویز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نقصانات 5 ہزار 595 ارب سے تجاوز کرگئے ہیں جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت توانائی کے شعبے پر 759 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق گردشی قرضہ خسارے کی وجہ سے 4 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔

سرکاری اداروں کے اثاثوں کی بک ویلیو 35 ہزار 218 ارب روپے رہی جبکہ سرکاری اداروں کے ذمہ واجبات میں 20 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 29 ہزار 721 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، گزشتہ مالی سال کے دوران کچھ اداروں نے703 ارب کا منافع بھی کمایا ہے جس کے بعد حکومت کے نیٹ نقصانات 202 ارب روپے کے سطح پر آگئے ہیں۔
 

Melanthus

Chief Minister (5k+ posts)
PPP and PMLN are responsible for destroying PIA,Steel Mills,railways and many other state owned companies.Corruption,incompetence,staff recruitment(on political basis) and political interference destroyed enterprises which used to be profitable.
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
mushkil faislay hain.
mulk bachana hai.
jis ko acha lagta hai rahay warna kisi aur mulk ja ker business kerlay
Well business cannot survive in that high GST therefore Businesses close-down will have more loss in overall GST collections.